’یومِ علی کا جلوس نکلا، تو جمعہ الوداع سڑکوں پر‘: کراچی ایسا تو نہیں تھا

جاسم محمد نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 22, 2020

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    21,850
    ’یومِ علی کا جلوس نکلا، تو جمعہ الوداع سڑکوں پر‘: کراچی ایسا تو نہیں تھا
    جعفر رضوی صحافی، لندن
    • 4 گھنٹے پہلے
    [​IMG]
    تصویر کے کاپی رائٹAFP

    چہرے پر شدید غصّہ، آنکھوں میں بھرپور ردعمل، آواز میں سنگین دھمکی ، گردن کی رگیں پھولی ہوئی، ماتھے پر سلوٹیں ، تنی ہوئی بھنویں شدت جذبات سے سرخ گال۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہوجانے والے اس شخص کے ویڈیو کلپ اور اس کے پس منظر میں کھڑے ہوئے ہجوم کی جانب سے اس کی حمایت اور تائید میں بلند ہونے والے نعرے اور شور کسی کو بھی پریشان اور خوفزدہ کرنے کے لئے کافی تھے مگر اس سب نے خوفزدہ اور پریشان کرنے کی بجائے غمزدہ اور اداس کر دیا۔

    تسلی تو اپنے آپ کو یہی دی کہ درحقیقت کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کی (جبری) بندش کی وجہ سے یہ ردعمل دراصل لوگوں کی بڑھتی ہوئی مالی پریشانیوں اور معاشی ذمہ داریوں کا مظہر ہے۔

    اس شخص اور اس کے حامیوں کی تشویش و پریشانی کچھ اور ہے، غصّہ کسی اور پر ہے اور نکل کہیں اور رہا ہے مگر 40 سیکنڈ سے بھی کم دورانیے کے اس کلپ نے ذہن کو 40 برس پیچھے دھکیل دیا۔

    یہ شہر اور اس کے رہنے والے لوگ جیسے آج اس کلپ میں دکھائی دیے ایسے ہرگز نہیں تھے۔

    میں اسی کراچی کے وسطی علاقے ناظم آباد میں پیدا ہوا۔ وہ (اس وقت کے) ملک کے سب سے بڑے میڈیا ہاؤس، جنگ گروپ کے نیوز ایڈیٹر ظفر رضوی کا گھر تھا۔ ابّی (ظفر رضوی) ملک کے نامور صحافی تھے۔ پاکستان میں کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ رہے تھے اور اپنے سیاسی رجحانات کی وجہ سے قطعاً مذہبی نہیں تھے۔ فقہی سرگرمیوں اور رسومات سے انھیں کوئی رغبت یا دلچسپی نہیں تھی۔

    امّاں (والدہ) ایک روایتی عزادار شیعہ ضرور تھیں مگر ہمارے گھر، محلّے اور شہر کا ماحول قطعاً مذہبی نہیں تھا اور شاید انھی وجوہات کی بنا پر گھر ہو یا محلہ ، شہر ہو یا مضافات ، کہیں دور دور تک فرقہ واریت ، عدم برداشت یا طاقت و تشدد کا نام بھی نہیں سنا تھا۔

    ہوش سنبھالا تو محلّے بھر میں 12 ربیع الاوّل کے میلاد پر تقسیم کیا جانے والا مال پوڑہ ، محرم کی مجلس کی شیرمال ہو یا صفر کے جلوس کا دودھ کا شربت ، گیارہویں شریف کی بالو شاہی ہو یا رمضان المبارک میں مسجد کی افطار کے پکوڑے، سب کچھ سانجھا اور مشترک تھا۔

    سنّی مسجد کی افطار میں پکوڑے اور سموسے زیادہ اچھے ہونے کی اطلاع پر تمام شیعہ بچے بھی اس مسجد میں روزہ افطار کرنے بے دھڑک جاسکتے تھے۔

