16 دسمبر 1971 - 2015 میں

Mapa-Pakistan-1947-300x292.jpg

1947 سے لیکر 1971 تک پاکستان مشرقی اور مغربی حصوں پر مشتمل تھا
 
NawabViqar-ul-Mulk.jpg

30 دسمبر 1906 میں نواب وقار الملک کی سربراہی میں محمڈن ایجوکیشنل کانفرس ڈھاکہ میں منعقد ہوئی جس میں نواب سیلم اللہ خان نے ایک پاکستان مسلم لیگ کی بنیاد کا پروپوزل پیش کیا
NawabSalimUllah.jpg
 

Fawad -

محفلین
پاکستان مکمل طور پر امریکی غلامی میں اگیا

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

کسی بھی قوم يا ملک کو "غلام" تصور کرنا اور وہ بھی آج کے دور ميں نا صرف يہ کہ ناقابل عمل ہے بلکہ اقوام کے درميان سفارتی روابط کی کمزور تشريح ہے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ ممالک کے مابين تعلقات مستقل نہيں رہتے بلکہ تغير کے عمل سے گزرتے رہتے ہيں اور تبديل ہوتے ہوئے سياسی منظرنامے اورارضی سياسيات کے حقائق کے سبب مسلسل نشيب وفراز کا شکار رہتے ہيں۔ تاہم اگر دو طويل المدت اسٹريجک اتحاديوں کے مابين سفارتی تعلقات کی نوعيت يکساں نہيں رہتی تو اس کا يہ مطلب نہيں ہے کہ ان ممالک کے تعلقات کو "آقا غلام" جيسی نامناسب اصطلاحات کے تناظر ميں پرکھا جائے۔

گزشتہ دس برسوں کے دوران واقعات کے تسلسل کا سرسری جائزہ بشمول اہم ترين موقعوں کے، پاک امريکہ مضبوط تعلقات کو واضح کرتا ہے باوجود اس کے کہ اس دوران کئ مشکل گھڑياں بھی آئيں اور ايسے معاملات بھی تھے جو شديد اختلافات اور مختلف نقطہ نظر کی وجہ بنے۔

جو رائے دہندگان اس بات پر بضد ہيں کہ امريکہ "پاکستانيوں" کو غلام تصور کرتا ہے اور پاکستان ميں مبينہ قيادت امريکی حکومت کے اشاروں پر انحصار کرتی ہے، انھيں چاہیے کہ واقعات کے اس تسلسل کا بغور جائزہ ليں جو کيری لوگر بل کے وقت پيش آئے تھے جب کئ ہفتوں تک دونوں ممالک کے مابين سفارتی تعلقات جمود کا شکار رہے تھے تاوقتيکہ پاکستان ميں تمام فريقين کے خدشات اور تحفظات دور نہيں کر ديے گئے۔

اور پھر يہ کون بھول سکتا ہے کہ نيٹو کی آمدورفت سے متعلقہ راستوں پر سات ماہ سے زيادہ عرصے تک بندشيں لگائ گئ تھيں اور امريکی حکومت کی اعلی ترين قيادت کی جانب سے تواتر کے ساتھ ملاقاتوں سميت انتھک سفارتی کاوشوں کے باوجود ہم اپنی مبينہ "کٹھ پتليوں" کو منانے ميں ناکام رہے تھے جس کی پاداش ميں ہميں کئ ملين ڈالرز کا نقصان بھی ہوا تھا اور پڑوسی افغانستان ميں ہماری کاوشوں کو بھی زک پہنچی تھی۔

چاہے وہ وزيرستان ميں فوجی آپريشن کے وقت کا تعين يا اس کے دائرہ کار کا معاملہ ہو، حقانی نيٹ ورکس کے حوالے سے ہمارے تحفظات ہوں، حافظ سعيد کا ايشو ہو يا دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے، کسی بھی غير جانب دار سوچ کے حامل شخص کے ليے يہ واضح ہونا چاہيے کہ دونوں ممالک کے مابين مضبوط اور ديرپا اسٹريجک تعلقات کے باوجود ہمارے تعلقات کی نوعيت کو "آقا اور غلام" سے ہرگز تعبير نہيں کيا جا سکتا ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

USDOTURDU_banner.jpg
 
Top