یو ایس سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی غلط بیانی

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اور جب دل کرے 17 معصوم شہریوں پر مزاق کرتے ہوئے گولیوں کی بارش کر کے انجوائے کریں


ميں آپ کو پورے وثوق کے ساتھ بتا سکتا ہوں کہ ہر وہ واقعہ جس کے بارے ميں شواہد موجود ہوں اس کی تحقيق اور تفتيش کی جاتی ہے اور قصوروار افراد کے خلاف امريکی فوج اور سول عدالتوں ميں درج قواعد وضوابط کے مطابق کاروائ کی جاتی ہے۔

جس واقعے کا ريفرنس آپ نے ديا ہے اس حوالے سے يہ واضح کر دوں کہ بليک واٹر کو تفتيش اور تحقيق کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کے نتيجے ميں اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ نے کمپنی کا بغداد ميں سفارت کاروں کے تحفظ کے ضمن ميں کيا جانے والا معاہدہ بھی منسوخ کر ديا تھا۔

http://online.wsj.com/article/SB122874862056388125.html

اس وقت بھی نارتھ کيرولينا ميں فيڈرل گرينڈ جيوری بليک واٹر اور اس کے ملازمين کے خلاف مختلف الزامات کے حوالے سے تحقيق کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ سی – آئ – اے کے ڈائريکٹر نے ايک جائزہ رپورٹ طلب کی ہے تا کہ اس بات کو يقينی بنايا جا سکے کہ سفارت کاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ بليک واٹر کسی اور معاملے ميں ملوث نہيں ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

فواد صاحب ، کہوٹہ اور روات میں امریکی زمینیں کیوں خرید رہے ہیں ، یہ کوئی اخباری نیوز نہیں ہے ، کہوٹہ کے محکمہ پٹوار کے پچھلے سولہ مہینوں کا ریکارڈ دیکھ لیجے گا ۔ ۔ ۔

۔


ميرے پاس ايسے کوئ اعداد وشمار نہيں ہیں جو اس بات کو واضح کر سکيں کہ جن علاقوں کی آپ نے نشاندہی کی ہے وہاں پر کتنے امريکيوں نے زمينيں خريدی ہيں۔ اس کی وجہ يہ ہے کہ ايسا کوئ قانون نہيں ہے جو امريکی شہری کو کسی بھی علاقے ميں زمين خريدنے سے روک سکے۔ اسی طرح امريکی شہری پر يہ لازم بھی نہيں ہے کہ وہ اس حوالے سے امريکی حکومت يا اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کو مطلع کرے۔

ميں آپ کو يہ بھی باور کروانا چاہتا ہوں کہ پاکستان ميں رہنے اور کام کرنے والا ہر امريکی شہری حکومت پاکستان سے منظور شدہ ويزے کی بنياد پر کام کر رہا ہے۔ پاکستان کے حکومتی اہلکاروں نے عالمی قوانين اور روايات کے عين مطابق انھيں يہاں رہنے اور کام کرنے کی مکمل اجازت دی ہے۔

يہ نقطہ بھی قابل توجہ ہے کہ رائج عالمی قوانين کے عين مطابق حکومت پاکستان کو اس بات کا پورے اختيار حاصل ہے کہ وہ پاکستان کے اندر رہائش پذير اور کام کرنے والے ہر غير ملکی شخص کی نقل وحرکت اور سرگرميوں کے حوالے سے اپنی مرضی کے قواعد وضوابط اور قوانين مرتب کرے۔ پاکستان ميں رہنے والےامريکی شہری اس قانون سے مبرا نہيں ہيں۔

يہ بھی ياد رہے کہ ہزاروں کی تعداد ميں پاکستانی بھی امريکہ ميں رہائش پذير ہيں اور مقامی قوانين اور قواعد وضوابط کے عين مطابق زمينوں کی خريد وفروخت کرتے ہيں۔

مثال کے طور پر پاکستان کے سابق وزيراعظم واشنگٹن ميں "حساس مقامات" سے محض چند کلوميٹر کے فاصلے پر رہائش پذير رہے ہيں تو کيا اس بات کو بنياد بنا کر ان کے خلاف بھی تحقيق کی جانی چاہيے؟

http://www.washingtonpost.com/wp-dyn/content/article/2008/01/18/AR2008011801711.html

