رانگ نمبر

قرۃالعین اعوان

لائبریرین
ایسے معاملات میں گھر والوں کی سپورٹ بے حد ضروری ہے ... بہت سے گھرانوں میں بات سنے اور سمجھے بغیر آپے سے باہر ہونے کی روایت زیادہ ہے ..
کتنی خواتین اسی ڈر سے ایسے مسائل گھر میں بیان نہیں کر سکتیں کہ ناجانے کیا ردعمل دیکھنے کو ملے
 
ہمارے ایک دوست نے اس سلسلے میں نئی اپج نکالی ہے۔ انھیں یا ہماری چوکڑی کے کسی شخص کو کسی نامعلوم نمبر سے کال آتی ہے تو وہی اٹینڈ کرتے ہیں۔ اگلے شخص نے مثلاً سلیم کا پوچھا۔ ہمارے دوست بڑے اندوہناک لہجے میں فرمائیں گے، "اوہ! وہ تو کل مر گیا ہے۔ آپ کو نہیں پتا؟" کالر کے ہوش اڑ گئے۔ "ہائیں؟ مر گیا؟" بھائی نے بڑے وثوق اور متانت سے کہا، "ہوں۔ تمھیں جنازے کا بھی نہیں بتایا کسی نے؟" جواب آئے گا۔ "اوہ میرے اللہ۔ نہیں تو۔" فرمائیں گے، "آج شام چار بجے ہے۔ فلاں جگہ۔ جلدی کرو، جلدی!"
اس کے بعد اگر اس نمبر سے کال آئے تو نہیں سنی جاتی۔ وجہ صاف ظاہر ہے!
مجھے کبھی کبھی تاسف بھی ہوتا ہے۔ کبھی غلطی سے نمبر مل جائے اور آگے آپ کو کسی یار دوست کے انتقال فرما جانے کی خبر ملے تو تراہ نہ نکل جائے گا؟ خدانخواستہ کسی قریبی عزیز کا معاملہ ہو تو، خاکم بدہن، ہارٹ اٹیک کا شکار ہو کر شام چار بجے آپ کا اپنا ذاتی جنازہ بھی اٹھ سکتا ہے۔ لیکن کیا کریں۔ بھائی کو مزا بہت آتا ہے اس قسم کے جوابات دینے میں۔ بعد میں نقلیں بھی اتاری جاتی ہیں کالر کی۔ جو ملامت کرے اس کو ملامت کی جاتی ہے۔ ایسے کو کون سمجھائے؟
 
آخری تدوین:

جاسمن

لائبریرین
ایسے معاملات میں گھر والوں کی سپورٹ بے حد ضروری ہے ... بہت سے گھرانوں میں بات سنے اور سمجھے بغیر آپے سے باہر ہونے کی روایت زیادہ ہے ..
کتنی خواتین اسی ڈر سے ایسے مسائل گھر میں بیان نہیں کر سکتیں کہ ناجانے کیا ردعمل دیکھنے کو ملے
بالکل ایسا ہے۔ مجھے کوئی رانگ کال بار بار آتی تو صاحب سم بدلنے کا مشورہ دیتے میں کہتی کہ یہ تو کوئی حل نہ ہؤا مجھے اور میرے جاننے والوں کو نمبر بدلنے سے کتنی تکلیف ہو گی۔تکلیف تو اس بندے کو ہونی چاہیے۔
بس پھر تو ہم نے ایک بہت زبردست حل نکالا۔ ہمارے خاندان کی جس لڑکی کو کسی نمبر سے بار بار کال آتی ہے تو وہ نمبر اپنے خاندان کے کئی لڑکوں کو دے دیتے۔ ہیں خصوصاََ وہ جو رات کی نوکری کرتے ہیں۔ بس پھر اُس کی شامت ۔۔۔اُسے ویل ہی نہیں ہوتی بیچارے کو کہ کسی کو فون کرے۔ وہ خود فون اٹینڈ کر کر کے گالیاں کھاتا ہے۔
 