    [​IMG]
    تصویر کے کاپی رائٹAPP
    Image caption شیعہ بچے محرم میں پانی کی سیاہ رنگ کی سبیل لگاتے تھے اور سنّی بچے سرخ رنگ کی مگر نہ نفرتوں کی سیاہی دلوں میں تھی نہ فرقہ واریت کی سرخی چہروں پر

    شربت اور مٹھائی صرف میٹھے ہوتے تھے اور حلیم ، بریانی اور پکوڑے صرف چٹ پٹے۔ کچھ بھی شیعہ، سنّی، دیو بندی یا بریلوی نہیں تھا۔

    شیعہ بچے محرم میں پانی کی سیاہ رنگ کی سبیل لگاتے تھے اور سنّی بچے سرخ رنگ کی مگر نہ نفرتوں کی سیاہی دلوں میں تھی نہ فرقہ واریت کی سرخی چہروں پر۔

    سنّی دوستوں کی سرخ سبیل شیعہ بچے اپنے ہاتھوں سے لگاتے تھے اور شیعہ جلوس کے راستے میں سیاہ جھنڈے اور بینرز سنّی دوستوں کی گیلری اور چھجوں میں باندھنے جاتے۔

    ہر پڑوسی کو دوسرے پڑوسی کا مسلک یا فقہ سوچے سمجھے بغیر کھانا پکاتے میں نمک یا شکر کم پڑجانے کی صورت میں پڑوس سے بلاتکلف مانگ لینے کی سہولت دن و رات حاصل تھی۔ تب تک کسی دوسرے فقہ کے پڑوسی کا ہاتھ لگ جانے سے برتن ’نجس‘ یا ’ناپاک‘ نہیں ہو جاتے تھے۔

    صرف مذہبی رسوم و تقریبات ہی نہیں بلکہ شہر کے ہر محلّے میں میوزیکل کنسرٹس اور انسٹرومینٹل فنکشنز باقاعدگی سے ہوتے تھے۔

    گٹار، ڈھول، کانگو اور کی بورڈ سے شیعہ اور سنّی دیوبندی اور بریلوی تمام گھرانوں میں صرف موسیقی کے سر و تال پھوٹتے تھے۔ بھائی چارے اور اجتماعی اپنائیت کے سینے پر فرقہ واریت کا ماتم تب تک شروع نہیں ہوا تھا۔

    1980 کی دہائی کے آغاز تک سب کچھ بالکل ایسا ہی تھا کہ اچانک ملک کے اندر اور باہر زبردست انقلابی تبدیلیاں اور واقعات رونما ہوئے۔

    پانچ جولائی 1977 کو جنرل ضیاالحق کی زیر کمان فوج نے پاکستان کے منتخب وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا۔ پاکستان میں اقتدار پر فوج کے اس قبضے نے ابھی اپنا رنگ صحیح سے دکھایا بھی نہیں تھا کہ 1979 میں مغربی پڑوسی افغانستان میں بھی سیاسی طوفان آ گیا۔

    اس وقت دنیا میں طاقت کے دو مراکز تھے ، مغرب میں امریکہ اور مشرق میں اس کا اشتراکی حریف روس۔ 24 دسمبر 1979 کو روسی فوج اپنے حکمران صدر لیونڈ بریژنیف کے حکم پر اس وقت کی افغان کمیونسٹ پارٹی کی حکومت اور سیاسی نظام کو بچانے کے لیے افغانستان میں جا گھسی۔

    ابھی یہ خطّہ اس تبدیلی سے گزر ہی رہا تھا کہ 11 فروری 1979 کو پاکستان کے ایک اور مغربی پڑوسی ایران میں روح اللّہ خمینی کی قیادت میں حکمران رضا شاہ پہلوی کا تختہ الٹ دیا گیا اور ایک "شیعہ اسلامی انقلاب" کا اعلان کر دیا گیا۔