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
 

زیک

مسافر
اظہر اگر مجھے صحیح یاد پڑتا ہے تو پاکستان میں زمین خریدنے کے لئے پاکستانی ہونا یعنی شناختی کارڈ ہونا ضروری ہے۔ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستانی امریکی یہ زمینیں خرید رہے ہیں؟ یا ایسی کوئ بندش نہیں ہے؟
 

اظہرالحق

محفلین
ميں آپ کو يہ بھی باور کروانا چاہتا ہوں کہ پاکستان ميں رہنے اور کام کرنے والا ہر امريکی شہری حکومت پاکستان سے منظور شدہ ويزے کی بنياد پر کام کر رہا ہے۔ پاکستان کے حکومتی اہلکاروں نے عالمی قوانين اور روايات کے عين مطابق انھيں يہاں رہنے اور کام کرنے کی مکمل اجازت دی ہے۔

يہ نقطہ بھی قابل توجہ ہے کہ رائج عالمی قوانين کے عين مطابق حکومت پاکستان کو اس بات کا پورے اختيار حاصل ہے کہ وہ پاکستان کے اندر رہائش پذير اور کام کرنے والے ہر غير ملکی شخص کی نقل وحرکت اور سرگرميوں کے حوالے سے اپنی مرضی کے قواعد وضوابط اور قوانين مرتب کرے۔ پاکستان ميں رہنے والےامريکی شہری اس قانون سے مبرا نہيں ہيں۔

يہ بھی ياد رہے کہ ہزاروں کی تعداد ميں پاکستانی بھی امريکہ ميں رہائش پذير ہيں اور مقامی قوانين اور قواعد وضوابط کے عين مطابق زمينوں کی خريد وفروخت کرتے ہيں۔

مثال کے طور پر پاکستان کے سابق وزيراعظم واشنگٹن ميں "حساس مقامات" سے محض چند کلوميٹر کے فاصلے پر رہائش پذير رہے ہيں تو کيا اس بات کو بنياد بنا کر ان کے خلاف بھی تحقيق کی جانی چاہيے؟

http://www.washingtonpost.com/wp-dyn/content/article/2008/01/18/ar2008011801711.html

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov

بس یہ ہی کہلوانا تھا آپ سے ورنہ پاکستان میں غیر ملکیوں کا زمینیں خریدنا کوئی خاص بات نہیں‌، بلکہ بہت سارے پروجیکٹس میں‌ڈائریکٹر کے طور پر بھی غیر ملکی ہوتے ہیں‌ ۔ ۔ ۔ اور ہاں میں نے آپ کے ریکارڈ کی بات نہیں‌کی پنجاب کے محکمہ پٹوار کی بات کی ہے جو زرعی زمینیوں کا ریکارڈ رکھتا ہے ، اور رہی بات ہماری "حساس تنصیبات" کی تو بھای میرے آپ کی توجہ اس وقت کہوٹہ کی تنصیبات نہیں‌ کیونکہ وہ پرانی ہو چکی ہیں‌، آپ تو اس وقت "سہالہ" ، "ژوب" اور چشمہ وغیرہ پر توجہ دے رہے ہیں‌ جہاں ہمارے چینی انجینئیر دوست اپنے جوہر دکھا رہے ہیں‌ ، آپ کے "اسٹینڈرڈ" ریکارڈ میں یہ نام موجود ہیں نا؟؟

آپ امریکی یہ تو کہ دیتے ہیں کہ امریکیوں کو پاکستانی قوانین کا احترام کرنا چاہیے ، مگر جب جعلی پلیٹ پر پکڑے جائیں تو فوراً سفارت خانے کو بلا لیا جاتا ہے ، اور امریکی سفارت خانہ ہر امریکی کو پاکستان میں "سفارت کار" ہی ظاہر کرتا ہے ، جسکی بہت زبردست مثال ان خاتون کی ہے جو پچھلے دنوں پکڑی گئیں وڈیو بناتیں ہوئیں‌، اور انکا سفارت خانے سے کوئی تعلق ظاہر نہیں ہوا ، تو وہ سفارت خانے کی مہمان بن گئیں ۔ ۔ ۔