قرۃالعین اعوان

لائبریرین
بالکل ایسا ہے۔ مجھے کوئی رانگ کال بار بار آتی تو صاحب سم بدلنے کا مشورہ دیتے میں کہتی کہ یہ تو کوئی حل نہ ہؤا مجھے اور میرے جاننے والوں کو نمبر بدلنے سے کتنی تکلیف ہو گی۔تکلیف تو اس بندے کو ہونی چاہیے۔
بس پھر تو ہم نے ایک بہت زبردست حل نکالا۔ ہمارے خاندان کی جس لڑکی کو کسی نمبر سے بار بار کال آتی ہے تو وہ نمبر اپنے خاندان کے کئی لڑکوں کو دے دیتے۔ ہیں خصوصاََ وہ جو رات کی نوکری کرتے ہیں۔ بس پھر اُس کی شامت ۔۔۔اُسے ویل ہی نہیں ہوتی بیچارے کو کہ کسی کو فون کرے۔ وہ خود فون اٹینڈ کر کر کے گالیاں کھاتا ہے۔
خوب!! ☺
 
بہت رانگ کالز آتی رہیں اور اب بھی آتی ہیں لیکن تنگ ہونے والا کوئی سلسلہ نہیں ہوا۔ البتہ جب بھی کوئی کسی کا نام جیسے کہ سلیم، منیر، شوکت یا کوئی اور نام لیکر کہے کہ ان سے بات کرنی ہے تو ہم نے ہمیشہ یہی کہا کہ جی بول رہا ہوں۔۔۔حکم:battingeyelashes:

ہاں البتہ ایک رانگ کال کا بے ربط رابطہ کوئی سال سے زیادہ محیط رہا اور اس رانگ کال کو بہت انجوائے کیا کہ ہمیں پرانے پرانے گانے سننے کا شوق تھا اور انھیں سنانے کا۔ لیکن مسئلہ یہ رہا کہ اس نمبر سے جب بھی کال آتی 'پرائیویٹ نمبر' لکھا آتا۔۔۔ سو ہم کبھی نہ جان پائے :disappointed:
 

زیک

مسافر
بہت عرصہ ہوا کہ لینڈ لائن پر اگر نمبر نہ پہچانوں تو فون نہیں اٹھاتا۔ اگر کام کی بات ہوئی تو وائس میل سے پتا چل جائے گا۔
 

یوسف سلطان

محفلین
اگر میں اپنی بات کروں تو ایسا ہوا ہے کئی دفعہ کہ کسی غلط نمبر سے کال اتی ہے ۔ اور اس کو پہلی بار ہی سمجھانے میں کامیاب ہو جاتا ،کے بئی اپ نے غلط نمبر ملا دیا ہے ۔ اور معاملہ رفع دفعہ ہو جاتا ہے ۔ یعنی جتھے دویں کالر راضی اتھے کی کرے گا قاضی ۔ پر
ایک دفعہ کالج دور میں ایک دوست کے ساتھ یہ رانگ نمبر والا مسلہ ہوا تھا ۔ ہوا کچھ یوں کے کینٹین میں بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے تو باتوں باتوں میں اس نے اس بات کا ذکر کیا کے یار گھر میں موبائل پر ایک دو دن سے رانگ نمبر سے کال اتی ہے ۔ اس کو سمجھایا ہے مگر باز نہیں آ رہا ۔ پھر ہم نے اس سے اسی وقت نمبر لیا گھر کال کروا کے ۔ اور ہم نے "جیسا کرو گے ویسا بھرو گے" کے مصداق پہلے اس کو اپنے اپنے نمبر سے الگ الگ کال کیں اور (اگلی گل دا توانوں پتا ۔۔ :heehee:)
اور پھر بقول خالد مسعود کے :