    [​IMG]
    تصویر کے کاپی رائٹGetty Images
    Image caption ’پیسے کے ایندھن سے چڑھائی جانے والی فساد کی ہانڈی میں 'دینی ماحول' کا جو تڑکا جنرل ضیاالحق کے دور میں لگا اس میں امن کی فاختہ بےچاری زندہ ہی جل مری‘

    ان تمام واقعات نے عالمی طاقتوں کے مفادات کو ایک نیا رخ دیا اور خطّے میں عالمی کھلاڑیوں کی ایک نئی صف بندی شروع ہوئی۔

    امریکہ نے افغانستان میں روس کی مداخلت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے افغان عوام کو مزاحمت پر اکسایا اور اس کھیل میں پاکستان میں قائم جنرل ضیا کی فوجی حکومت امریکہ کی فرنٹ لائن اتحادی بنی۔

    پاکستانی فوج اور اس کے خفیہ اداروں نے افغانستان میں پشتون جنگجو سرداروں کی قیادت میں مزاحمتی گروہ تشکیل دینے میں امریکہ کی بھرپور مدد کی اور اس کے صلے میں زبردست مالی امداد اور سیاسی حمایت حاصل کی۔

    امریکہ نے روس کے خلاف اس جنگ کا میدان پاکستان میں سجایا اور پاکستانی فوج سے مدد ، اسلحہ اور تربیت حاصل کرنے والے افغان جنگجو گروہ "مجاہدین" بن کر دنیا کے سامنے آئے۔ زیادہ تر افغان جنگجو گروہوں میں شامل مزاحمت کار مسلک کے لحاظ سے دیوبند فرقہ سے تعلق رکھتے تھے اور پاکستان میں بھی اس سوچ کے لوگ طاقت کی راہداریوں میں موجود تھے۔

    ایران میں ’شیعہ انقلاب‘ نے ایک اور عالمی کھلاڑی سعودی عرب کے حکمران شاہی خاندان آلِ سعود کے لیے ’خطرے کی گھنٹی‘ بجائی اور سعودی عرب نے بھی ایران کا مقابلہ پاکستان میں کرنے کی ٹھانی۔

    خود سعودی شاہی خاندان مسلک کے اعتبار سے وہابی تھا اور اسے پاکستان اور افغانستان میں ایسے ’دوستوں‘ کی تلاش تھی جو ایران کا مقابلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔

    سعودی عرب کو بھی اس دنگل کی قیمت پاکستان کی فوجی حکومت کی زبردست مالی مدد اور سیاسی حمایت کرکے ادا کرنی پڑی۔

    اب میدان بالکل تیار تھا۔ خطّے میں اپنے اپنے ارادوں کی تکمیل کے لیے سب کو صرف پاکستان کی ضرورت تھی اور پاکستان ہی سب کی مشکل حل کرسکتا تھا۔

    پاکستان کی حکمران جنرل ضیا کی فوج کو اپنے اقتدار کو جاری رکھنے کے لیے صرف دو چیزوں کی ضرورت تھی، پیسہ اور سیاسی حمایت۔ پاکستان میں موجود موقع پرست قوتوں کو بھی پیسے اور طاقت کی زبردست اشتہا تھی اور کھیل کے باقی تمام کھلاڑیوں کے پاس ان دونوں چیزوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔

    [​IMG]
    تصویر کے کاپی رائٹAFP

    ایران سے آنے والے دیناروں کی ریل پیل نے ملک میں شیعہ حلقوں کو منظم، متحرک اور مضبوط کیا اور پاکستان میں شیعہ سیاست کی بنیاد رکھی۔ آنے والے دنوں میں اس کے نتیجے میں شیعہ فرقہ میں موجود موقع پرستوں کے لیے سیاسی طاقت اور اسلحہ حاصل کرنے، تنظیموں، سپاہ اور تحاریک کے قیام کے راستے کھول دیے۔

    دوسری جانب سعودی عرب کے ریال کی برسات نے وہابی سوچ رکھنے والے حلقوں کو مدارس، مساجد، تنظیمیں، لشکر وغیرہ کی تعمیر و تشکیل کی راہ ہموار کی۔

