خواتین کی ڈرائیونگ

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
جب ایک خاتون پہلی مرتبہ موٹر وے پر اکیلے ڈرائیونگ کرنے نکلیں تو اچانک خاوند کا فون آگیا۔
خاوند نے پریشان لہجے میں دریافت کیا:- بیگم کہاں ہو تم اس وقت...؟
بیگم :- موٹر وے پر ڈرائیو کر رہی ہوں۔
خاوند نے بدستور پریشان ہوتے ہوئے کہا:-
بیگم! ذرا دیکھ بھال کر گاڑی چلانا ، ٹی وی چینل پر خبر آرہی ہے کہ کوئی بے وقوف یک طرفہ موٹر وے پر ٹریفک کی مخالف سمت میں تیزی سے گاڑی چلائے جا رہا ہے۔
تو بیگم تقریباً چلاتے ہوئے:- ارے کوئی ایک بےوقوف...؟
یہ کمبخت تو سینکڑوں کی تعداد میں سامنے سے چلے آرہے ہیں...!
1f602.png
1f602.png
 

کعنان

محفلین
السلام علیکم

خواہ تین ہو یا چار ہوں بہت اچھی طرح ڈرائیونگ کرتی ہیں کیوں مزاق اڑایا جارہا ہے
یورپ میں تو پوری آزادی ہے

وجہ! یہاں ڈرائیونگ کے لئے ڈرائیونگ لائسنس کی ضرورت ہوتی ہے جس پر ٹریننگ حاصل کرنی پڑتی ہے، ٹیسٹ پاس ہونے کے بعد لائسنس ملتا ہے اور ڈرائیونگ کے لئے کار کو انشورڈ بھی کراوایا جاتا ہے، اس لئے یہاں خواتین کی ڈرائیونگ ٹھیک ہوتی ہے۔

ڈرائیونگ میں 4 مینوؤر ہوتے ہیں، ریورس/ پیرلل پارکنگ، سائیڈ پارکنگ، کارنر پارکنگ، تھری ٹرننک، ٹیسٹ کے دوران کوئی بھی 2 یا 3 کروائے جاتے ہیں۔

پاکستان میں زیادہ تر گھر کے افراد ہی اپنی خواتین کو ڈرائیونگ سیکھاتے ہیں اس لئے وہاں مشکل ہو سکتی ہے۔

والسلام
 
جب ایک خاتون پہلی مرتبہ موٹر وے پر اکیلے ڈرائیونگ کرنے نکلیں تو اچانک خاوند کا فون آگیا۔
خاوند نے پریشان لہجے میں دریافت کیا:- بیگم کہاں ہو تم اس وقت...؟
بیگم :- موٹر وے پر ڈرائیو کر رہی ہوں۔
خاوند نے بدستور پریشان ہوتے ہوئے کہا:-
بیگم! ذرا دیکھ بھال کر گاڑی چلانا ، ٹی وی چینل پر خبر آرہی ہے کہ کوئی بے وقوف یک طرفہ موٹر وے پر ٹریفک کی مخالف سمت میں تیزی سے گاڑی چلائے جا رہا ہے۔
تو بیگم تقریباً چلاتے ہوئے:- ارے کوئی ایک بےوقوف...؟
یہ کمبخت تو سینکڑوں کی تعداد میں سامنے سے چلے آرہے ہیں...!
1f602.png
1f602.png
ہو عورت اور پھر مان لے کے وہ بے وقوف ہے ناممکن ۔۔
 
ایک عورت نے اپنے شوہر کو آفس فون کیا اور پوچھا کہ آپ مصروف تو نہیں‘ شوہر نے دانت پیس کر کہا ’’میں اس وقت میٹنگ میں ہوں کیوں فون کیا ہے؟ ‘‘جواب آیا’’آپ کو ایک اچھی اور ایک بُری خبر سنانی تھی‘‘۔شوہر گرجا’’خبردار جو کوئی بری خبر سنائی‘ بتاؤ اچھی خبر کیا ہے؟؟؟‘‘ بیوی چہک کر بولی’’وہ جو ہم نے نئی گاڑی لی تھی ناں‘ اُس کے ائیر بیگز بالکل ٹھیک کام کر رہے ہیں‘‘۔

