120 اہلکار محبوس لڑ رہے ہیں۔ آخر ان کی مدد کیوں نہیں کی جارہی؟

لو لوگوں کو سنبھال نہین سکتے تو آپریشن کیوں کرتے ہیں لوگوں سے بندہ پوچھے اچھے بھلے ملک میں رہ کر دشمن سے مل کر ملک توڑنے کیوں چلے تھے ہر ہونےو الا کارنامہ سرحد سے کای جاتا ہے ہر ہونے والے حملے میں زمہ داری سرحد کے لوگ دھڑلے سے قبول کر لیتے ہیں جب انڈیا اور امریکہ سے مل کر افغانیوں سے مل کر اپنے ہی لوگوں کو بے گناہ لوگوں کو مارتے ہیں سینکڑوں ہنستے بستے گھروں کو اجاڑ دیتے ہیں یہی سرحد کے لوگ تو اب اگر خود مر رہے ہیں تو رونا کیسا۔۔۔۔۔۔۔؟؟کیا خود کو زیادہ درد ہو رہا ہے گولیاں لگنے سے اور جن کے دفنانے کے لیے جسم بھی نہیں ملتے ان کے درد کا کیا جو انہیں لوگوں نے خود کش حملوں میں مارے۔۔۔۔۔۔۔ایک اطل؛اع کے مطابق 10 ہزارا را کے ایجنٹ جنگ لڑ رہے ہین سرحد میں ۔کویں سپورٹ کر رہے ہیں یہ انہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔برامداخ بگٹی نے کھل کر انڈیا کی مدد مانگی اب کل کو وہ بھی مارا جائے تو ظل؛م ہو گا۔۔نہیں ایسے گداروں کی سزا موت ہے ۔۔۔بے گھر ہونے والوں کا ہمیں بڑا درد اٹھ رہا ہے کہ ہائے سوات کے لوگ بھوکے مر رہے ہیں کیا انہیں کبھی اپنے بھائی بیٹوں کو سمجھایا کہ ایسے غلط ہاتھوں میں‌مت کھیلوں‌کیا طالبان پاکستانی انہیں کے بھائی بیٹے نہیں ہیں۔۔کیا وہ لوگ کبھی خود کش حملوں‌میں مارے جانے والوں‌کے غم میں اتنا تڑپے ہیں کیا انہوں‌نے کبھی کسی خود کش حملے میں‌مارے جانے والوں‌کے گھر کی مدد تو دور ترس کے دو لفظ بھی کہے ہیں۔نہیں نا۔تو بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرنے دو انہیں دشمن کے ساتھ ساتھ یہی ان کا علاج اور سزا بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔بڑ اد رد اٹھتا ہے سب کو سوات کا نہ دشمن کا ساتھ دیں نا مریں خلاص:cool:

بے حسی کی انتہا!
 

ظفری

لائبریرین
اچھا ڈالر کماو پالیس ہی سہی اسی پالیسی پر عمل کر کے انہیں قبائلیوں نے واہ فیکٹری میں بے گناہ مزدور مارے انہیں نے لاہور میں کئی لوگ قتل کیے کتنے ہی بے گناہوں کو خود کش حملوں میں مارا تو کیا قبائلی بھی بکے ہوئے ہیں مانتے ہیں نا اپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو کچھ انہوں نے کیا وہ بھگت رہے ہیں ۔۔۔۔ ان کا مرنا ہی پاکستان کے لیے بہتر ہے ۔۔۔اگر عام شہری مارے جا رہے ہیں تو یہی شہری ان کے سپوٹر ہیں انہیں کے تو بھائی بیٹے ہیں وہ کوئی آسمان سے نہیں ٹپکے ویسے بھی یہ کوئی ایسی بات نہیں جب جنگ ہوتی ہے تو بہت سے بے گناہ مارے جاتے ہیں ۔۔۔اب یہ نا کہنا میں موجودہ حکومت کی حمایت کر رہی ہوں جتنی میں خلاف ہوں اس حکومت کے اتان کوئی ہی ہو گا۔۔۔۔:grin:

بی بی ۔۔۔۔ یاد رکھیں ۔۔۔پاکستان بنا ہے تو دو صوبوں پر بنا ہے ۔۔۔ سندھ اور پنجاب ۔ اگر آج بلوچستان اور سرحد میں شورشیں اٹھی ہوئی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان صوبوں کے رہنے والے اپنے باپ دادا کی اس غلطی کا کفارہ ادا کرنا چاہتے ہیں جو انہوں نے ایک آزاد اور خود مختار قبائل کو اسلام کے نام سے پاکستان میں ضم کردیا ۔ آپکا تعلق پاکستان کے سب سے خوشحال صوبے سے ہے اس لیئے آپ کو ان علاقوں میں رہنے والوں کی صحیح حالت کا ادراک نہیں ہے ۔ آپ کا متعصبانہ رویہ میری سمجھ سے بالاتر ہے

