12 اکتوبر 99ء کی اصل کہانی

جاسم محمد

محفلین
12 اکتوبر 99ء کی اصل کہانی
206372_2860279_updates.jpg

فائل فوٹو—

سابق سیکرٹری دفاع جنرل (ر)افتخار سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کی برطرفی اور جنرل ضیاء الدین بٹ کی بحیثیت آرمی چیف کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے لئے وزارت دفاع جارہے تھے کہ انہیں فون آیا کہ وہاں نہ جائیں فوج آگئی ہے آپ جنرل عزیز کے پاس تشریف لے آئیں۔

وہ وہاں پہنچے تو کہا گیا کہ آپ یہاں بیٹھیں جب تک ضابطہ کی کارروائی مکمل نہیں ہو جاتی یعنی وزیراعظم نواز شریف اور ان کی حکومت کا خاتمہ۔

یہ انکشافات ایک عینی شاہد نے کئے جو نواز شریف کے انتہائی قریبی ساتھی رہے۔

دیکھا جائے تو قانونی طور پر نہ مشرف برطرف ہوئے نہ ضیاء الدین چیف بنے۔ کچھ دیر بعد جنرل افتخار کو گھر سے فون آیا کہ فوج نے گھیرا ہوا ہے۔ انہوں نے شکایت کی تو جواب آیا پریشان نہ ہوں ابھی واپس چلی جائے گی۔

اس کے بعد انہیں گھر جانے کی اجازت مل گئی۔ ایک بات جو ان تمام واقعات کے عینی شاہد نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتائی کہ میاں صاحب پہلے خود سمری لے کر صدر کے پاس گئے جس پر لکھا تھا "President May See" اور جواب میں صدر نے لکھا"I have seen" اس کے بعدجنرل افتخار سے میاں صاحب نے کہا کہ آپ اس کا نوٹیفیکیشن جاری کردیں۔

’’میں نے عرض کی میاں صاحب شہباز صاحب برابر والے کمرے میں ہیں آپ ان سے بھی مشورہ کرلیں۔ جواب ملا اب فیصلہ ہوچکا ہے مشوروں کا وقت نکل گیا‘‘۔

تاہم انہوں نے اس تاثر کو رد کردیا کہ مشرف کو بٹھانے کی فوری وجہ اس وقت کوئٹہ کے کور کمانڈر جنرل طارق پرویز بنے۔ ’’میرا نہیں خیال کہ یہ بات درست ہے کیونکہ ان کی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ میاں صاحب شہباز شریف اور جنرل مشرف کی رائے ونڈ ملاقات میں ہوگیا تھا۔

گوکہ جنرل صاحب وہاں تعزیت کے لئے گئے تھے مگر بات چیت کے دوران شہباز صاحب نے جنرل صاحب سے درخواست کی کہ طارق والی بات کرلیں۔ میاں صاحب نے پوچھا کیا ہوا۔

سر، میں چاہتا ہوں طارق کو ریٹائر کر دیا جائے اس کی کچھ سرگرمیاں ادارے کے لئے نقصان دہ ہیں۔ جواب آیا مجھے کوئی اعتراض نہیں، آپ سمری بھیج دیں۔ غالباً 9 اکتوبر کو فیصلہ ہو گیا تھا کہ جنرل طارق 13اکتوبر کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ اسی دن ایک خبر ان کی وزیراعظم سے ملاقات کی چھپ گئی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملاقات ہوئی نہیں تھی۔

البتہ وزیراعظم کو ملاقات کی درخواست ملی تھی۔ وزیراعظم نے خبر پر ناراضی کا اظہار کیا اور ISPRکو ہدایت کی کہ اس کی فوری تردید جاری کی جائے۔ 12اکتوبر کی صبح ان کی پہلی ملاقات سابق وفاقی وزیر اور جنرل طارق کے بھائی نادر پرویز سے ہوئی۔ نادر نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ طارق کل ریٹائر ہو رہا ہے۔

اگر ہوسکے توآج اس سے مل لیں آپ کے پاس درخواست پڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف جو اس دن سری لنکا میں تھے، جانے سے پہلے وزیراعظم سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنی اہلیہ کو بھی لے جانا چاہتے ہیں۔

میاں صاحب نے کہا کیوں نہیں۔ دوسری طرف جنرل مشرف کے ایک قریبی ساتھی جو اس وقت فوج میں اہم عہدے پر فائز تھے،انہوں نے کولمبو جانے سے پہلے اپنے کچھ قریبی ساتھیوں جن میں جنرل محمود، جنرل عزیز، جنرل خالد مقبول اور غالباً جنرل عثمانی کو اعتماد میں لے لیا تھا کہ اگر وزیراعظم کی طرف سے کوئی اعلان ہو تو انہوں نے کیا کرنا ہے۔