    امریکہ سے آنے والی ’پیٹرو ڈالر‘ کی ’امداد‘ نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔

    پیسے کے ایندھن سے چڑھائی جانے والی فساد کی اس ہانڈی میں ’دینی ماحول‘ کا جو تڑکا جنرل ضیاالحق کے دور میں لگا اس میں امن کی فاختہ بےچاری زندہ ہی جل مری۔

    خراج ادا کرنا پڑا بھائی چارے کی اُس فضا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو جو پاکستان سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔

    سیاست کے گلے میں بندھی ہوئی ٹائی کو نام نہاد مذہبی جنون کے سر پر بندھی ہوئی پگڑی کی اہمیت کا اندازہ تب ہوا جب امریکی صدر رونلڈ ریگن نے پاک افغان سرحد کے دونوں جانب متحرک جنگجو سردار جلال الدین حقانی کے ساتھ وہائیٹ ہاؤس میں تصویریں کھنچوائیں۔

    جنرل ضیا کی فوجی حکومت نے افغان جنگ کے متاثرہ پناہ گزینوں کو پاکستان کے اندر قیام کی اجازت دی تو پاکستانیوں نے پہلی بار وہ کلاشنکوف رائفل قریب سے دیکھی اور جس کی گھن گھرج میں پاکستانیوں کی نعتوں اور مرثیوں کی آواز دب کر رہ گئی۔

    اب ہر طرف فرقہ وارانہ گروہوں کے درمیان طاقت کی رسہ کشی شروع ہوئی۔ ہر فرقے کے نوجوانوں کو اسلحے ، طاقت اقتدار اور اختیار کی چمک دمک نے خیرہ کرنا شروع کیا۔

    جیسے جیسے امام بارگاہوں اور مساجد کی تعداد بڑھنی شروع ہوئی ویسے ویسے ہی داڑھیوں کی تراش بدلنے لگی اور انسان کی شناخت شلوار پہننے کے انداز سے کی جانے لگی۔

    کراچی میں لیاقت آباد (لالو کھیت) اور ناظم آباد کے شیعوں نے انچولی اور جعفر طیار جیسی آبادیوں کا رخ کیا اور سنیوں نے بنوری ٹاؤن اور ناگن چورنگی کا رستہ لیا۔

    نئی کراچی کے شفیق موڑ جیسے محلّوں میں میلاد اور تراویح کے اجتماعات شروع ہوئے اور گلشن اقبال، عباس ٹاؤن سے لے کر لانڈھی تک گھروں کے اندر ہونے والی مجالس اور نذر و نیاز کی قناتیں سڑکوں پر لگنا شروع ہو گئیں۔

    [​IMG]
    تصویر کے کاپی رائٹGetty Images

    ملک میں ماحول کو ’مذہبی‘ بنانے کی خاطر کھلے بندوں اور ڈھکی چھپی سرکاری سرپرستی میں شیعہ، سنّی، دیوبندی، بریلوی تمام فرقوں کی ان تمام تقاریب و اجتماعات میں لینڈ کروزرز جیسی گاڑیوں میں سعودی عباؤں اور ایرانی دستاروں میں ملبوس ’علمائے دین‘ کی آمد شروع ہوئی تو ان کی ’حفاظت‘ کے لیے ساتھ چلنے والے مسلح محافظوں کے ہاتھوں میں چمکتی ہوئی بندوقوں اور پستولوں نے عام آدمی کو ان سے کنارہ کش رہنے کی ترغیب دی۔

    یہ تو یاد نہیں کہ طاقت اور کشمکش میں پہلا قتل کس فرقے کے انسان کا ہوا مگر پہلی لاش فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی گری تھی۔

