جاں نثار اختر یہ زندگی مجھے کھلتی ہوئی کتاب لگے - جاں نثار اختر

یہ زندگی مجھے کھلتی ہوئی کتاب لگے
ورق ورق کوئی تاریخِ انقلاب لگے

لہو میں کاش پگھل جائے روشنی بن کر
یہ ایک داغ جو سینے میں آفتاب لگے

ادائے ناز سے اس درجہ انحراف بھی کیا
ترا نظر نہ چرانا مجھے خراب لگے

ملا ہوں آج مگر اس میں کوئی جھوٹ نہیں
کہ تُو مجھے کوئی دیکھا ہوا سا خواب لگے

نشہ کی چیز یہاں صرف شغلِ بادہ نہیں
کبھی کبھی تو یہی زندگی شراب لگے

شکستہ میز پہ رکھی ہوئی یہ بند گھڑی
نہ جانے کیوں مری ہر بات کا جواب لگے​
جاں نثار اختر
 
Top