بے شک ہم پاکستانی گوروں سے بہت "متاثر" ہیں‌مگر یہ بات یاد رہے کہ اگر امریکیوں کی ایسی ہی سرگرمیاں جاری رہیں تو پھر پاکستانی باہر سے کیسے بھی ہوں اندر سے پورے کے پورے "نیشنلسٹ" ہیں‌ ۔ ۔ ۔

میں وہ وقت جانتا ہوں جب امریکیوں کو پاکستانیوں کا دوست کہا جاتا تھا اور صدر نکسن کا دورہ کلفٹن شاید کم ہی دوستوں کو یاد ہو ۔ ۔ ۔ ۔ اور امریکی بحری بیڑے کی کراچی آمد پر جب گلی گلی امریکی شاپنگ کرتے نظر آتے تھے ۔ ۔ ۔

اور ہاں جن وزیر اعظم عزیز کا آپ نے حوالہ دیا ہے ، وہ پاکستانی نہیں‌ہیں‌ ، آپ کے ہی وفادار ہیں ، انکے لئے پاکستان ایسے ہی ہے جیسے آپ کے لیے پاکستان ، سو اپنے سے کسی کو کیا ڈر ؟

اگر آپ کسی پاکستانی سے جناب شوکت عزیز اور معین قریشی کے بارے میں پوچھیں تو وہ شاید نہ بتا سکیں کیونکہ یہ ہمارے سابق وزیر اعظم صاحبان "عرصے" سے پاکستان "تشریف" ہی نہیں‌ لائے ۔ ۔ ۔۔ آپ کی "حساس" تنصیبات کی حفاظت میں رہ کر پاکستان کی "خدمت" کر رہے ہیں‌ ۔ ۔ ۔ اور نیا نام آپکے وفاداروں میں جناب حقانی صاحب کا بھی ہے نا؟؟؟

میری گذارش اتنی ہے کہ اب بے شک آپ ہمارے خراٹے سنیں مگر ہمیں اتنا نہ ستائیں کہ ہم جاگ جائیں
 

اظہرالحق

محفلین
اظہر اگر مجھے صحیح یاد پڑتا ہے تو پاکستان میں زمین خریدنے کے لئے پاکستانی ہونا یعنی شناختی کارڈ ہونا ضروری ہے۔ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستانی امریکی یہ زمینیں خرید رہے ہیں؟ یا ایسی کوئ بندش نہیں ہے؟

زکریا ، پاکستانی قانون کے مطابق کوئی بھی غیر ملکی کاروباری مقاصد کے لئے زمین خرید سکتا ہے ، جسکی بہت بڑی مثال ہمارے عرب بھائی ہیں‌ جنکے فارم ہاؤسز تو مشہور ہیں‌ ۔ ۔ ۔ ۔

اصل مسلہ زمین لینے کا نہیں ہے ان زمینوں کا ہے ، جن کو استعمال کیا جا رہا ہے پاکستان کے خلاف ، جیسے روات کی ورکشاپ میں سیکورٹی کی ٹریننگ کا کیا مطلب؟

جہلم ، مندرہ ، میر پور جیسے علاقوں میں‌ پٹھان (گوروں نے اکثر پٹھانوں کا روپ دھارا ہے، مگر وہ پٹھانوں جیسی روایات کے پابند نظر نہیں‌ آتے یہ ہی وجہ ہے کہ انہیں‌ اب پہچانا جا رہا ہے ) اپنا کاروبار جماتے نظر آ رہے ہیں‌ ۔ ۔ ۔

خیر کہنے کو بہت کچھ ہے مگر اب شاید ۔ ۔ ۔ وقت بہت جلد یہ چیزیں سامنے لے آئے گا ، کیونکہ امریکیوں کے پاس بھی وقت کم ہے !!!!
 