    ہر گلی محلّے کی آبادیوں میں ایک دوسرے سے الگ رہنے کا نیا سلسلہ شروع ہوا اور ان سماجی فاصلوں نے اس دوری کو جنم دیا جس نے بھائی جیسے دوستوں کو پہلے گلے ملنے سے روکا، پھر گلے کاٹنا سکھا دیا۔

    اور ان حالات میں جب یہ آسیب پاکستان کے معاشرے کو نگل رہا تھا ہم جیسوں کو اپنی تعلیم مکمل کرنی پڑی۔ کراچی یونیورسٹی سے ابلاغ عامہ (ماس کمیونیکیشنز) میں ماسٹرز کی ڈگری لے ہی رہے تھے کہ جنگ گروپ کے انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ میں کراچی کے کرائم رپورٹر کی ملازمت کی پیشکش ہوئی۔

    یوں 1995 میں کراچی یونیورسٹی کی آرٹس لابی کو آخری بار دیکھا اور تشدد ، تعصب اور تنگ نظری کو پہلی بار۔

    1990 کی دہائی کا یہ وسط کبھی بھلائے نہیں بھول سکتا۔ پیشہ ورانہ مجبوریوں کے تحت خبر لکھنے کے لیے ایک گھر سے چار شیعہ بھائیوں کی لاشیں اٹھتے دیکھیں تو ایک مدرسے کے گیارہ طلبا کو مردہ دیکھنا پڑا۔

    روزانہ ایسے خون آلود مقامات پر خود کو گھسیٹ کر لے جانے کی یہ تکلیف دہ مشق بہت دیر جاری رہی۔ کئی واقعات کی کوریج کے بعد تو یہ لگا کہ شاید اب خون ، لاش، گولیوں سے چھلنی دیواریں یا گاڑیاں کوئی اثر ہی نہیں کرتے۔ شاید حواس نے کام کرنا ہی بند کردیا ہے۔

    اس زمانے میں شہر کے اخبارات کے کرائم رپورٹرز لاشوں کی تعداد کی تصدیق ایک دوسرے سے کرنے کے لیے ’سکور‘ پوچھتے تھے۔

    ’ہاں بھئی کیا سکور ہے آج کا‘ یعنی کتنی لاشیں ہیں آج جو خبر کا حصّہ بنیں گی۔

    مسجدوں ، امام بارگاہوں سڑکوں اور شاہراہوں پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی جانے والی مسلح جتھوں کی ان منظم وارداتوں نے ہر فرقے اور مسلک کے پیروکار، ڈھیروں دوست اور چاہنے والے چھین لیے۔

    اب کسی فرقے کا کوئی نمایاں یا غیر معروف پیروکار محفوظ نہیں تھا۔

    [​IMG]
    تصویر کے کاپی رائٹAFP

    سنّی تحریک کے رہنما محمد عباس قادری ہوں یا تحریک عوام اہلسنت کے حاجی حنیف بلّو، تحریک جعفر یہ کے رہنما حسن ترابی ہوں یا دیوبند فرقہ کے مفتی نظام الدین شامزئی اور مفتی جمیل ہوں یا جامعہ بنوریہ ٹاؤن کے مولانا یوسف لدھیانوی کراچی کی سڑکوں نے ان سب کا خون بہتے دیکھا۔

    دیوبند فرقے کی عالمی شہرت یافتہ درسگاہ جامعہ بنوریہ ٹاؤن سے وابستہ مفتی جمیل، مفتی شامزئی اور تحریک عوام اہلسنت کے رہنما حاجی حنیف بلّو ہوں یا سنّی تحریک کے سربراہ سلیم قادری یا پھر تحریک جعفر یہ کے رہنما حسن ترابی ان سب نے مشکل اور کٹھن حالات میں خبروں کو دی نیوز، جیو ٹی وی اور بی بی سی کے ذریعے دنیا تک پہنچانے میں کب کب اور کیسے کیسے مدد کی یہ تو شاید کئی برس میں بھی یاد نہ آسکیں لیکن ان بہت سے پیارے دوستوں کی لاشوں کو آنکھوں کے سامنے خون میں لت پت دیکھنے کے مناظر شاید کئی دہائیوں تک بھلائے نہیں جاسکتے۔