ساری غزل سنا کر بھی نیئں ساڑا دل دا مُکیا
ساڈا ہے بس اکو ای نعرہ تیرا ککھ نہ رے​
اس نمبر کو کالج کے ان لڑکوں کو دیا جن کو کبھی دیکھا بھی نہیں تھا پہلے ۔ اور اس وقت تک چین کا سانس نہیں لیا جب تک یہ سننے کو نہیں ملا " اپ کا مطلوبہ نمبر اس وقت بند ہے " اس کے دو تین دن بعد بھی چیک کیا پر لگتا تھا کہ وہ ہم سے روٹھ گیا تھا :brokenheart: ۔
 
آخری تدوین:

نیرنگ خیال

لائبریرین
بہت رانگ کالز آتی رہیں اور اب بھی آتی ہیں لیکن تنگ ہونے والا کوئی سلسلہ نہیں ہوا۔ البتہ جب بھی کوئی کسی کا نام جیسے کہ سلیم، منیر، شوکت یا کوئی اور نام لیکر کہے کہ ان سے بات کرنی ہے تو ہم نے ہمیشہ یہی کہا کہ جی بول رہا ہوں۔۔۔حکم:battingeyelashes:

ہاں البتہ ایک رانگ کال کا بے ربط رابطہ کوئی سال سے زیادہ محیط رہا اور اس رانگ کال کو بہت انجوائے کیا کہ ہمیں پرانے پرانے گانے سننے کا شوق تھا اور انھیں سنانے کا۔ لیکن مسئلہ یہ رہا کہ اس نمبر سے جب بھی کال آتی 'پرائیویٹ نمبر' لکھا آتا۔۔۔ سو ہم کبھی نہ جان پائے :disappointed:
فورسز کا نمبر سر۔۔۔ سیدھا سیدھا۔۔۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
زندگی ایسی بےشمار رانگ کالز سے بھری پڑی ہے۔۔۔۔۔ کچھ کو فاتح بھائی کے سنسر شدہ جملوں میں سمجھایا اور باقیوں کو بھی اسی زبان میں۔ کیوں کہ جو عام زبان سمجھتے ہیں وہ میری بھاری اور کرخت آواز سن کر ویسے ہی بدک جاتے ہیں۔ان کے لیے یہی فقرہ کافی رہتا ہے کہ "جو نمبر سمجھ کر تم نے ملایا ہے وہ دراصل ہے نہیں۔" ہاں ایک آدھے کو اس کے گھر تک چھوڑ کر آنا پڑا۔ مجبوری بن گئی تھی۔
 
کئی بار ایسی کالزآتی ہیں جن میں کوئی دوسرا شخص کہتا ہے کہ میں فلاں کمپنی کی طرف سے بول رہاہوں اور آپ کا اتنے لاکھ کا انعام نکلا ہے۔ میں اکثر ایسی کالز کو بند کرکے بلاک کر دیا کرتا ہوں۔ ایک بار ایک ایسی ہی کال آئی۔ میں کسی بات پر غصے میں بھرا بیٹھا تھا، میں نے مخاطب سے کہا کہ میں ریسکیور ہوں، لوگوں کی جان بچانا میرا کام ہے، کتنے ہی لوگ میرے ہاتھوں میں دم توڑ چکے ہیں، دنیا فانی ہے، کیوں لوگوں کو لالچ دے کر انہیں لوٹتے اور تنگ کرتے ہو، خدا کا خوف کھاو، شرم کرو وغیرہ وغیرہ۔۔۔ یہ حیران کن تھا کہ اس نے میری ساری بات بڑے تحمل سے سنی اور پھر سوری کہہ کر کال بند کردی۔ میں نے اس نمبر کو بلیک لسٹ نہیں کیا۔ اگلے دن مجھے پھر کال آگئی۔ وہ لڑکا سر گودھا شہر کا تھا ، لہجے سے اردو سپیکنگ نہیں لگتا تھا، اس نے بتایا کہ کل شام ہی اس کے جاں سے زیادہ عزیز ماموں ایک حادثے میں انتقال کر گئے ہیں۔۔۔ اس بات کا اس کے دل و دماغ پر گہرا اثر ہوا تھا۔ میں نے اس سے اظہارِ تعزیت کیا اور اس نےکہا کہ میں نے جو کچھ کل کہا تھا وہ درست تھا، اور اب وہ کبھی کسی کو فون پر بے وقوف بنا کر نہیں لوٹے گا۔ اس کے بعد کافی عرصہ تک ہم میسج کے ذریعے رابطے میں رہے۔پھر یہ رابطہ بھی ختم ہوگیا۔
 