اگر آپ کسی تنگ پارکنگ میں کھڑے ہوں اور اچانک کوئی گاڑی نمودار ہو کر چھوٹی سی جگہ میں بھی کسی گاڑی کو نقصان پہنچائے بغیر بہترین طریقے سے پارک ہوجائے تو فوراً یقین کرلیجئے گا کہ اِسے کوئی مرد چلا رہا ہے۔لیکن اگر گاڑی دو تین دفعہ آگے پیچھے ہوکر پارکنگ میں جگہ بنائے تو پھر بھی یقیناًاسے کوئی مرد ہی چلا رہا ہوگا۔۔۔تاہم اگرآنے والی گاڑی آپ کی گاڑی کے پیچھے پارک ہوجائے توالحمدللہ پھر بھی اسے کوئی مرد ہی چلا رہا ہوگا۔خاتون کا شائبہ تو اُس وقت ہونا چاہیے جب پارکنگ کی ڈھیر ساری جگہ ہو لیکن آنے والی گاڑی سیدھی آپ کی گاڑی میں جاگھسے۔خواتین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جب وہ گاڑی چلا رہی ہوں تو ساری ٹریفک وفات پا جائے‘ یہ ون وے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غلط رخ پر بھی گاڑی چلا رہی ہوں تو سامنے سے آنے والوں کو کوسنے دیے جاتی ہیں کہ کم بخت سب کے سب غلط آرہے ہیں۔مردکو جب تک گاڑی ریورس نہ کرنی آجائے وہ سمجھتا ہے کہ اسے ابھی گاڑی نہیں چلانی آتی‘ لیکن خواتین صرف دروازہ کھولنا ہی سیکھ جائیں تو انہیں کامل یقین ہوجاتاہے کہ اب وہ ڈرائیونگ سیکھ گئی ہیں۔

جن خواتین کو ڈرائیونگ نہیں آتی وہ بھی چلتی گاڑی میں حتی المقدور اپنا احساس دلاتی رہتی ہیں۔بعض اوقات تو شوہر گاڑی ریورس کر رہا ہو تو ساتھ بیٹھی بیگم اچانک بیک مرر کا رخ اپنی طرف کر کے لپ اسٹک ٹھیک کرنے لگ جاتی ہے اور چیخ تب مارتی ہے جب آدھی گاڑی گندے نالے میں جاگرتی ہے۔کئی خواتین تو گھر سے گاڑی لے کے نکلیں تو گھر والے باقی شہر کی سلامتی کی دعا کرنے لگتے ہیں۔شادی شدہ خواتین کی ڈرائیونگ سب سے خطرناک ہوتی ہے ‘ یہ ٹریفک کے اشارے پر رک بھی جائیں توہینڈ بریک لگانے کی بجائے بیک گیئر لگا کے اطمینان سے ببل گم چباتی رہتی ہیں‘ نتیجتاً اشارہ کھلتے ہی فل ریس دیتی ہیں اور پیچھے کھڑا بیچارہ سکوٹر والا رگڑا جاتاہے‘سارا قصور اِن کا اپنا ہوتاہے لیکن اپنے پروں پہ پانی نہیں پڑنے دیتیں‘ الٹا غریب سکوٹر والے پر چڑھ دوڑتی ہیں’’بدتمیز‘ کمینے‘ شرم نہیں آتی خاتون کی گاڑی کے پیچھے سکوٹرلگاتے ہوئے‘‘۔ہماری ایک کولیگ بھی ایسے ہی گاڑی ڈرائیور کرتی تھیں اور ان کے گھر والے بڑے فخر سے بتایا کرتے تھے کہ ہماری بیٹی کئی دفعہ گاڑی صحیح سلامت بھی واپس لاچکی ہے‘ اس کے گھر والوں نے اس کے لیے خصوصی طور پر ایک ڈرائیور رکھا ہوا ہے جسے گاڑی تو نہیں چلانی آتی تاہم وہ بی بی جی کے ساتھ ضرور بیٹھتاہے تاکہ ہر وقوعے کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرسکے۔