آپ کو شاید معلوم نہیں ہے کہ قبائلی علاقوں میں برسوں سے افلاس اور پسماندگی کا ڈیرا ہے ۔ قبائلی علاقوں میں اب بھی لوگ بھیڑ بکریوں کی کھالیں اڑ کر سوتے ہیں ۔ حقیقت پسندی اور عملیت پسندی سے ایک عرصے دور رہنے والوں کو اپنی بقا اور عزت ، ان باغیوں اور طالبان کا ساتھ دینے میں نظر آئی ۔ تصادم سے گریز اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب آپ کی عزت خود اپنی نظر میں قائم رہے ۔ بصورت دیگر ہر انجام سے پرواہ ہوکر انسان کچھ بھی کر سکتا ہے ۔
طالبان کی سفاک پالسیوں پر انگلیاں اٹھانے کیساتھ ساتھ قبائلی علاقوں میں رہنے والوں مظلوموں کی مجبوری اور بے بسی کا بھی ذکر ضروری ہے ۔ صرف تُو تڑاک اور پوری توپ کا رخ اصل پس منظر جانے بغیر قبائلی علاقوں میں ہر بسنے والوں کی طرف کرنا کسی بھی طور صحتمندانہ اور ایماندارانہ نہیں ہے ۔ ہمیں طالبان کی پیدائش ، ان کی نشو ونما ، اور پھر طاقت حاصل کرنے کے بعد ان کے سفاکانہ عمل کیساتھ ، ان غریبوں کی بھی مجبوریوں اور بے بسی کا بھی احاطہ کرنا چاہیئے ۔ کسی کی طرف انگلی اٹھانے سے برائی ختم نہیں ہوتی ۔ چھوٹے صوبوں میں احساسِ کمتری کے اجاگر ہونے کے کئی عوامل ہیں ۔ لہذا ان کو بھی مدِ نظر رکھا جائے ۔ اور کسی پر انگلی اٹھانے کیساتھ ثبوت اور دلائل بھی مہیا کیئے جانے چاہئیں ۔ورنہ یہ خالص متعصبانہ رویہ قرار دیا جائے گا ۔
 
محترمہ اگر آپ سوات میں ہوتیں اور آپ کے خاندان کے کچھ لوگ طالبان کی مدد نہ کرنے کے باوجود گولہ باری میں مارے جاتے اور آپ کو بھی بے سروسامانی کی حالت میں نقل مکانی کرنی پڑتی تب میں آپ سے آپ کے جذبات پوچھتا
 

arifkarim

معطل
بلکہ اس کا پلان طالبان کے ہوے کو بڑا کرکے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کرنا یا انہیں ضائع کرنا ہے۔ یہ اصل مقصد ہے اور اس کے لئے طالبان امریکہ کے حریف نہیں حلیف ہیں۔

لو جی ایک نئی خبر۔ بھلا امریکہ کو ہمارے ہتھیار ضائع یا ختم کرکے کیا ملے گا :confused: کیا اسکے پاس ایسے ہتھیاروں کی کمی ہے؟
ایران تو بہرحال ایٹم بم بنا چکا ہے۔ اصل کام تو اسرائیل کو ایران سے بچانا ہے۔ جسکے لئے امریکہ ،بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرکے اپنی فوج وہاں جمع کروانا چاہتا ہے تاکہ ایران کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے۔ اور "مکمل" پاکستان کی صورت میں ایسا کرنا ناممکن ہے۔ نیز بلوچستان سے گزرنے والی تیل پائپ لائن اور زرعی اور معدنی فائدوں کا تو سب ہی کو پتا ہے;)
 

arifkarim

معطل
آپ کو شاید معلوم نہیں ہے کہ قبائلی علاقوں میں برسوں سے افلاس اور پسماندگی کا ڈیرا ہے ۔ قبائلی علاقوں میں اب بھی لوگ بھیڑ بکریوں کی کھالیں اڑ کر سوتے ہیں ۔۔

تو کیا طالبان یا علما یا پاکستانیوں یا امریکہ کے نقش قدم پر چل کر انکے ہاں سائنس و ٹیکنالوجی کی بھرمار ہو جائے گی:rollingonthefloor:
 