دوسری طرف ISIکے سابق چیف جنرل ضیاءالدین کو اندازہ نہیں تھا کہ فوج مشرف کے ساتھ کھڑی ہے۔ کم سے کم اس دن جو ہوا اس سے تو یہی لگتا ہے۔ جب PTVپر اعلان ہوا تو شہباز اور چوہدری نثار حیران تھے کہ میاں صاحب نے یہ کیا کردیا اور وہ بھی بغیر مشاورت کے۔

میاں صاحب کو جب یہ پتا چلا کہ فوج کی اعلیٰ قیادت نے فیصلہ ماننے سے انکار کردیا ہے تو انہوں نے ضیاء الدین سے کہا کہ آپ کی کمان اور اتھارٹی کدھر ہے۔ ان کی حکومت مشرف کا جہاز کراچی میں لینڈ کرنے سے پہلے ہی ختم ہو گئی تھی۔

جنرل مشرف کا تقرر شہباز اور چوہدری نثار علی خان کی سفارش پر ہوا تھا جنہوں نے مری میں ملاقات کے بعد میاں صاحب کو مثبت رپورٹ دی کہ یہ جنرل علی قلی خان کے مقابلے میں بہتر بھی ہے اور کمزور بھی۔

یہ وہی غلطی ثابت ہوئی جو بھٹو صاحب نے جنرل ضیاء الحق کے تقرر کے موقع پر کی تھی مگر تقرر کے چند ماہ بعد ہی کچھ ملاقاتوں سے میاں صاحب کو اندازہ ہو گیا کہ ویسا نہیں ہے جیسا وہ سمجھ رہے تھے۔

کارگل ہوا تو میاں صاحب کو بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کا فون آیا میاں صاحب جو اس وقت کراچی میں تھے جنرل مشرف کو فون کیا اور پوچھا ’’کارگل میں کیا ہواہے‘‘۔

مشرف صاحب نے کہا کہ آپ اسلام آباد آئیں گے تو میں مکمل رپورٹ پیش کردوں گا۔ دو دن بعد راولپنڈی میں آرمی چیف نے اپنی ٹیم کے ساتھ وزیراعظم کو مکمل بریفنگ دی۔ میاں صاحب خوش بھی ہوئے اور دعا بھی کروائی مگر جاتے وقت مشرف صاحب سے کہہ گئے کہ مجھے اعتماد میں لینا چاہئے تھا۔

جنرل مشرف نے 12اکتوبر،99کراچی پہنچتے ہی اپنی اس ٹیم سے بریفنگ لی جس کو وہ پہلے، الرٹ کر گئے تھے۔ اب فیصلہ یہ کرنا تھا کہ مارشل لا لگانا ہے یا کچھ اور۔

رات کو تقریر کا وقت ہوا تو وہاں موجود پی ٹی وی کے افسر اطہر وقار عظیم نے ان سے پوچھا کہ سر، قومی ترانہ تو صرف صدر یا وزیراعظم کی تقریر سے پہلے ہوتا ہے اور آپ تو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی نہیں ہیں۔

انہوں نے زور نہیں دیا اور پہلی تقریر بغیر قومی ترانہ کے ہوئی۔ دوسرے روز انہوں نے جناب شریف الدین پیرزادہ کو طلب کیا اور مشورہ لیا کہ کیا کرناچاہئے۔

انہوں نے کہا مارشل لا لگادیں گے تو دنیا سے ردعمل آئے گا۔ ابھی تو آپ چیف ایگزیکٹو کا عہدہ لیں پھر عدالت سے رجوع کرتے ہیں۔

اس بات کو 20سال ہوگئے۔ میاں صاحب کل بھی جیل میں تھے اور آج بھی۔ مشرف صاحب کل بھی باہر تھے اور آج بھی۔ جمہوریت اور آمریت میں بس اتنا ہی فرق ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
جنرل مشرف کا تقرر شہباز اور چوہدری نثار علی خان کی سفارش پر ہوا تھا جنہوں نے مری میں ملاقات کے بعد میاں صاحب کو مثبت رپورٹ دی کہ یہ جنرل علی قلی خان کے مقابلے میں بہتر بھی ہے اور کمزور بھی۔
یہ وہی غلطی ثابت ہوئی جو بھٹو صاحب نے جنرل ضیاء الحق کے تقرر کے موقع پر کی تھی مگر تقرر کے چند ماہ بعد ہی کچھ ملاقاتوں سے میاں صاحب کو اندازہ ہو گیا کہ ویسا نہیں ہے جیسا وہ سمجھ رہے تھے۔
بھٹو اور نواز شریف دونوں نے انتخابات میں دو تہائی اکثریت لینے کے باوجود کمزور ترین جرنیل آرمی چیف لگایا۔ اس تعیناتی کا مقصد فوج کی بہتری نہیں بلکہ اپنی حکومت کا بقاء تھا۔ اس بدنیتی کی سزا دونوں لیڈران کی قائم کردہ سیاسی جماعتیں تا حال بھگت رہی ہیں۔
 
Top