اظہرالحق

محفلین
ہم ايک پبلک فورم پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہيں جس کا مقصد ہی يہ ہے کہ ايسے خيالات، سوچ اور رائے ايک دوسرے کے سامنے رکھيں جو متضاد اور مختلف ہوں۔ جن دوستوں نے مختلف فورمز پر ميری پوسٹنگز پڑھی ہيں، وہ يقينی طور پر ان فورمز پر مختلف دوستوں کی جانب سے امريکہ کے خلاف، ميری ذات پر اور ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم پر کی جانے والی شديد تنقيد سے بھی واقف ہوں گے۔ ميں آپ کو يقين دلاتا ہوں کہ وہ تمام دوست بخيريت ہيں اور اس وقت بھی فورمز پر اپنی آزاد رائے کا اظہار کر رہے ہيں۔

ان خدشات کا اظہار مجھ سے کچھ اردو فورمز پر ساتھيوں نے پہلے بھی کيا ہے کہ اگر وہ امريکہ کے خلاف کچھ بات کريں گے تو امريکی حکومتی ادارے ان کے خلاف کاروائ کريں گے۔ ان دوستوں کی خدمت ميں عرض ہے کہ وہ امريکہ کے کسی بھی نشرياتی ادارے کے ٹی وی چينل يا کوئ بھی اخبار اٹھا کے ديکھ ليں اس ميں آپ کو مسلمانوں سميت ہر مقطبہ فکر کے لوگ امريکی حکومت کی مختلف پاليسيوں کے خلاف يا اس کے حق ميں اظہار خيال بغير کسی خوف کے کرتے نظر آئيں گے۔ ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کے قيام کا مقصد ہی يہ ہے کہ امريکی پاليسيوں کے حوالے سے آپ کو امريکی حکومت کے موقف سے آگاہ کيا جا سکے اور آپ کا موقف سنا جائے

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov


فواد صاحب آپ کی حوصلہ افزائی کا شکریہ ، مگر کیا کروں میرا نام آپکی "خصوصی لسٹ " میں ہے ذرا چیک تو کیجیے گا ، کہ اظہر الحق کیوں مطلوب و مشہود ہیں !!!!!

آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

سہالہ ميں ٹريننگ سنٹر کے حوالے سے اخباری رپورٹ حقائق کے منافی اور لغو ہے۔ اس ضمن ميں پاکستان پوليس کے وہ 512 افسران گواہی دے سکتے ہيں جنھوں نے وہاں پر ٹريننگ حاصل کی ہے۔

اس طرح کی بے بنياد افواہوں کی تشہير کا مقصد محض عوام ميں پاکستان پوليس پر اعتماد ميں کمی پيدا کرنا ہے۔ اس عمل سے کس کے ايجنڈے کو تقويت ملتی ہے؟

سال 2003 سے امريکہ سہالہ کے مقام پر پنجاب پوليس کالج ميں وفاقی اور صوبائ پوليس افسران کو انسداد دہشت گردی کے ضمن ميں مختلف امور کے بارے ميں ٹريننگ دے رہا ہے۔ جن کورسز کی ٹريننگ دی گئ ہے وہ حکومت پاکستان کے متعلقہ افسران اور اداروں کے مکمل تعاون اور ان کی نشاندہی کے بعد ترتيب ديے گئے تھے۔ ان کورسز کے ليے افسران کا انتخاب پاکستان ميں قانون نافذ کرنے والے مختلف وفاقی اور صوبائ اداروں کی جانب سے کيا گيا تھا۔ يہاں تک کہ تربيت کے لیے سہالہ ٹريننگ سينٹر کا انتخاب بھی حکومت پاکستان نے خود کيا تھا۔ اس ٹريننگ سنٹر کا وجود کوئ خفيہ سازش نہيں بلکہ واضح اور شفاف حقيقت ہے۔ اس سينٹر ميں "مانيٹرينگ" کے ليے کوئ آلات نصب نہيں کيے گئے ہيں اور يہاں پر موجود تمام تر سازوسامان محض پاکستانی قانون نافذ کرنے والے افسران کے استعمال کے لیے ہے۔

پنجاب پوليس کالج کی انتظاميہ نے متعدد بار اس سينٹر کا دورہ کيا ہے۔ موجودہ انتظاميہ بھی کسی بھی وقت اس سينٹر کے دورے کا اختيار رکھتی ہے۔ يہ بھی واضح رہے کہ اس سينٹر ميں تربيت حاصل کرنے والے تمام افراد پاکستانی افسران ہيں۔ کسی غير ملکی کو يہاں تربيت نہيں دی گئ ہے۔

