“میں“

F@rzana نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 22, 2006

  1. رضوان

    رضوان محفلین

    مراسلے:
    2,668
    بہت اچھے محب ہوگئی درجہ بندی اب۔۔۔۔۔۔
    کچھ تو آگے بھی بڑھائیں
     
  2. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,408
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بڑھاتیں ہیں رضوان ، ذرا کچھ ذہن میں تو آنے دیں۔

    باقی سب کو دعوتِ‌ عام ہے میں اکیلا ہی تو نہیں۔ آپ نے تاجر طبقہ کی میں کی خوب نشاندہی کی ہے ، فرزانہ نے حکمراں طبقہ کو چھیڑا ہے میں عہدیداروں پر کچھ روشنی ڈالوں گا ۔ چلیں ابھی کر لیتا ہوں، میرے ایک انکل ہیں فوج میں۔ ان کا کہنا ہے کہ سب عہدیدار رینک کے حساب سے خدا بنے بیٹھے ہیں ،

    نائب صوبیدار کا خدا صوبیدار
    لیفٹیننٹ خدا کیپٹن
    کیپٹن کا خدا میجر
    میجر کا خدا کرنل

    کوئی عہدیدار سچ سننے کو تیار نہیں اور کوئی ماتحت سچ کہنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ عہدیدار اپنے حکم کو خدائی حکم سے کم نہیں سمجھتے اور جس طرح خدا کے حکم کی خلاف ورزی پر گناہ اور سزا ہوتی ہے اس طرح عہدیداروں کی نافرمانی پر بھی سزا ہوتی ہے۔ یہی طبقہ جب حکومت میں آجاتا ہے تو اسی روش ملک بھی چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ “میں“ ان میں ختم نہیں ہوتی نہ ہی کوئی مثبت شکل لے پاتی ہے۔
     
  3. شارق مستقیم

    شارق مستقیم محفلین

    مراسلے:
    894
    آسانیاں تقسیم کرو

    مجھے محسوس ہوا ہے کہ فرزانہ کو اس موضوع سے شغف بھی ہے اور علم بھی۔ میری درخواست ہوگی کہ وہ اس موضوع کو سوالات اٹھا کر الجھانے کی بجائے ایک جامع پوسٹ سے معاملے کو حل کریں۔ جیسے اشفاق صاحب کہتے ہیں کہ آسانیاں تقسیم کرو۔
     
  4. اظہرالحق

    اظہرالحق محفلین

    مراسلے:
    639
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    کافی دنوں بعد جب اس طرف آیا تو دیکھا کہ میں میں ۔ ۔ لگی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ ادھر سے کچھ عرصہ غائب ہونے کی وجہ بھی “میں“ ہی تھی ۔ ۔
    “میں“ ۔ ۔ ۔ اصل میں یہ لفظ ایک سچائی کو بیان کرتا ہے ، ایک اکائی کو بیان کرتا ہے ، جسے ہم منفرد کہتے ہیں ، انسان جب “میں“ کا مصدر استعمال کر رہا ہوتا ہے تو اسکا مطلب اسکی اکائی یا بزبان فرنگی ‌Uniqeness کو ظاہر کر رہا ہوتا ہے ، یہ منفرد ہونے کا احساس ہی انسان کو میں کا استعمال کرنے پر مجبور کرتا ہے ، یہ الگ بات ہے کہ وہ اس میں کو تفاخر سے یا پھر عاجزی سے استعمال کرتا ہے ۔ ۔ ۔

    ایک دوست نے اسے حکمران اور تاجروں کے لئے بتایا ہے جبکہ حکمران اور تاجر دونوں ہم کا مصدر استعمال کرتے ہیں ۔ ۔ کیونکہ اس میں فخر کا عنصر ہوتا ہے ، اور گروہ کا (جو ان کی دسترس اور رعیت میں ہوتا ہے)

    مذہبی نقطہ نگاہ بہت واضح ہے ، اللہ کو فخر نہیں عاجزی پسند ہے اور میں عاجزی کو بھی ظاہر کرتا ہے اور میں ایک شکر کا طریقہ بھی ہے کہ اے اللہ تو نے مجھے اکائی بنایا اور پھر بھی ایک معاشرہ کا حصہ بنایا ۔ ۔۔ تو یہ میں ایک شکر کا طریقہ بھی ہے

    معاشرہ بہت ساری اکائیوں سے مل کر بنتا ہے ، یعنی بہت ساری “میں“ سے ، مگر اس میں ہر “میں“ کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے ، کہ اسی کردار ادا کرنے کے طریقے کو مختلف نظاموں نے مختلف نظر سے دیکھا ہے ۔ ۔۔ ۔ اشتراکیت کو لے لیں وہ اکائیوں کو اکھٹا کرتے ہیں اور پھر انہیں “میں“ نہی رہنے دیتے “ہم“ کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ جس وجہ سے ۔ ۔ ۔ معاشرہ ۔ ۔ جبر کا شکار ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ سوشلزم کو دیکھیں یا پھر کیمونزم کو ہر جگہ میں کو ہم کر دیا جاتا ہے جس سے فرد اپنی شناخت کھو دیتا ہے اور وہ معاشرے میں اپنا کردار ادا نہیں کر پاتا ۔ ۔ ۔ جو فساد کا بعث بنتا ہے ۔ ۔ ۔