میں کئی ایسی خواتین کو جانتا ہوں جو ڈیڑھ سو میٹر کا سفر ہینڈ بریک کھینچے ہی طے کرجاتی ہیں اور واپسی پر اپنے مکینک کو فون کر کے پوچھ رہی ہوتی ہیں کہ ’’ابھی تو کل ٹیوننگ کروائی تھی پھر گاڑی اتنی بھاری کیوں ہوگئی ہے؟‘‘۔ایسی خواتین کو ہینڈ بریک نیچے کرنا اُس وقت یاد آتاہے جب ہینڈ بریک کھینچنے کی ضرورت پڑتی ہے۔مرد اگر گاڑی کا انجن آئل چینج کرائے تو تاریخ لکھ کر پاس رکھ لیتا ہے اور ہر وقت میٹر پر نظریں جمائے رکھتا ہے کہ دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ نہ ہونے پائے ۔اس کے برعکس گاڑی اگر خاتون کے زیر استعمال ہو تو انجن آئل ختم ہونے کا پتا اُس وقت چلتا ہے جب خاتون بڑے جوش و خروش سے اپنے شوہر کو بتاتی ہے کہ ’’نعیم! وہ جو گاڑی کے میٹر پر ایک لائٹ کبھی نہیں جلتی تھی ناں اب وہ بھی دو تین ماہ سے بالکل ٹھیک جل رہی ہے۔‘‘

آپ نے بہت کم کسی خاتون کو اپنی گاڑی کاانجن آئل چینج کراتے دیکھا ہوگا‘ وجہ صرف یہ ہے کہ ایسا جب جب ہوا‘ گاڑی کرین کی مدد سے نکالنی پڑی۔خواتین کی گاڑی پنکچر ہوجائے تو یہ بھی قابل دید منظر ہوتاہے‘ یہ سانحہ اگر سڑک کے عین بیچ میں پیش آجائے تویہ اطمینان سے گاڑی وہیں کھڑی کرکے گھر فون کر دیتی ہیں کہ ’’شہباز گاڑی پنکچر ہوگئی ہے ذرا فارغ ہوکے آجاؤ‘‘۔اس دوران خواہ بدترین ٹریفک جام ہوجائے یہ اطمینان سے گاڑی کے اندر بیٹھی مختلف بٹنوں کو چھیڑتی رہتی ہیں کہ شائد کوئی بٹن دبانے سے خودبخودپنکچر لگ جائے۔گاڑی کا ٹائر بدلنا بھی خواتین پر ختم ہے‘ اول تو یہ خود ٹائر بدلنے کی بجائے راہ چلتے کسی بندے سے فرمائش کرتی ہیں لیکن اگر اپنے زوربازو پر ’’جیک اور پانا‘‘ نکال بھی لیں تو پہلے ٹائر کے نٹ ڈھیلے کرنے کی بجائے جیک لگا کر گاڑی کو اوپر اٹھاتی ہیں اور پھر ٹائر کھولنے کی کوشش کرتی ہیں‘ نتیجتاً اکثر ٹائر کھولنے کے دوران خود بھی گھوم جاتی ہیں۔ یہ منظر بھی اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ خواتین ٹائر پنکچر ہونے پر ڈگی کی بجائے بونٹ کھول کر بیٹھی ہوتی ہیں۔ لڑکیاں عموماً آٹو گیئرگاڑی چلانا پسند کرتی ہیں اور پوری کوشش کرتی ہیں کہ سائڈ اور بیک مرر میں دیکھنے سے حتی الامکان پرہیز کریں۔کوئی لڑکی اگر گاڑی چلاتے ہوئے دائیں طرف کا انڈیکیٹر دے تو سمجھ جائیں کہ وہ بائیں طرف مڑنا چاہ رہی ہے۔انہیں دن کے وقت اوورٹیک کرتے ہوئے ’’ڈمر‘‘ دینا پڑ جائے توگاڑی کی پوری ہیڈ لائٹ آن کرلیتی ہیں‘ راستے میں اگرکوئی گاڑی کی ہیڈ لائٹس بندکرنے کا اشارہ کرے تو اُسے بیہودہ انسان تصور کرتے ہوئے گھور کر بڑبڑانے لگتی ہیں۔