خرم

محفلین
اور گریٹر اسرائیل جس میں مدینہ منورہ تک کا علاقہ شامل ہے، اس پر عملدرآمد کی جب باری آئی تو کس ملک کے ہتھیار اسرائیل کے خلاف استعمال ہوسکتے ہیں؟
 

خرم

محفلین
ظفری بھیا، قبائلی علاقوں میں پسماندگی اتنی بھی نہیں جتنی آپ نے کہہ دی۔ بڑے عرصہ سے قبائلی نوجوان اعلٰی تعلیم حاصل کررہے ہیں اور کور کمانڈر تو کئی قبائلی رہ چکے۔ پسماندگی کی وجوہات وہی ہیں جو باقی پاکستان کے لوگوں‌کی پسماندگی کی ہیں اور ان کا علاج بھی وہی ہے۔ یہ باقی شوشے تو سیاستدان اور ان جیسے دوسرے اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے لئے چھوڑتے ہیں۔ طالبان کو سب سے زیادہ کمک پنجاب سے ملتی ہے اور پنجابی طالب ہی سب سے زیادہ تعداد میں لڑنے والے ہوتے ہیں۔ اس کی کیا توجیح ہوگی؟
 

arifkarim

معطل
اور گریٹر اسرائیل جس میں مدینہ منورہ تک کا علاقہ شامل ہے، اس پر عملدرآمد کی جب باری آئی تو کس ملک کے ہتھیار اسرائیل کے خلاف استعمال ہوسکتے ہیں؟

دُعا سے بڑا اور کوئی ہتھیار نہیں۔ اسلام کی تو یہی تعلیم ہے۔
اُمید ہے ہمارے مومن مسلمانوں کی دعاؤں سے اتحادیوں کے ہتھیاروں میں کیڑے پڑ جائیں گے۔ اور اصحاب فیل والا انجام انکا بھی ہوگا۔ کیونکہ اگر پاکستان نے مکہ کی حفاظت کیلئے ایٹمی میزائل استعمال کیا تو جوابی بربادی کیلئے بھی تیاری کرنی ہوگی!
 

ظفری

لائبریرین
تو کیا طالبان یا علما یا پاکستانیوں یا امریکہ کے نقش قدم پر چل کر انکے ہاں سائنس و ٹیکنالوجی کی بھرمار ہو جائے گی:rollingonthefloor:
غور سے دیکھیں ۔۔۔ عارف نے پوری بات سے ایک جملہ نکال کر اسے کیا رنگ دیا ہے ۔ ہم قرآن کی آیتوں کیساتھ بھی ایسا ہی کرتے ہیں ۔ خصوصاً جہاد کی آیتوں کیساتھ ۔ ساتھ یہ دیکھیں کہ اس طرح بات کو سیاق و سباق سے نکال کر اسے اپنی مرضی کے کسی استدلال سے کیسے منسلک کیا جاتا ہے کہ پوری بات کا مفہوم ہی بدل جاتا ہے ۔ یہ خود ساختہ interpretation کی واضع مثال ہے ۔ :)
 

ظفری

لائبریرین
ظفری بھیا، قبائلی علاقوں میں پسماندگی اتنی بھی نہیں جتنی آپ نے کہہ دی۔ بڑے عرصہ سے قبائلی نوجوان اعلٰی تعلیم حاصل کررہے ہیں اور کور کمانڈر تو کئی قبائلی رہ چکے۔ پسماندگی کی وجوہات وہی ہیں جو باقی پاکستان کے لوگوں‌کی پسماندگی کی ہیں اور ان کا علاج بھی وہی ہے۔ یہ باقی شوشے تو سیاستدان اور ان جیسے دوسرے اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے لئے چھوڑتے ہیں۔ طالبان کو سب سے زیادہ کمک پنجاب سے ملتی ہے اور پنجابی طالب ہی سب سے زیادہ تعداد میں لڑنے والے ہوتے ہیں۔ اس کی کیا توجیح ہوگی؟