    جلد ہی ان بندوقوں کا رخ مسیحا صفت ڈاکٹرز کی طرف ہوا اور صرف اکتوبر 1999 کے پہلے ہفتے میں ہی مختلف فرقوں کے قریباً 32 ڈاکٹرز دہشت گردی کی ان وارداتوں میں قتل کر دیے گئے۔

    دھندلا دھندلا یاد ہے کہ غالباً 18 مارچ 2002 کو جنوبی علاقے میں واقع جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کے قریب قائم کڈنی سینٹر کے معروف سربراہ ڈاکٹر جعفر نقوی جب ایسے ہی ایک مسلح حملے میں محفوظ رہے تو خبر کی تفصیل جاننے کی کوشش میں ان کے موبائل فون پر کال کی مگر گھنٹی بجنے پر فون ڈاکٹر جعفر نقوی صاحب کی بجائے ان کے دوست اور عالمی شہرت یافتہ پاکستانی ڈاکٹر اور گردوں کے علاج اور ٹرانسپلانٹ کے لیے دنیا بھر میں معروف سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ (ایس آئی یو ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے اٹھایا۔

    ڈاکٹر ادیب صاحب پھٹ پڑے، ’کہہ دو ان (قاتلوں) سے کہ مار ڈالو ہم سب (ڈاکٹرز) کو، پھر ترستے رہنا علاج کے لیے۔۔۔‘ ڈاکٹر ادیب رضوی بہت غصّے میں تھے۔

    2002 میں متعارف کروائی جانے والی پولیس ریفارمز کے تحت کراچی پولیس اب چھ اضلاع میں تقسیم ہے اور ایک ایڈیشنل انسپکٹر جنرل رینک کے افسر کی کمان میں کام کرتی ہے اور پولیس کا سربراہ اب کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر یا سی سی پی او کہلاتا ہے۔

    مگر اُن دنوں ایک ڈپٹی انسپیکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کراچی پولیس کا سربراہ ہوتا تھا اور شہر پانچ اضلاع میں تقسیم تھا۔ ہر ضلعے کا سربراہ ایک سینیئر سپریٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ہوتا تھا۔

    ایس ایس پی علیم جعفری نے (جن کا نام شیعوں جیسا ضرور تھا مگر وہ شیعہ نہیں تھے) جب ضلع شرقی کے ایس ایس پی کا عہدہ سنبھالا تو ایک روز انھوں نے فون کیا۔

    ’ہم نے ڈاکٹر آلِ حسن زیدی اور ان کے بیٹے کو قتل کرنے والے قاتل گرفتار کیے ہیں۔ انٹرویو کرنا چاہو تو آ جاؤ۔ گاڑی بھجوا رہا ہوں۔‘

    ذرا ہی دیر میں ان کے ڈی ایس پی علی رضا (جو اب ایس ایس پی ملیر کے عہدے پر تعینات ہیں) گاڑی لے کر آئے۔

    تھانہ شاہ فیصل کالونی کی حوالات میں قید اس مبینہ قاتل کی عمر حیرت انگیز طور پر محض 21، 22 برس کی ہو گی۔ ڈی ایس پی علی رضا نے جب اس ہتھکڑی لگے ملزم کو پیش کیا تو وہ بہت ڈرا ہوا لگ رہا تھا۔

    مگر جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا محض فرقے کے مختلف ہونے کی بنیاد پر کسی کو قتل کردینا درست ہے تو اس نے بغیر کسی جھجک کہ بڑے پر یقین لہجے میں کہا ’ہاں‘۔

    یہ بتانے پر کہ ڈاکٹر آلِ حسن زیدی شیعہ نہیں تھے اس نے کہا، ’ہاں سر، غلطی ہوگئی‘۔ اس کا لہجہ سن کر رگ و پے میں جو سنسنی دوڑی تھی وہ آج بھی دہلا دیتی ہے۔