عباس اعوان

محفلین
اگر غلطی سے رانگ نمبر مل جائے تو درگزر کرنا چاہیے، لیکن جو لوگ اس کے بعد لچر پن کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہ نا قابلِ برداشت ہے۔ ایسے لوگوں کو پھر فاتح بھائی کے انداز میں سمجھانا پڑتا ہے، شرافت کو یہ لوگ کمزوری اور بزدلی سمجھتے ہیں، اور مزید شیر ہو جاتے ہیں۔
خیر، یہ تو جنرل تبصرہ تھا۔
یونی ورسٹی کے دنوں میں اگر ہمارے موبائل پر کوئی رانگ نمبر کال آتی تو اکثر ہم معذرت کر لیتے کہ ہم آپ کے مطلوبہ شخص نہیں ہیں۔ لیکن کبھی کبھی ہم کہتے کہ لیں جی جناب، اپنے مطلوبہ شخص سے بات کریں فوراً ساتھ کھڑے دوست کے ہاتھ میں موبائل تھما دیتے۔۔۔
:)
 

عباس اعوان

محفلین
آج کل رانگ نمبر کالز کم ہی آتی ہیں، جو آ جائیں تو وہ چینی زبان میں "وائی" کی بجائے ہمارا انگریزی کا "ہیلو" سنتے ہیں تو کال بند کر دیتے ہیں۔
 

زیک

مسافر
آج کل رانگ نمبر کالز کم ہی آتی ہیں، جو آ جائیں تو وہ چینی زبان میں "وائی" کی بجائے ہمارا انگریزی کا "ہیلو" سنتے ہیں تو کال بند کر دیتے ہیں۔
یہاں کسی مسلمان ٹیلی مارکیٹنگ یا فراڈ لسٹ کو میرا نمبر مل گیا تھا۔ بس پھر فون اٹھاتا اور آگے سے کوئی السلام علیکم کرتا تو میں فوراً فون بند کر دیتا۔ اب افاقہ ہے۔
 