خرم بھیا ۔۔۔۔ آپ دراصل چند خوانین کی بات کررہے ہیں ۔ جو ان عہدوں تک پہنچے ہیں ۔ ان کی مثالیں سرداروں ، وڈیروں ، جاگیرداروں ، سرمایہ داروں کے سوا کچھ نہیں ۔ آپ کو شاید علم نہیں کہ میں انہی علاقوں کا رہنے والا ہوں ۔ درجنوں مثالیں ایسی ہیں کہ وہاں کے رہنے والوں کی کمپرسی کی حالت میری آنکھوں کی دیکھی ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے اعلی تعلیم کا لفظ ایک عام قبائلی کے لیئے استعمال کیا ہے یا پھر انہی خوانین کے حوالے سے ایک بات کہی ہے ۔ اور یقین مانیں ۔۔۔ ان علاقوں کی پسماندگی کی نوعیت دوسرے علاقوں سے بلکل الگ ہے ۔ آپ کو ایف آر سی کا معلوم ہوگا ۔ یہ قانون اب بھی ان پر مسلط ہے ۔ اس لحاظ سے بھی یہاں کی پسماندگی اور احساس ِ کمتری کی وجوہات ملک کے دیگر حصوں سے قطعی مختلف ہے ۔ یہ ایک طویل بحث ہے ۔ پھر کبھی سہی ۔
 

خرم

محفلین
لیکن ظفری بھیا ایف آر سی کا قانون کیوں‌مسلط ہے ان پر۔ کیوں‌باقی ملک کے قوانین ان پر لاگو نہیں ہوتے؟ کیا یہ ان کا خود چُنا ہوا راستہ نہیں؟ آپ جانتے ہیں کہ میں کسی بھی قومیت کے ساتھ کسی بھی قسم کے خصوصی برتاؤ کا مخالف ہوں لیکن ہمیں اپنے چُنے ہوئے راستوں کا پھل تو چُننا ہوگا۔ خوانین یقیناَ مسلط ہیں ان علاقوں پر اور مُلا بھی لیکن وہ کہاں‌نہیں ہیں‌وطن عزیز میں؟ درستی کی ضرورت تو تمام معاشرہ کو ہے، پھر ایک جگہ کو استثنا کیوں؟
 

خرم

محفلین
دُعا سے بڑا اور کوئی ہتھیار نہیں۔ اسلام کی تو یہی تعلیم ہے۔
اُمید ہے ہمارے مومن مسلمانوں کی دعاؤں سے اتحادیوں کے ہتھیاروں میں کیڑے پڑ جائیں گے۔ اور اصحاب فیل والا انجام انکا بھی ہوگا۔ کیونکہ اگر پاکستان نے مکہ کی حفاظت کیلئے ایٹمی میزائل استعمال کیا تو جوابی بربادی کیلئے بھی تیاری کرنی ہوگی!
تو کیا ہوا؟‌کیا آپ کے خیال میں کوئی بھی مکہ کی حفاظت کے لئے ایٹمی آپشن استعمال کرنے سے پہلے دوسرے بار بھی سوچے گا؟ اور سوچا بھی کیوں‌جائے؟
جو بربادیوں سے ڈرتے رہتے ہیں ان کے حصہ میں مر مر کر جینا ہی آتا ہے۔
 

arifkarim

معطل
تو کیا ہوا؟‌کیا آپ کے خیال میں کوئی بھی مکہ کی حفاظت کے لئے ایٹمی آپشن استعمال کرنے سے پہلے دوسرے بار بھی سوچے گا؟ اور سوچا بھی کیوں‌جائے؟
جو بربادیوں سے ڈرتے رہتے ہیں ان کے حصہ میں مر مر کر جینا ہی آتا ہے۔

کیا دُنیا کی ہر مصیبت کیلئے قربانی پاکستان اور پاکستانیوں کو ہی دینی ہوگی؟:mad:
امریکہ کو سرد جنگ جیتوانے میں پاکستان نے جو طالبان کا درد سر قبول کیا ہے، وہ آج میگرین بن کر دن رات تنگ کر رہا ہے! اب اس درد سر کا یہی حل ہے کہ بندہ "سر" اُتار کر ہی نیچے رکھ دے۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری!
پھر امریکی کی خودساختہ War Of Terror میں Puppet OF USA بن کر کھیلنا کیسا لگا ہوگا ہم پاکستانیوں کو؟ ذرا اس بارے میں بھی سوچیں۔
نیز اب تک ہماری انڈیا کیساتھ جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں سب میں بین الاقوامی مداخلت سے سارا نقصان ہمیشہ ہمارا ہی ہوا ہے۔
اسلئے فکر نہ کریں، جب کبھی بھی امریکہ مکہ و مدینہ پر حملہ کرے گا، ہم اپنا ملک قربان کرکے اسے بچا ہی لیں گے!
 