میں نے ایک دفعہ سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدنی تھی جس کی مالکہ ایک خاتون تھی اور اس نے اشتہار میں لکھا تھا کہ اس کی گاڑی میں ’’پاور سٹیرنگ‘‘ ہے۔میں نے ٹرائی لینے کے لیے گاڑی سٹارٹ کی تو سٹیئرنگ کو دائیں طرف گھمانے کی کوشش میں میرا کندھا اتر گیا‘ میں نے بے بسی سے پوچھا کہ ’’محترمہ آپ نے تو کہا تھا کہ پاورسٹیئرنگ ہے‘‘۔۔۔اٹھلا کر بولیں’’ہاں تو کیا سٹیرنگ گھماتے ہوئے پاور نہیں لگ رہی؟؟؟‘‘

مرد کی گاڑی کے نیچے اگر کوئی آجائے تو وہ فوراً بریک لگا لیتا ہے جبکہ خواتین یہ سوچ کر پوری گاڑی اوپر سے گذاردیتی ہیں کہ کم بخت نیچے تو آہی گیا ہے اب بریک لگانے کا کیا فائدہ؟؟ایسی خواتین کی گاڑی کی ٹینکی پٹرول سے آدھی بھری بھی ہوئی ہو تو یہ اپنی دو انگلیوں سے میٹر پراس کا درمیانی فاصلہ ماپ کر پٹرول پمپ والے سے لڑنے لگتی ہیں کہ تین ہزار کا اتنا سا پٹرول کیوں ڈالا ہے؟ ان میں سے اکثر کے پاس لائسنس نہیں ہوتا‘ اور جن کے پاس ہوتا ہے ان کے پاس بھی نہیں ہوتا بلکہ گھر پڑا ہوتاہے۔خواتین کا کہنا ہے کہ وہ اگر گھر چلاسکتی ہیں تو گاڑی کیوں نہیں؟صحیح کہتی ہیں‘ اگرانہیں گھر میں بندے کا بیڑا غرق کرنے کا حق حاصل ہے تو سڑکوں پر کیوں نہیں۔خواتین کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ پوری توجہ سے گاڑی چلائیں اور ڈرائیونگ کرتے ہوئے اِدھر اُدھر مت دیکھیں‘ اسی لیے ہر موڑ پر گاڑی پوری ذمہ داری سے کہیں نہ کہیں ٹھوک دیتی ہیں۔ اس کے باوجودخواتین کی ڈرائیونگ کے دو پہلو قابل تعریف ہیں۔ ایک یہ کہ مرد حضرات گرمی میں بغیر اے سی کی گاڑی چلا رہے ہوں تو ان کے ہاتھ مسلسل کچھ نہ کچھ کھجانے میں مصروف رہتے ہیں تاہم خواتین پورے تحمل سے روبوٹ بنی بیٹھی رہتی ہیں۔دوسرے یہ کہ خواتین کبھی تیز رفتاری کا مظاہرہ نہیں کرتیں‘ خود ہی سوچئے پہلے گیئر میں گاڑی زیادہ سے زیادہ کتنی تیز چل سکتی ہے؟؟؟
ایک پرمزہ ۔۔۔۔لیکن عین حقیقت تحریر ۔۔۔خواتین کے لیے بڑی فکریں ہیں گر وہ سمجھنا چاہیں۔۔۔اور انسانیت کا بھلا ہوسکتا ہے ۔۔ٹریفک حادثات کی شرح میں غیر معمولی کمی واقع ہو گی ۔۔
 