دہشت گردی کا عفريت پکستان کی جمہوری حکومت اور پاکستانی پوليس کے ليے ايک کڑا چيلنج ہے۔ امريکی "اينٹی ٹيررازم اسسٹنس پروگرام" جو سال 2003 سے سہالہ کے ٹريننگ سينٹر ميں جاری ہے پاکستانی شہريوں کی حفاظت کے نظام ميں بہتری اور پوليس کی صلاحيتوں ميں اضافے کے ليے حکومت پاکستان کی مدد کے ضمن میں ايک قابل ستائش مثال ہے۔ بدقسمتی سے اخباری کالم بے بنياد الزامات اور قياس کا سہارا لے کر حقائق کو مسخ کر کے غلط تاثر پيش کر رہا ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
 

عسکری

معطل
جی اس دن ہمیں ہوش آ جائے گا جس دن بلیک واٹر سی آئی اے رات 4 بجے خوشاب اور کہوٹہ پر اسالٹ کر کے ہماری ایٹمی تنصیبات کو اڑا دیں گے
 

dxbgraphics

محفلین
ميں آپ کو پورے وثوق کے ساتھ بتا سکتا ہوں کہ ہر وہ واقعہ جس کے بارے ميں شواہد موجود ہوں اس کی تحقيق اور تفتيش کی جاتی ہے اور قصوروار افراد کے خلاف امريکی فوج اور سول عدالتوں ميں درج قواعد وضوابط کے مطابق کاروائ کی جاتی ہے۔

جس واقعے کا ريفرنس آپ نے ديا ہے اس حوالے سے يہ واضح کر دوں کہ بليک واٹر کو تفتيش اور تحقيق کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کے نتيجے ميں اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ نے کمپنی کا بغداد ميں سفارت کاروں کے تحفظ کے ضمن ميں کيا جانے والا معاہدہ بھی منسوخ کر ديا تھا۔

http://online.wsj.com/article/SB122874862056388125.html

اس وقت بھی نارتھ کيرولينا ميں فيڈرل گرينڈ جيوری بليک واٹر اور اس کے ملازمين کے خلاف مختلف الزامات کے حوالے سے تحقيق کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ سی – آئ – اے کے ڈائريکٹر نے ايک جائزہ رپورٹ طلب کی ہے تا کہ اس بات کو يقينی بنايا جا سکے کہ سفارت کاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ بليک واٹر کسی اور معاملے ميں ملوث نہيں ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov

زبانی جمع خرچ
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

فواد صاحب آپ کی حوصلہ افزائی کا شکریہ ، مگر کیا کروں میرا نام آپکی "خصوصی لسٹ " میں ہے ذرا چیک تو کیجیے گا ، کہ اظہر الحق کیوں مطلوب و مشہود ہیں !!!!!

آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا


ميں نہيں جانتا کہ آپ کسی مخصوص لسٹ کا ذکر رہے ہيں ليکن ميں آپ کو يہ يقين ضرور دلا سکتا ہوں کہ آپ محض اس بات پر امريکی حکومت کی کسی لسٹ کا حصہ نہيں بنیں گے کہ آپ نے امريکی حکومت کی پاليسيوں کی مخالفت کی ہے۔

اگر امريکہ کے خلاف اپنی رائے کا اظہار "جرم" ہوتا تو اس منطق کے اعتبار سے تو امريکہ کے اپنے سينکڑوں صحافی کبھی ائرپورٹ کا رخ نہ کريں۔ حقیقت يہ ہے کہ امريکی حکومت پر صحافیوں اور تجزيہ نگاروں کی جانب سے نقطہ چينی تو روز کے معمولات کا حصہ ہے۔

يہ ايک مسلم حقيقت ہے کہ امريکی صدر اور امريکی حکومت پر جتنی تنقيد خود امريکی ميڈيا پر ہوتی ہے اتنی دنيا ميں کہيں نہيں ہوتی۔ جب امريکہ کے اندر مسلمانوں سميت تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کی جانب سے امريکی حکومت کی پاليسيوں پر تنقيد کی مکمل آزادی ہے تو ہزاروں ميل دور ايک دوسرے ملک ميں کسی کالم نگار کی جانب سے امريکی پاليسيوں کے خلاف اپنی رائے کا اظہار امريکی حکام کو کيونکر مشتعل کر سکتا ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
 
Top