ظفری

لائبریرین
لیکن ظفری بھیا ایف آر سی کا قانون کیوں‌مسلط ہے ان پر۔ کیوں‌باقی ملک کے قوانین ان پر لاگو نہیں ہوتے؟ کیا یہ ان کا خود چُنا ہوا راستہ نہیں؟ آپ جانتے ہیں کہ میں کسی بھی قومیت کے ساتھ کسی بھی قسم کے خصوصی برتاؤ کا مخالف ہوں لیکن ہمیں اپنے چُنے ہوئے راستوں کا پھل تو چُننا ہوگا۔ خوانین یقیناَ مسلط ہیں ان علاقوں پر اور مُلا بھی لیکن وہ کہاں‌نہیں ہیں‌وطن عزیز میں؟ درستی کی ضرورت تو تمام معاشرہ کو ہے، پھر ایک جگہ کو استثنا کیوں؟
چلیں آپ نے اب یہ بحث چھیڑ ہی دی ہے تو تھوڑی سی اس پر گفتگو ہوجائے ۔
اگر آپ قبائلی علاقوں میں بسنے والوں کی زندگی کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں‌ تو آپ دیکھیں گے کہ ہم نے انہیں عملی طور پر وار لارڈز اور سیاسی طور پر پولیٹیکل ایجینٹس کے حوالے کیا ہوا ہے ۔ اور ان کی زندگیوں پر تسلط قائم رکھنے کے لیئے اللہ کی کتاب کے بجائے انگریزوں کی دی ہوئی کتاب جسے FCR کہتے ہیں ، ان پر مسلط کی ہوئی ہے ۔ ان کی تقریباً پانچ نسلیں مٹی کے بوسیدہ مکانوں میں رہنے اور اڑھنے بچھونے کے لیئے جانوروں کی کھالیں استعمال کرنے پر مجبور ہیں ۔ وہاں ایک ہی جماعت کو جانے کی اجازت ہے اور وہی وہاں سے منتخب ہو کر آتی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ہم نے ان کو مکمل طور پر دیوار کیساتھ لگا ہوا ہے ۔

Frontier Crime Regulations (ایف سی آر ) کا قانون ، جو انگریزوں نے 1901 میں ایک سیاہ باب کی حیثیت سے قبائلی علاقوں میں رائج کیا تھا ۔ آج بھی یہ قانون قبائلی علاقوں میں عملاً رائج ہے ۔ اور اس کے نتیجے میں پولیٹیکل ایڈمنسٹریشن کے ذریعے آج بھی ظلم و جبر کا عمل جاری ہے ۔ سنگلاخ پہاڑوں ، موسم کی سختیوں اور زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے لیئے ترسے ہوئے ان لوگوں کو جب بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکا جائے گا تو ان کا ردعمل بھی مختلف صورتوں میں سامنے آئے گا ۔ ہر برے عمل کا ردعمل یا نتیجہ بھی برا ہی برآمد ہونا ہے ۔ ۔ اصل مسئلہ تو اس عمل کے محرکات اور اسباب ڈھونڈنا ہے نہ کہ Blam Game کی روش جاری رکھنی ہے ۔ پاکستان بنے ہوئے ساٹھ سال گذر گئے ہیں مگر یہ علاقے ملک کے دیگر حصوں کی طرح تھوڑے بہت خوشحالی کی طرف تو کیا بڑھتے ان کو تو ملک کے Mainstream Political process سے بھی دور رکھا گیا ہے ۔ سوچنے کی بات ہے کہ ان علاقوں میں پہنچنے کے لیئے رسائی کتنی مشکل ہے ذرا سوچئے ان علاقوں میں رہنے والوں کی زندگیاں کس قدر سخت ہونگیں ۔ جب تک ان کو وہ حقوق حاصل نہیں ہوتےجو ملک کے دیگر حصوں کو حاصل ہیں اور جب تک ان کو ان کی سیاسی و سماجی شناخت نہیں دی جاتی ۔ تب تک ان قبائلی علاقوں میں کوئی مثبت تبدیلی ناممکن ہے ۔
 

خرم

محفلین
ظفری بھیا آپ کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ تو کیا اس سب کے لئے یہ ضروری نہیں کہ قبائلی علاقوں کی "امتیازی" حیثیت کو ختم کرکے انہیں باقی ملک کی طرح سہولیات سے آراستہ کیا جائے اور وہی قانون رائج کیا جائے جو باقی ملک میں رائج ہے؟ ایک شخص ایک ووٹ کا حق دیا جائے اور ان کی "نیم خودمختارانہ" حیثیت کو ختم کرکے مکمل طور پر پاکستانی علاقہ قرار دیا جائے؟
 
Top