یہ پروں ہوتا ہے یا پیروں۔؟؟؟
ہماری زوجہ محترمہ فرماتی ہیں کہ اگر سڑک پر یہ موڑ نہ ہوں تو میں ایسی شاندار گاڑی چلاؤں کہ تم بھی عش عش کر اٹھو
پر لطف ۔۔۔وارث صاحب کوئی ایسی سڑک تلاش کرتا ہوں ہماری بھابھی جان کے لیے ۔۔خواہش تو پوری ہو۔۔
 
ہاہاہاہاہاہاہا، کوشش کے باوجود خود کو قہقہوں سے روک نہ سکا۔ عمدہ مزاحیہ تحریر۔
امجد علی راجا صاحب ۔۔مسکراتے رہیں ۔۔مزاحیہ تحریر ہے ۔۔حتی الامکان کسی خاتون ڈرائیور کے ساتھ سفر سے احتراز کئجیے گا۔۔۔نہیں تو بعید نہیں قہقہے آہوں میں بدل جائیں۔۔۔
مسکراتے رہیں ۔۔۔اللہ آپکو سلامت رکھے آمین
 

فرحت کیانی

لائبریرین
ہماری زوجہ محترمہ فرماتی ہیں کہ اگر سڑک پر یہ موڑ نہ ہوں تو میں ایسی شاندار گاڑی چلاؤں کہ تم بھی عش عش کر اٹھو :) خواتین ڈرائیورز کو پہچاننے کی میری اپنی ایک نشانی ہے، اگر آپ کے آگے کوئی گاڑی سڑک کے عین درمیان میں چل رہی ہے اور دونوں طرف سے گزرنے کا راستہ نہیں تو جان جاتا ہوں کہ کوئی محترمہ چلا رہی ہیں۔
ویسے بہت سے مرد حضرات بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ ہر روز تجربہ ہوتا ہے۔
 

زیک

مسافر
ایک پرمزہ ۔۔۔۔لیکن عین حقیقت تحریر ۔۔۔خواتین کے لیے بڑی فکریں ہیں گر وہ سمجھنا چاہیں۔۔۔اور انسانیت کا بھلا ہوسکتا ہے ۔۔ٹریفک حادثات کی شرح میں غیر معمولی کمی واقع ہو گی ۔۔
مگر زیادہ تر حادثات تو مرد کرتے ہیں
 

فرحت کیانی

لائبریرین
ہو عورت اور پھر مان لے کے وہ بے وقوف ہے ناممکن ۔۔
دخل در معقولات کی معذرت لیکن کیا تمام مرد حضرات 'عقل مند' ہوتے ہیں؟ اگر ہاں تو یہ جو بے وقوفیوں کے قصے سننے کو ملتے ہیں وہ مردوں کے کیوں ہوتے ہیں؟ اور اگر تمام مرد حضرات عقل مند نہیں ہوتے تو چند ایک کے ہی نام گنوا دیں جنہوں نے یہ مان لیا ہو کہ وہ ہیں 'بے وقوف'۔
بات چاہے ہلکی پھلکی کی کیوں نہ ہو رہی ہو۔ ہمیں الفاظ و انداز کا چناو احتیاط سے کرنا چاہیے۔
 
آخری تدوین:

فرحت کیانی

لائبریرین
مگر زیادہ تر حادثات تو مرد کرتے ہیں
پچھلے چار دنوں میں یہاں دو بڑے حادثات ہو چکے ہیں۔ ایک آئل ٹینکر جی ٹی روڈ پر الٹا اور ساتھ والی دو گاڑیوں کو بھی کچل دیا۔ ایک خاتون (جو کہ ڈرائیور نہیں تھی ) کی وہیں موت ہو گئی اور کئی زخمی یو گئے۔ ٹینکر کے 'محتاط' اور 'عقل مند' ڈرائیور صاحب موقع سے فرار ہو گئے۔ صبح گیارہ بجے ہونے والے حادثے کے بعد جائے حادثہ کلئیر کرنے میں شام کے چار بج گئے اور شہر میں بدترین ٹریفک جام یو گیا۔ متبادل سڑکیں مزید مصروف ہو گئیں جہاں انہیں عقل مند ڈرائیور حضرات نے سنگل روڈز پر چار چار لائینیں بنا لیں اور یوں مجھ سمیت بہت سوں نے 15 منٹ کا راستہ پونے دو گھنٹے میں طے کیا۔
ایک حادثہ کل شام ہوا ہے۔ ایک اور عقل مند ڈرائیور حضرت اپنا آئل ٹینکر جی روڈ کی بجائے شارٹ کٹ کے چکر میں ایک رہائشی علاقے سے گزرنے والی سڑک پر لے گئے۔ ٹینکر عین ایک پلازہ کے سامنے الٹ گیا۔ جہاں ایک باربی کیو ریسٹوران بھی ہے۔ آگ منٹوں میں پھیل گئی اور ابھی دیکھنے والے بتا رہے تھے کہ کروڑوں کی املاک اور گاڑیوں کا نقصان تو ہوا ہی ہے۔۔لوگ جان بچانے کے لیے اوپری منزلوں سے ڈائریکٹ چھلانگیں لگا رہے تھے سو ایک 'محتاط ڈرائیور' نے چند لمحوں میں جو تباہی مچا دی وہ ایک غیر محتاط خاتون ڈرائیور شاید کبھی نہ کر پاتی۔
 
آخری تدوین:

فاخر رضا

محفلین
بہت مزہ آیا پڑھ کر . سب کو پتہ ہے کہ یہ مزاحیہ تحریر ہے . پھر سیریس کیوں ہورہے ہیں . موقع محل دیکھ کر دکھ بھری داستانیں لکھا کریں . ہر لڑی کو بدمزہ کرنے میں کیا مزا آتا ہے بھائی .
 

عثمان

محفلین
بہت مزہ آیا پڑھ کر . سب کو پتہ ہے کہ یہ مزاحیہ تحریر ہے . پھر سیریس کیوں ہورہے ہیں . موقع محل دیکھ کر دکھ بھری داستانیں لکھا کریں . ہر لڑی کو بدمزہ کرنے میں کیا مزا آتا ہے بھائی .
ضروری تو نہیں کہ جو کچھ آپ کے لیے مزاح ہو وہ دوسروں کے لیے بھی ہو۔
 

فاخر رضا

محفلین
ضروری تو نہیں کہ جو کچھ آپ کے لیے مزاح ہو وہ دوسروں کے لیے بھی ہو۔
بھئی جس نے لڑی بنائی اس نے طنز و مزاح کے خانے میں رکھی . اگر مزا کرکرا ہی کرنا ہے تو اسے طنزومزاح سے نکال دیں پھر پوری دنیا کے دکھڑے روئیں
 

عثمان

محفلین
بھئی جس نے لڑی بنائی اس نے طنز و مزاح کے خانے میں رکھی . اگر مزا کرکرا ہی کرنا ہے تو اسے طنزومزاح سے نکال دیں پھر پوری دنیا کے دکھڑے روئیں
طنز و مزاح کے زمرے میں کسی دھاگے کے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ جو جی میں آئے کہتے جائیں۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top