    [​IMG]
    تصویر کے کاپی رائٹAFP
    Image caption کراچی میں یومِ عاشور کے جلوس پر بم حملے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے

    کراچی ایسا کبھی نہیں تھا۔ تو پھر کیسا تھا کراچی؟

    یہ یاد دہانی کروائی کراچی میں سنّی فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی پر گزرنے والی قیامت اور شہر کے دو غیر مسلم شہریوں کے سوالات نے۔

    28 دسمبر 2009 کو کراچی میں دس محرم کو یوم عاشور کے جلوس پر بم سے حملہ ہوا اور قریباً 43 شرکا کی جان چلی گئی۔

    جرائم سے متعلق جیو ٹی وی کے پروگرام ’ایف آئی آر‘ کے میزبان اور صحافی فہیم صدیقی نے اس بم دھماکے میں اپنا ایک کمسن بیٹا بازل، اپنی ایک کم عمر بھانجی اور اپنی دونوں ٹانگوں کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا ۔

    اس واقعے پر جب تعزیت اور عیادت کے لیے نارتھ کراچی کے نازیہ سکوائر میں واقع فہیم صدیقی کے فلیٹ پر پہنچے تو تمام الفاظ فہیم صدیقی کے نقصان کے سامنے ہیچ لگے۔

    کوئی لفظ فہیم کے غم کا مداوا نہیں کر سکتا تھا،کوئی بھی لفظ!

    رندھے ہوئے گلے اور ڈبڈباتی آواز سے فہیم کا غم بانٹنے کی کوشش کی تو ہمت نے ساتھ چھوڑ دیا اور بہتے آنسوؤں کے اس طرف فہیم کا چہرہ دھندلانے لگا۔

    ایسے میں کسی نے سوال کیا،’فہیم تو سنّی ہے ناں تو وہ اپنے خاندان اور بچوں کے ساتھ شیعوں کے جلوس میں کیا کررہا تھا؟‘

    دل تو چاہا کہ پلٹ کر سوال کرنے والے کو جواب دیا جائے کہ ہاں ایسا تھا کراچی، ایسا جہاں سنّی، شیعہ، دیو بندی، بریلوی سب کا سب کچھ سانجھا تھا مشترک تھا۔

    دس محرم بھی، 11ویں شریف بھی اور 12 ربیع الاوّل بھی۔ سب کچھ، سب کا تھا۔ یہ فرقہ واریت سے پاک کراچی کی پہلی یاددہانی تھی۔

    2012 میں بی بی سی کی سیریز ’دہشت گردی کے پاکستان پر اثرات‘ کے سلسلے میں پاکستان کی اقلیتوں پر کام کرتے ہوئے شہر کے جنوبی علاقے میں عبداللّہ ہارون روڈ پر واقع ’ہولی ٹرینٹی کیتیھڈرل‘کے اوپری حصّے میں اپنے گھر پر چائے پلاتے ہوئے مسیحی برادری (عیسائیوں) کے مذہبی پیشوا بشپ آف کراچی اعجاز عنایت صاحب نے کہا تھا ’یاد ہے ایک زمانہ تھا جب ہم لوگ عید کی سویّاں کھانے تمہارے گھروں میں آتے تھے اور تم لوگ کرسمس پر کیک لاتے تھے ہمیں مبارکباد دینے کے لیے۔ یاد ہے ناں؟‘

    تو دوسری بار یاد آیا کہ ہاں کراچی ایسا بھی تھا۔

    [​IMG]
    تصویر کے کاپی رائٹReuters

    تیسری یاد دہانی ایک مندر میں کروائی گئی۔ بی بی سی کی اسی سیریز پر کام کرتے ہوئے شہر کے جنوب میں ہی واقع نشتر روڈ پر ہندوؤں کے دو محلّوں، رام سوامی اور نارائن پورہ میں جانے کا اتفاق ہوا تھا۔