عباس اعوان

محفلین
یہاں کسی مسلمان ٹیلی مارکیٹنگ یا فراڈ لسٹ کو میرا نمبر مل گیا تھا۔ بس پھر فون اٹھاتا اور آگے سے کوئی السلام علیکم کرتا تو میں فوراً فون بند کر دیتا۔ اب افاقہ ہے۔
یہاں پر ٹیلی مارکیٹنگ والے/والیاں فون اٹھاتے ہی آپ کے جواب کا انتظار کیے بغیر چینی زبان میں شروع ہو جاتے ہیں، جب وہ اپنی بات سنا چُکتے ہیں، تب آپ ان سے انگریزی میں پوچھتے ہیں کہ کیا آپ کو انگریزی آتی ہے، تب وہ سوری کہہ کر، یا اس کے بغیر بھی فوراً فون بند کر دیتے ہیں۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین
مجھے کچھ خاص تجربہ نہیں ہوا شاید اس لیے کہ میں عموما انجانے نمبر سے آنے والا فون اٹھاتی ہی نہیں ہوں. یہ بات ابو نے جب مجھے پہلی بار فون لے کر دیا تھا ، تب کہی تھی اور اس وجہ سے واقعی مجھے کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا الحمداللہ.
ایک بار جب میں پاکستان آئی ہوئی تھی اور ایک جگہ سے کال متوقع تھی تو میں نے ایک نئے نمبر سے آنے والا فون سن لیا اور مجھے ہیلو سے ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ میری متوقع کال نہیں ہے کہ وہ کسی خاتون کا فون ہونا چاہیے تھا. خیر میرے پوچھنے پر کہ کس سے بات کرنی پسند فرمائیں گے، کہا گیا آپ سے. میں نے فون بند کر دیا اور فورا بڑے بھائی کو فون کر کے نمبر لکھوا دیا. اس کے بعد شاید 10 منٹ میں دو دفعہ فون آیا جو میں نے اٹینڈ نہیں کیا. پھر بھائی نے فون کر کے کہا کہ اب کوئی فون نہیں کرے گا.
خیر جب اس نمبر کو ٹریس کروایا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک گینگ تھا جس دو خواتین اور شاید تین چار لڑکے تھے جو اسی طرح رانگ کالز کر کے خواتین اور لڑکیوں کو تنگ کرتے تھے اور جو اپنی بے وقوفی سے ان کی باتوں میں آ جاتی تھیں انہیں بلیک میل کیا جاتا تھا. اس ساری معلومات کے بعد ان کی نگرانی کی گئی اور پکڑ لیا گیا. سو میں اس کو اس طرح مثبت لیتی ہوں کہ اسی بہانے کم از کم ایک ایسا گروہ تو اپنے انجام کو پہنچا.
میرے ابا جان کے فون پر ایک بار میری موجودگی میں ایک کال آئی کہ آپ کا شاید دس لاکھ کا انعام نکلا ہے. ہمیں اس نمبر پر فون کریں اور اپنا نام پتہ وغیرہ لکھوا دیں اور شاید چند سو روپوں کا ایزی لوڈ کروائیں.بیچارے کو اندازہ نہیں تھا کہ کس کو فون کیا ہے. پہلے تو ابو نے کہا کہ ایسا کریں آپ میرے دس لاکھ میں سے ایزی لوڈ کہ رقم کاٹ کر باقی مجھے دے دیں. اور اپنا پتہ بتائیں تا کہ میں خود آکر تفصیلات دے دوں اور رقم لے لوں. اور اس کے بعد کالر کی دھلائی ہوئی کہ کچھ احساس کرو، پہلے لوگوں کو لوٹنے والے کم ہیں کہ تم جیسے لوگ بھی میدان میں آ گئے ہیں. مجھے لگتا ہے اس کے بعد اگر وہ شخص اگر کسی کو اس سلسلے میں فون کرتا بھی ہو گا تو ایک بار تو سوچتا ہی ہو گا.
 

باباجی

محفلین
کچھ حضرات اتنے ٹھرکی ہوتے ہیں ماشاءاللہ کہ اپنی دادی کی عمر کی عورت کی آواز بھی سن لیں تو بار بار فون کرتے رہتے ہیں
اور ان سے انتہائی اخلاق سے کچھ انتہائی غیر اخلاقی زبان استعمال کرنی پڑتی ہے تو بھی ان کی ٹھرک آدھی مرتی ہے
اس کے تدارک کے لیئے بھی کوئی مانیٹرنگ سسٹم ہونا چاہیئے
 

جاسمن

لائبریرین
ہماری ایک ساتھی کو ایک لڑکے کا فون آنے لگا۔ انہوں نے لڑکے کو بتایا کہ اُس کی عمر کا تو اُن کا اپنا بیٹا ہے۔ یہ سن کے لڑکا بولا"پھر کیا ہؤا؟"
اس وقت ہماری ساتھی کا بیٹا نویں میں پڑھتا تھا۔
 
Top