    مذہب میں کو اچھی طرح سمجھتا ہے ، وہ انفرادی حالت کو سدھارتے ہوئے اور اسکی اہمیت کو قائم رکھتے ہوئے ایک ایک اکائی کو اپنی جگہ پر رکھتا ہے ۔ ۔ ۔اور پھر جو معاشرہ تشکیل پاتا ہے وہ برداشت اور تحمل کی مثال بنتا ہے ، کہ میں کا ادراک رکھنے والی اکائی اپنی انفرادیت جانتی ہے اور اپنی حدود بھی اسلئے دوسری اکائی کو موقعہ ملتا ہے اور اس طرح اکائیاں (یا میں ) آپس میں مل جاتی ہیں ۔ ۔

    صوفیا نے اس میں پر بہت کچھ کہا ہے جیسے شاہ لطیف کہتے ہیں کہ میں تو میں نہیں وہ ہی ہوں ، یعنی مجھ میں تو موجود ۔۔ ۔بھلے شاہ بھی اپنے اندر رب کو بیان کرتے ہیں ، رحمان بابا بھی کہتے ہیں کہ میں ہی سب کچھ ہوں اور میں میں نہی تو ہے ۔ ۔ ۔

    الف اللہ چنبے دی بوٹی ، مرشد من وچ لائی ہو
    نفی اثبات کا پانی چڑھیا ، ہر جگہے ہر جائی ہو

    یہ نفی اثبات ہی ۔ ۔۔ میں ہے ۔ ۔ ۔

    ایک کتاب ہے “عرفان“ کے نام سے اس میں ایسے بہت ساری باتیں ہیں جو “میں“ کو بیان کرتی ہیں اسکے علاوہ ۔ ۔ ۔ فرائیڈ جیسے فلسفی بھی “میں“ میں الجھتے رہے ، اور خود کو ہی محور بنا کر سب باتیں کہ ڈالیں ، موپاساں بھی میں کے چکر میں اپنی بات کہتا ہے ، دوستوسکی نے اپنے ناول “ایڈیٹ“ میں ، پرنس میشکن کا کردار اس میں کو ہی ختم کر کہ بنایا تھا ۔ ۔ ۔ ۔جو اکائی تھا اکیلا بھی تھا مگر سوسائیٹی کا حصہ بھی بنا مگر اسکی میں کو کوئی نہ سمجھا ۔ ۔ ۔

    اور جب بندہ اصل “میں“ کو سمجھتا ہے تبھی کہتا ہے

    رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی
    سدو نی میں کہ کہ رانجھا ، ہیر نہ آکھو کوئی


    میرے خیال میں میں نے کافی “میں میں“ کر لی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ امید ہے آپکو میری “میں میں “ میں کچھ تو سمجھ آیا ہو گا :p
     
  5. اظہرالحق

    اظہرالحق محفلین

    مراسلے:
    639
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    آپ کی پوسٹ دیکھکر پی ٹی وی کا ڈرامہ اندھیرا اجالا یاد آ گیا جب ڈی ایس پی جعفر حسین(انسپیکٹر) کو ڈانٹتا ہے تو جعفر حسین میاں خان(سب انسپیکٹر ) کو سناتا ہے اور میاں خان پھر کرم داد (ڈائریکٹ حوالدار ) کی خبر لیتا ہے اور کرم داد کو ملتا ہے کاکا شپائی اللہ دتہ اسکو صلواتیں سناتا ہے ، اللہ دتہ کو ملتا ہے تھانے کا خاکروب اور اس بے چارے کی شامت آ جاتی ہے اور خاکروب کا بس کہیں نہیں چلتا تو وہ تھانے کی اکلوتی لائباٹری (بلی) پر جھاڑو دے مارتا ہے ۔ ۔ ۔ اب آگے بلی کا پتہ نہیں ۔ ۔ ۔کیا ہوا
     
  6. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,408
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    آسانیاں تقسیم کرو

    شارق فلسفہ کا بنیادی مقصد ہی سوال اٹھانا ہوتا ہے ، جواب تو آتے رہیں گے مختلف صورتوں میں اور مختلف حوالوں سے۔ سماجی علوم کا کوئی ایک جواب کبھی بھی سند یا سیر حاصل نہیں ہوتا، بہت سے جواب مختلف صورتوں اور حالات کے مطابق صحیح قرار پاتے ہیں۔ موضوع الجھ نہیں رہا بلکہ اگر غور کریں تو نئے رخ تلاش کر رہا ہے اور آہستہ آہستہ سلجھنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ابھی نکتہ نظر تو جمع ہو لینے دیں پھر حل کی طرف بھی چلتے ہیں بتدریج ، خاصا عمیق اور دقیق موضوع ہے اسے کچھ وقت دیں۔
     
  7. شارق مستقیم

    شارق مستقیم محفلین

    مراسلے:
    894
    بڑی گھبراہٹ

    درست کہا محب مگر ایسی بحث جس میں مسئلے کی نشاندہی کے بعد کسی معقول تشخیص اور دوا علاج کا ذکر نہ ہو مجھے اس سے بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے کیونکہ اس سے زندگی میں ایک اور ٹینشن کا اضافہ ہوجاتا ہے :)

    اظہر تمہاری پوسٹ بھی دلچسپ ہے، پڑھ کر لطف آیا۔ اندازہ ہوا کہ معاملہ خاصا گہرا ہے۔
     

اس صفحے کی تشہیر