یہ عید جو آئی ہے ،ہم کیسے منائیں گے

فاروقی

معطل
چھے سال پہلے جب میں نے شاعری میں ہاتھ پاوں مارنا شروع کیئے تو یہ غزل برامد ہوئی........


یہ عید جو آئی ہے ،ہم کیسے منائیں گے
تو بھول گیا ہم کو ہم کیسے بھلائیں گے

دنیا نے اگر پوچھا وہ کیوں نہیں آئے ہیں
چپ رہ نہ سکیں گے ہم ،پھر کیسےبتائیں گے

گر سن کے صدا میری ،تم پھر بھی نہ آئے تو
روئے گا بہت دل یہ ،چپ کیسے کرائیں گے

سوچا تو بہت ہی تھا اس عید پہ ہم تم کو
ہو جائیں گی تر آنکھیں،ہم اتنا ہسائیں گے

اب چاند تمہارے بن دیکھیں نہ کبھی ہم بھی
دن عید کا ہو گا وہ ، جب دنیا سے جائیں گے
 

الف عین

لائبریرین
لگتا ہے اس وقت تمہارے پاتھ پیر زیادہ بہترتھے جو عروض کے مطابق کچھ بہتر غزل برامد ہوئی تھی!! محض دو ایک اغلاط ہیں اس میں۔
چپ رہ نہ سکیں گے ہم ،پھر کیا بتائیں گے

اس کو
چپ رہ نہ سکیں گے ہم ،پھر کیسے بتائیں گے
کر دیں تو درست بحر ہوگی۔

اب چاند نہ دیکھیں گے تمہارے بنا ہم تو
’تم ہارے‘ وزن میں آتا ہے جو غلط ہے۔ درست تمھارے ہے، یعنی بر وزن فعولن۔ ’تمارے‘
یوں کر دو۔
اب چاند تمہارے بن دیکھیں نہ کبھی آنکھیں
یا
اب چاند تمہارے بن دیکھیں نہ کبھی ہم بھی
لیکن دوسرا مصرع
دن عید کا ہو گا وہ ، جب دنیا سے جائیں گے
واضح نہیں۔ کون جائیں گے۔ آپ خود یا آپ کے محبوب/محبوبہ؟ اور اس میں عید بمعنی خوشی کی کیا بات؟
 

فاروقی

معطل
لگتا ہے اس وقت تمہارے پاتھ پیر زیادہ بہترتھے جو عروض کے مطابق کچھ بہتر غزل برامد ہوئی تھی!! محض دو ایک اغلاط ہیں اس میں۔

چپ رہ نہ سکیں گے ہم ،پھر کیا بتائیں گے

اس کو
چپ رہ نہ سکیں گے ہم ،پھر کیسے بتائیں گے
کر دیں تو درست بحر ہوگی۔

اب چاند نہ دیکھیں گے تمہارے بنا ہم تو
’تم ہارے‘ وزن میں آتا ہے جو غلط ہے۔ درست تمھارے ہے، یعنی بر وزن فعولن۔ ’تمارے‘
یوں کر دو۔
اب چاند تمہارے بن دیکھیں نہ کبھی آنکھیں
یا
اب چاند تمہارے بن دیکھیں نہ کبھی ہم بھی

لیکن دوسرا مصرع
دن عید کا ہو گا وہ ، جب دنیا سے جائیں گے
واضح نہیں۔ کون جائیں گے۔ آپ خود یا آپ کے محبوب/محبوبہ؟ اور اس میں عید بمعنی خوشی کی کیا بات؟

اصل میں اس وقت ہم نے تھوڑی سی اصلاح لی تھی ایک استاد محترم سے.... انہوں نے ہمیں شعر کو باوزن کرنا سکھانا شروع کیا تو ان کی پوسٹنگ کہیں اور ہو گئی....اور گردش ایام نے ہمارا تھوڑا بہت سیکھا ہوا بھی بھلوا دیا.....


مناسب تبدیلیاں کر دی ہیں.....

اب چاند تمہارے بن دیکھیں نہ کبھی ہم بھی
دن عید کا ہو گا وہ ، جب دنیا سے جائیں گے............................کا مطلب ہے کہ اس عیدپہ اگر تم نہیں آئے تو ہم چاند بھی نہیں دیکھیں گے آپ کے بنا .....اور عید کے دن ہم اس جہان فانی سے رخصت ہو جائیں گے.........یعنی عید کا دن ہو گا اور لوگ خوشیاں منا رہے ہوں گےلیکن آپ کے بنا ہماری خوشی کیسی سو ہم عید نہیں منائیں گے بلکہ مر جائیں گے
 

الف عین

لائبریرین
لیکن فاروقی. یہ کیوں کہ اصلاح کی فورم ہے، اس لئے پہلی پوسٹ کی ہی تدوینکترنے کی جگہ اصلاح شدہ ایک الگ پوسٹ میں ٹائپ کرنا/ کاپی پیہسٹ کر کے تدوین کرنا تھا. تاکہ ارکامنن کو معلوم ہواتا کہ اصل میں کیا مصرع تھا، اور اصلاح کہاں کی گئی ہے. فرخ اور راجا بھی ایسا ہی کرتے ہیں.
 

فاروقی

معطل
چھے سال پہلے جب میں نے شاعری میں ہاتھ پاوں مارنا شروع کیئے تو یہ غزل برامد ہوئی........


یہ عید جو آئی ہے ،ہم کیسے منائیں گے
تو بھول گیا ہم کو ہم کیسے بھلائیں گے

دنیا نے اگر پوچھا وہ کیوں نہیں آئے ہیں
چپ رہ نہ سکیں گے ہم ،پھر کیا بتائیں گے

گر سن کے صدا میری ،تم پھر بھی نہ آئے تو
روئے گا بہت دل یہ ،چپ کیسے کرائیں گے

سوچا تو بہت ہی تھا اس عید پہ ہم تم کو
ہو جائیں گی تر آنکھیں،ہم اتنا ہسائیں گے

چاند کو بھی نہ دیکھیں گے تمہارے بنا اب تو
دن عید کا ہو گا وہ ، جب دنیا سے جائیں گے

بہت شکریہ آپ کا سر ..........لیجیئے علیحدہ سے واضع کر دیا ہے.....

دنیا نے اگر پوچھا وہ کیوں نہیں آئے ہیں
چپ رہ نہ سکیں گے ہم ،پھر کیسےبتائیں گے


اب چاند تمہارے بن دیکھیں نہ کبھی ہم بھی
دن عید کا ہو گا وہ ، جب دنیا سے جائیں گے
 
Top