    نارائن پورہ کے مندر ’شِیو شنی دیو دربار‘ میں اس فرمائش پر کہ اس دستاویزی فلم کے حصّے کے طور پر کیا کوئی بھجن گا سکتا ہے، ایک 15، 16 برس کا نوجوان آگے آیا اور کیمرے کے سامنے بھجن گانے لگا۔

    گاتے گاتے اس نوجوان نے اچانک پوچھا ’سر بھجن کے بعد مرثیہ سنیں گے، میر انیس کا مرثیہ؟‘

    حیرانی کے سمندر میں ڈوبتا دیکھ کر خود اسی نوجوان نے بتایا کہ وہ مرثیہ تو بھجن سے بھی زیادہ اچھی طرح پیش کر سکتا ہے۔ ’پتا ہے کیوں، سر میں نے مرثیہ اپنے والد سے سیکھا ہے۔ وہ پہلے مجلسوں میں مرثیہ پڑھتے تھے‘۔

    فہیم صدیقی سے نظریں آج بھی نہیں ملائی جاتیں۔ بشپ اعجاز عنایت کا کرسمس پر کیک کا تقاضا اور ہندو نوجوان کے گلے سے میر انیس کا مرثیہ آج بھی کانوں میں گونجتا ہے۔

    اور رہ رہ کر یہ سب یاد دلواتے ہیں کہ کراچی کیسا تھا۔

    کراچی میں یومِ علی اور جمعتہ الوداع الگ الگ نہیں تھے۔ نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیر مسلم شہریوں کے لیے بھی سب کچھ مشترک تھا، سانجھا تھا۔

    اسی لیے تو دل غمزدہ اور اداس ہے کہ 40 برس پہلے کراچی ایسا نہیں تھا جیسے اس ویڈیو کلپ میں نوجوان کی دھمکی میں سنائی اور دکھائی دیا۔

    کراچی میں یوم علی کا جلوس آج بھی فہیم صدیقی اور اس کے خاندان کی شرکت کے بغیر ادھورا ہے اور کراچی کا جمعہ الوداع آج بھی شیعہ عزاداروں کی شرکت کا منتظر ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    21,850
    بھٹو، ضیاء الحق سے قبل ہم صرف پاکستانی بچے تھے۔ اب ہم سنی، شیعہ، وہابی، بریلوی، دیوبندی، جعفری، اسمائیلی، قادیانی کافر ہیں۔
     
    • متفق متفق × 2
  3. سروش

    سروش محفلین

    مراسلے:
    2,201
    موڈ:
    Relaxed
    کچھ علاقے ہیں اب بھی کراچی میں جہاں مذہبی رواداری کے ساتھ تمام مسالک و ادیان کے لوگ باہم رہتے ہیں ۔ کیپری سینما کے عقب میں ڈولی کھاتہ اسکی ایک چھوٹی سی مثال ہے ۔ یہاں آپ کو پارسی، ہندو، عیسائی، مسلمان (شعیہ ، سنی، بریلوی ، دیو بندی وغیرہ) ساتھ مل جائیں گے ۔ یہاں پر مولانا کوکب اوکاڑوی کی مسجد و مرکز بھی ہے، ہولی فیملی ہاسپٹل بھی ہے ، سامنے تھوڑا دور پارسیوں کا آتشکدہ بھی ہے ۔ اسی روڈ پر وہ ہسپتال بھی ہے جہاں بے نظیر صاحبہ کی پیدائش ہوئی تھی ۔
    جاسم محمد مجھے یاد پڑتا ہے کہ شاید آپ نے ہی میوہ شاہ میں یہودیوں کے قبرستان کے زبوں حالی کا تذکرہ کیا تھا ۔ اسکی بہتری پر کچھ کام کیا تھا ضلعی انتظامیہ نے ۔
     
    آخری تدوین: ‏مئی 24, 2020
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر