یوم سیاہ

کل کا دن ایک ایسا سورج لے کر طلوع ہوا جس کے غروب ہونے سے پہلے کراچی خاک و خون میں ڈوب گیا اور ملکی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں اپنا شمار کروایا۔ 12 مئی کا دن چیف جسٹس چوہدری افتخار کے کراچی آنے اور سندھ ہائی کورٹ بار سے خطاب کا دن تھا جس کے لیے کافی پہلے سے تاریخ دے دی گئی تھی اور یہ اسی قسم کا خطاب جیسا کہ انہوں نے لاہور اور پشاور میں کیا اور جہاں کسی قسم کی کوئی بدمزگی نہیں ہوئی۔ کراچی کے حوالے سے چند خدشات ضرور تھے کہ شاید وہاں حکومتی حلیف جماعت ایم کیو ایم ہنگامہ برپا کرے اور اپوزیشن کے ساتھ جھڑپیں ہوں خصوصا جب سے ایم کیو ایم نے عین اسی دن اپنی ریلی کا اعلان کر دینے کے بعد سے مگر کسی کو ایسے سانحے اور دلخراش واقعات کی امید نہ تھی۔
دن کے آغاز سے اہم شاہراؤں کو بلاک کرنے کے مناظر مختلف چینلز پر دکھائے جاتے رہے اور جہاں جہاں سے چیف جسٹس کا قافلہ ائیر پورٹ سے گزر کر سندھ ہائی کورٹ‌ تک جانا تھا وہاں وہاں ٹریفک بلاک کر دی گئی۔ سندھ ہائی کورٹ‌ کے وکلاء کو وہیں قید کر دیا گیا اور چیف جسٹس کے آنے کے بعد انہیں ائیر پورٹ پر ہی محصور کر دیا گیا۔ آزادانہ نقل و حرکت صرف ایم کیو ایم کے حصے میں آئی جو اپنے حامیوں کو لے مقررہ جگہ تک پہنچ گئے باوجود اس کے پورے شہر میں قتل و غارت اور نہ ختم ہونے والی فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ اہم ترین شاہراؤں پر نہ پولیس دیکھنے میں آئی اور نہ ہی رینجرز ، جہاں کہیں پولیس تھی بھی وہ صرف خاموش تماشائی بنی رہی اور نا معلوم مسلح افراد کو کھلی چھوٹ دیے رکھی جو بے رحمی سے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے رہے۔ آج ٹی وی پر مسلسل کئی گھنٹے تک فائرنگ جاری رہی اور طلعت حسین اپنی ٹیم کے ہمراہ ایک کونے میں لیٹ‌کر رپورٹنگ کرتے رہے اور بار بار حکومتی عہدیداران سے اپیل اور بات چیت کے انہیں سیکوریٹی فراہم نہ کی گئی۔ شام تک یہی منظر رہا ، لوگ ہلاک ہوتے رہے ، زخمیوں کی حالت بگڑتی رہی مگر پولیس اور رینجرز کہیں نظر نہ آئی تاوقتیکہ ایم کیو ایم کا ‘شاندار اور بھرپور‘ جلسہ اختتام پذیر نہ ہوگیا اور بقول مشرف کراچی کے عوام نے اپنی طاقت نہ دکھا دی۔ شام ہوتے ہی آسمان سے پولیس اور رینجرز کے دستے نازل ہو گئے اور انہوں نے شہر کا گشت شروع کر دیا شاید وہ اب تک حکومت کے ساتھ مل کر لوگ کے ہلاک ہونے کا انتظار کر رہے تھے یا ان کے ذہن میں ہلاکتوں اور بگاڑ کا کوئی پیمانہ تھا جس کے پورا ہونے پر وہ باہر نکل آئے۔

حکومتی اراکین اور ایم کیو ایم کے پاس اس سارے فساد کا ایک ہی جواب تھا کہ چیف جسٹس اگر نہ آتے تو یہ نہ ہوتا۔ ایک سوال کے جواب میں ایم کیو ایم کے لیڈر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ سیکیوریٹی ہم سب کی ذمہ داری ہے جب انہیں باآور کروایا گیا کہ یہ انتظامیہ اور حکومت کا کام ہوتا ہے اور پولیس ، رینجرز کو عام آدمی یا اپوزیشن کہیں نہیں بھیج سکتی تو ان کا جواب تھا کہ میں مانتا ہوں کہ حکومت کو یہ کرنا چاہیے اور پھر بات کا رخ اپنی ریلی اور ریلوں کی طرف موڑ دیا اور اے آر وائے سے اپیل کی کہ وہ اس کی بھی صحیح کوریج کریں اور اپنے پارٹی ممبران کی ہلاکتوں کا بتانے لگے اور یہ بھی فرمایا کہ ریلی تو صرف ہماری نکلی اپوزیشن کی تو ریلی نکلی ہی نہیں اور انہوں نے غصے میں آ کر یہ سب کیا ہے جس پر قدرتی سوال پھر اٹھا کہ سیکوریٹی کے انتظام اپوزیشن نے کرنے تھے یا حکومت نے اور پولیس ، رینجرز کہاں تھے اس سارے واقعہ میں اور ایم کیو ایم کو اسی وقت یہ ریلی نکالنے کی اتنی اشد ضرورت کیوں تھی جبکہ اپوزیشن کے مرکزی رہنما تو کراچی آئے ہی نہیں تھے اور وکلا نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر چیف جسٹس کا استقبال کرنے سے اپوزیشن کو روک دیا تھا۔

آج ملک گیر سوگ اور ہڑتال منائی جارہی ہے اور ایم کیو ایم کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔

کیا آپ بھی ایسا ہی سوچتے ہیں؟

براہ کرم اس موقع پر چپ نہ رہیں اور اپنے خیالات کا اظہار ضرور کریں ورنہ یہ ظلم کا سلسلہ بڑھتا ہی رہے گا ختم نہ ہوگا۔
 
کراچی میں تشدد کے خلاف آج ملک بھر میں ہڑتال ہے جس کی ٹرانسپورٹرز نے بھی حمایت کر دی ہے۔ تشدد کی کاروائیں دوسرے دن بھی جاری رہیں اور دکانیں جلائی جاتی رہیں۔ دفعہ 144 لگا دی گئی ہے اور رینجرز کو شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مار دینے کا آرڈر مل چکا ہے۔

کیا رینجرز کی بھاری تعداد کو پہلے دن ہی تعینات اور گرفتاری اور جوابی فائرنگ کا اختیار پہلے دن ہی نہیں دیا جانا چاہیے تھا؟
 
آج کے دن میں صرف اتنا کہوں گا کہ کراچی کسی کے باپ کی جاگیر نہیں۔ یہ کسی پارٹی کسی خاص قومیت کا شہر نہیں ہے۔ کراچی ہم سب کا کراچی ہے۔ اور اگر آج ایک چیف جسٹس کو روکا گیا ہے تو کل وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہر پاکستانی کو سوچنا ہے کہ کراچی کو ان باہر سے کنٹرول ہونے والے غنڈوں سے آزاد کرانا ہے۔ میرے خیال میں ایک اور نصیر اللہ بابر کی ضرورت پھر محسوس کی جارہی ہے۔
 
کیا ہم اس دفعہ بھی خاموش رہیں گے اور چپ چاپ خون کی ہولی دیکھتے رہیں گے اور لاتعلقی اور بے حسی کی موٹی تہہ اپنے پورے بدن پر لپیٹے رہیں گے؟

کیا ہمارے دلوں کو دہلانے کے لیے ابھی اور خون بہانا ضروری ہے؟

کیا ابھی ہمارے دلوں کی سختی موجود ہے اور بہتے ہوئے خون نے ہمارے دلوں کو بھی خون کے آنسو نہیں رلائے؟


آج صفدر محمود کا اداریہ پڑھا اور چند سوالات جو میرے بھی ذہن میں تھے ان کے اداریے میں تھے۔

“ یہی چیف جسٹس چھبیس گھنٹوں کا سفر طے کر کے لاہور آئے تھے لیکن نہ کسی کا سر پھٹا اور نہ کسی کا دامن تار تار ہوا۔ کیا ہم اسی طرح کراچی میں بھی نہیں کر سکتے تھے؟ لیکن میں جب ٹی وی کی سکرینوں پر کراچی میں ہلاکت، قتل و غارت، لاقانونیت اور کھلی فائرنگ کے مناظر دیکھ رہا تھا اور رپورٹر حضرات کاروں کے نیچے لیٹ کر دیواروں کی اوٹ میں پناہ لے کر آنکھوں دیکھا حال بیان کر رہے تھے تو مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میں پاکستان کا نہیں بلکہ عراق کا کوئی منظر دیکھ رہا ہوں۔ وور دورتک قانون کا کوئی نشان نہیں تھا۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سوچی سمجھی سکیم کے تحت سڑکوں سے غائب کر دیئے تھے اور قاتلوں کو کھلی چھٹی دے دی گئی تھی ۔ بالکل اسی طرح جس طرح قیام پاکستان کے وقت ہوا تھا یا پھر جس طرح افغانستان اور عراق میں ہوتا ہے البتہ عراق اور افغانستان میں فوج نظر آتی ہے لیکن کراچی میں تو لاقانونیت سڑکوں پر ناچ رہی تھی اور انسانوں کو پرندوں کی مانند گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ بار بار ایک ہی سوال میرے ذہن میں اٹھتا تھا کہ حکومت کہاں ہے؟ قانون کہاں ہے؟ شہریوں کو حفاظت اور تحفظ بہم پہنچانے والے ادارے کہاں ہیں؟ کیا ہم اسی لئے ٹیکس دیتے ہیں؟ کیا ایسی حکومت کو شہریوں سے توقعات وابستہ رکھنے کا حق حاصل ہے؟ کیا حکومت عقل و دانش کا مظاہرہ کر کے اس تصادم کو ٹال نہیں سکتی تھی؟ کیاحکومت پہلی گولی چلتے ہی مجرم کو گرفتار کر کے لاقانونیت کے سمندر کے سامنے بند نہیں باندھ سکتی تھی؟ جب میرے ذہن میں اس طرح کے سوالات سر اٹھا رہے تھے اسی وقت، عین اسی وقت، ٹیلی ویژن کی سکرین پر اسلام آباد کی ریلی یا ریلا کے مناظر دکھائے جا رہے تھے۔ مرکزی حکومت کراچی کے قتل و غارت پر مغموم ہونے کی بجائے اپنی طاقت کے ”بہترین“ مظاہرے پر خوشیاں منا رہی تھی اور کرائے کے لاکھوں لوگوں کا اجتماع دیکھ کر نشے کی کیفیت میں مبتلا تھی۔ ایک طرف مرگ انبوہ… دوسری طرف جشن کا سماں… ایک طرف موت کے سائے اور خوف انجانے … دوسری طرف فتح و خوشی کے شادیانے۔ گویا یہ ایک قوم، ایک ملک نہیں تھا؟؟ سوچتا ہوں کہ یہ انتخابات کا سال ہے، یہ جوش سے زیادہ ہوش کاسال ہے۔ وکلا کی قانون کی حکمرانی کی تحریک نے سوچوں میں انقلاب برپا کر کے جمہوریت کی آمد کی نوید دی تھی اور قوم کو روشن مستقبل کے خواب نظر آنے لگے تھے لیکن اچانک یہ کیا ہو گیا؟ کیا مقصد اس تحریک کو ختم کرنا اور خوف و دہشت کے راج کو مسلط کرنا تھا؟ اگر ہمارے صبر و تحمل کا یہی حال رہا تو پھر انتخابات کیسے ہوں گے؟ کیا انتخابات کی تپش انتقام اور طاقت کی آگ کو مزید بڑھکائے گی؟ کیا معصوم شہریوں کا خون اسی طرح بہے گا اور میڈیا پر اسی طرح گولیاں چلائی جائیں گی؟ کیا اسی طرح ہم دنیا بھر میں ملک و قوم کی بدنامی کا تماشا دیکھتے رہیں گے؟ “
 
آج کےدن کے حوالے سے الیکٹرانک میڈیا خاموش نظر آتا ہے۔ سوائے ایک چینل کے اس پورے دن کو کوئی دوسرا چینل بہتر طریقے سے کور نہیں کر پا رہا ہے۔ شاید چینلز کو بھی کراچی میں اپنے دفاتر بچانے کی فکر ہے۔
 
یوں لگتا ہے حکومت کی طرف سے سخت پریشر آ گیا ہے کیونکہ عوام کی طرف سے بہت شدید غم و غصہ کا اظہار کیا جارہاہے اور متعدد مقامات پر ایم کیو ایم کے دفاتر کو نظر آتش کر دیا گیا ہے۔

ایم کیو ایم نے اپنے تمام دفاتر بند کر دیے ہیں۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
محب علوی نے کہا:
کیا ہم اس دفعہ بھی خاموش رہیں گے اور چپ چاپ خون کی ہولی دیکھتے رہیں گے اور لاتعلقی اور بے حسی کی موٹی تہہ اپنے پورے بدن پر لپیٹے رہیں گے؟

کیا ہمارے دلوں کو دہلانے کے لیے ابھی اور خون بہانا ضروری ہے؟

کیا ابھی ہمارے دلوں کی سختی موجود ہے اور بہتے ہوئے خون نے ہمارے دلوں کو بھی خون کے آنسو نہیں رلائے؟


آج صفدر محمود کا اداریہ پڑھا اور چند سوالات جو میرے بھی ذہن میں تھے ان کے اداریے میں تھے۔

“ یہی چیف جسٹس چھبیس گھنٹوں کا سفر طے کر کے لاہور آئے تھے لیکن نہ کسی کا سر پھٹا اور نہ کسی کا دامن تار تار ہوا۔ کیا ہم اسی طرح کراچی میں بھی نہیں کر سکتے تھے؟ لیکن میں جب ٹی وی کی سکرینوں پر کراچی میں ہلاکت، قتل و غارت، لاقانونیت اور کھلی فائرنگ کے مناظر دیکھ رہا تھا اور رپورٹر حضرات کاروں کے نیچے لیٹ کر دیواروں کی اوٹ میں پناہ لے کر آنکھوں دیکھا حال بیان کر رہے تھے تو مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میں پاکستان کا نہیں بلکہ عراق کا کوئی منظر دیکھ رہا ہوں۔ وور دورتک قانون کا کوئی نشان نہیں تھا۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سوچی سمجھی سکیم کے تحت سڑکوں سے غائب کر دیئے تھے اور قاتلوں کو کھلی چھٹی دے دی گئی تھی ۔ بالکل اسی طرح جس طرح قیام پاکستان کے وقت ہوا تھا یا پھر جس طرح افغانستان اور عراق میں ہوتا ہے البتہ عراق اور افغانستان میں فوج نظر آتی ہے لیکن کراچی میں تو لاقانونیت سڑکوں پر ناچ رہی تھی اور انسانوں کو پرندوں کی مانند گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ بار بار ایک ہی سوال میرے ذہن میں اٹھتا تھا کہ حکومت کہاں ہے؟ قانون کہاں ہے؟ شہریوں کو حفاظت اور تحفظ بہم پہنچانے والے ادارے کہاں ہیں؟ کیا ہم اسی لئے ٹیکس دیتے ہیں؟ کیا ایسی حکومت کو شہریوں سے توقعات وابستہ رکھنے کا حق حاصل ہے؟ کیا حکومت عقل و دانش کا مظاہرہ کر کے اس تصادم کو ٹال نہیں سکتی تھی؟ کیاحکومت پہلی گولی چلتے ہی مجرم کو گرفتار کر کے لاقانونیت کے سمندر کے سامنے بند نہیں باندھ سکتی تھی؟ جب میرے ذہن میں اس طرح کے سوالات سر اٹھا رہے تھے اسی وقت، عین اسی وقت، ٹیلی ویژن کی سکرین پر اسلام آباد کی ریلی یا ریلا کے مناظر دکھائے جا رہے تھے۔ مرکزی حکومت کراچی کے قتل و غارت پر مغموم ہونے کی بجائے اپنی طاقت کے ”بہترین“ مظاہرے پر خوشیاں منا رہی تھی اور کرائے کے لاکھوں لوگوں کا اجتماع دیکھ کر نشے کی کیفیت میں مبتلا تھی۔ ایک طرف مرگ انبوہ… دوسری طرف جشن کا سماں… ایک طرف موت کے سائے اور خوف انجانے … دوسری طرف فتح و خوشی کے شادیانے۔ گویا یہ ایک قوم، ایک ملک نہیں تھا؟؟ سوچتا ہوں کہ یہ انتخابات کا سال ہے، یہ جوش سے زیادہ ہوش کاسال ہے۔ وکلا کی قانون کی حکمرانی کی تحریک نے سوچوں میں انقلاب برپا کر کے جمہوریت کی آمد کی نوید دی تھی اور قوم کو روشن مستقبل کے خواب نظر آنے لگے تھے لیکن اچانک یہ کیا ہو گیا؟ کیا مقصد اس تحریک کو ختم کرنا اور خوف و دہشت کے راج کو مسلط کرنا تھا؟ اگر ہمارے صبر و تحمل کا یہی حال رہا تو پھر انتخابات کیسے ہوں گے؟ کیا انتخابات کی تپش انتقام اور طاقت کی آگ کو مزید بڑھکائے گی؟ کیا معصوم شہریوں کا خون اسی طرح بہے گا اور میڈیا پر اسی طرح گولیاں چلائی جائیں گی؟ کیا اسی طرح ہم دنیا بھر میں ملک و قوم کی بدنامی کا تماشا دیکھتے رہیں گے؟ “

ایک سوال:

کیا کیا جا سکتا ہے؟ کیا کیا جانا چاہیے؟
 

پاکستانی

محفلین
عوام مر رہے ہیں، کراچی جل رہا ہے۔
ٹی وی چینل دکھا دکھا کے تھک گئے۔
لکھنے والوں کی لکھ لکھ کر انگلیاں سوجھ گئیں۔
اس کے باوجود کہیں کسی طرف سے ندامت کے دو آنسو بھی گرے ہیں؟
بے حسوں کے اس معاشرے میں آپ اور میں کیا کر سکتے ہیں؟
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم
بھائی یہ تو ایک رپورٹ کی تکمیل ہے کہی نظر سے گزری تھی کہ فوج اور عوام کے درمیان اتنی خلا پیدا کی جائے کہ یہ لوگ آپس میں لڑ پڑے اللہ اکبر
کیا اس پاک فوج میں ایک بھی جنرل ایسا نہیں کہ پوچھ سکے کہ کیا تم ہی سب کچھ ہوں لیکن سب بے ضمیر ہوچکے ہیں میڈیا اور دشمن نے اتنا کام کردیا ہے ۔۔۔۔
میرا ذاتی ایک واقعہ ہے میں سی ایم ایچ میں گیا تھا تو وہاں پر تین چار جگہ قرآن پاک کی آیات دیکھی تو دل میں سوچھا کیا یہ لوگ اب بھی اس کو جانتے ہیں اور پڑھتے ہیں ہمارے ذہن اس لوگوں نے اسطرح الٹ دیے دیکھیں تو علماء شہید مساجد مدارس مجاہد یہ کیا ہیں ۔ کیا یہ ایک مسلمان فوج کی شان ہوسکتی ہے

دعاؤں کا رنگ ۔ سعدی کے قلم سے
 

جیسبادی

محفلین
برائی کو مٹانے کے لیے علم اور روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان واقعات کو document کرنا ضروری ہے۔ میری تجویز ہے کہ کراچی کے ان فسادات پر وکیپیڈیا پر علیحدہ مضمون لکھ دیں، تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے ہر کردار کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔ چیف جسٹس پر ایک مضمون موجود ہے مگر اس میں فسادات کی زیادہ تفصیل مناسب نہیں، اس کے لیے علیحدہ مضمون ہونا چاہیے۔
 

باسم

محفلین
نعمان کی ایک عمدہ تحریر
iluvkhi-peach.gif

دور پار کی کسی ریاست میں ایک عظیم شہر ہے۔ شہر جو پورا ملک ہے۔ جو حسین تو نہیں، مگر جفاکش ہے، وفا شعار ہے اور لائق بھروسا ہے۔ جو ذمہ دار ہے، بڑا ہے، قدامت، جدت، مشرق اور مغرب کے بیچ میں کھڑا ہے۔ جو ایک پل ہے معاشی خوشحالی کا، خوابوں کا۔ جہاں پری زاد اور پریاں رہتی ہیں۔ جہاں برے جادوگر اور شیطان بھی بستے ہیں۔ یہ بدی کی طاقتیں ایک عرصے سے اس شہر کے پیچھے پڑی ہیں۔ یہاں کے رہنے والوں کو دہشت زدہ کرکے یہ ان کے خواب ان سے چھین لینا چاہتے ہیں۔ یہ برے جادوگر چاہتے ہیں کہ اس شہر میں ہر طرف فساد، آگ اور خون ہو۔

ان برے جادوگروں کے مقابلے میں ایک ننھا پری زاد ایک چھوٹا سے بٹن بناتا ہے۔ یہ بٹن ہے پیار کا۔ ننھا پری زاد لوگوں سے کہتا ہے کہ اپنے دروازوں، کھڑکیوں، لباس اور سواریوں پر یہ بٹن چسپاں کرلو۔ اس بٹن میں وہ منتر ہے جو بدی کی طاقتوں کے سارے مظالم کا جواب ہے۔ اسے دیکھ کر شیطان بھاگ تو نہیں جائیں گے، مگر یہ ان پر ویسا ہی اثر کرے گا جیسا آگ اور خون کی ہولی تم پر کرتی ہے۔ اس بٹن سے وہ شیطان دہشت زدہ ہوجائیں گے۔

آپ بھی اس ننھے پری زاد کا یہ جادوئی بٹن اپنے بلاگ، گاڑیوں، گھروں اور دکانوں پر لگائیں اور اس عظیم شہر کے مظلوم عوام کا ساتھ دیں۔
یہ پیار کا بٹن مزید رنگوں میں
 

آصف

محفلین
کراچی میں ایم کیو ایم نے جو کچھ کیا ہے وہ انتہائی کم ظرف ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

لیکن میں عبدالوہاب سے درخواست کروں گا کہ اس کے باوجود وہ اپنا دل بڑا رکھیں اور جنرل نصیراللہ بابر کے اطوار کی تعریف نہ کریں۔ پولیس مقابلوں میں مجرموں کا مارنا بھی ایک قتل ہے۔ ایم کیو ایم کے غنڈوں کو بھی بہرحال عدالتی نظام کا استحقاق حاصل ہے۔

قانون اور عدالتوں کی بالادستی ہمارے لئے تمام ذاتی اختلافات سے بڑھ کر مقدم ہونی چاہئیے۔ ایم کیو ایم کی دہشت گردی اور ہماری سوچ میں یہی بنیادی فرق ہے۔
 

آصف

محفلین
جیسبادی کی سوچ بہت عمدہ ہے۔ ہمیں ضروربالضرور ان واقعات کو تفصیل سے (اور حوالوں کے ساتھ) لکھنا چاہئیے کیونکہ برائی کے مقابلہ میں یہی ہم لوگوں کا ہتھیار ہے۔
 
سیدہ شگفتہ نے کہا:
محب علوی نے کہا:
کیا ہم اس دفعہ بھی خاموش رہیں گے اور چپ چاپ خون کی ہولی دیکھتے رہیں گے اور لاتعلقی اور بے حسی کی موٹی تہہ اپنے پورے بدن پر لپیٹے رہیں گے؟

کیا ہمارے دلوں کو دہلانے کے لیے ابھی اور خون بہانا ضروری ہے؟

کیا ابھی ہمارے دلوں کی سختی موجود ہے اور بہتے ہوئے خون نے ہمارے دلوں کو بھی خون کے آنسو نہیں رلائے؟


آج صفدر محمود کا اداریہ پڑھا اور چند سوالات جو میرے بھی ذہن میں تھے ان کے اداریے میں تھے۔

“ یہی چیف جسٹس چھبیس گھنٹوں کا سفر طے کر کے لاہور آئے تھے لیکن نہ کسی کا سر پھٹا اور نہ کسی کا دامن تار تار ہوا۔ کیا ہم اسی طرح کراچی میں بھی نہیں کر سکتے تھے؟ لیکن میں جب ٹی وی کی سکرینوں پر کراچی میں ہلاکت، قتل و غارت، لاقانونیت اور کھلی فائرنگ کے مناظر دیکھ رہا تھا اور رپورٹر حضرات کاروں کے نیچے لیٹ کر دیواروں کی اوٹ میں پناہ لے کر آنکھوں دیکھا حال بیان کر رہے تھے تو مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میں پاکستان کا نہیں بلکہ عراق کا کوئی منظر دیکھ رہا ہوں۔ وور دورتک قانون کا کوئی نشان نہیں تھا۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سوچی سمجھی سکیم کے تحت سڑکوں سے غائب کر دیئے تھے اور قاتلوں کو کھلی چھٹی دے دی گئی تھی ۔ بالکل اسی طرح جس طرح قیام پاکستان کے وقت ہوا تھا یا پھر جس طرح افغانستان اور عراق میں ہوتا ہے البتہ عراق اور افغانستان میں فوج نظر آتی ہے لیکن کراچی میں تو لاقانونیت سڑکوں پر ناچ رہی تھی اور انسانوں کو پرندوں کی مانند گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ بار بار ایک ہی سوال میرے ذہن میں اٹھتا تھا کہ حکومت کہاں ہے؟ قانون کہاں ہے؟ شہریوں کو حفاظت اور تحفظ بہم پہنچانے والے ادارے کہاں ہیں؟ کیا ہم اسی لئے ٹیکس دیتے ہیں؟ کیا ایسی حکومت کو شہریوں سے توقعات وابستہ رکھنے کا حق حاصل ہے؟ کیا حکومت عقل و دانش کا مظاہرہ کر کے اس تصادم کو ٹال نہیں سکتی تھی؟ کیاحکومت پہلی گولی چلتے ہی مجرم کو گرفتار کر کے لاقانونیت کے سمندر کے سامنے بند نہیں باندھ سکتی تھی؟ جب میرے ذہن میں اس طرح کے سوالات سر اٹھا رہے تھے اسی وقت، عین اسی وقت، ٹیلی ویژن کی سکرین پر اسلام آباد کی ریلی یا ریلا کے مناظر دکھائے جا رہے تھے۔ مرکزی حکومت کراچی کے قتل و غارت پر مغموم ہونے کی بجائے اپنی طاقت کے ”بہترین“ مظاہرے پر خوشیاں منا رہی تھی اور کرائے کے لاکھوں لوگوں کا اجتماع دیکھ کر نشے کی کیفیت میں مبتلا تھی۔ ایک طرف مرگ انبوہ… دوسری طرف جشن کا سماں… ایک طرف موت کے سائے اور خوف انجانے … دوسری طرف فتح و خوشی کے شادیانے۔ گویا یہ ایک قوم، ایک ملک نہیں تھا؟؟ سوچتا ہوں کہ یہ انتخابات کا سال ہے، یہ جوش سے زیادہ ہوش کاسال ہے۔ وکلا کی قانون کی حکمرانی کی تحریک نے سوچوں میں انقلاب برپا کر کے جمہوریت کی آمد کی نوید دی تھی اور قوم کو روشن مستقبل کے خواب نظر آنے لگے تھے لیکن اچانک یہ کیا ہو گیا؟ کیا مقصد اس تحریک کو ختم کرنا اور خوف و دہشت کے راج کو مسلط کرنا تھا؟ اگر ہمارے صبر و تحمل کا یہی حال رہا تو پھر انتخابات کیسے ہوں گے؟ کیا انتخابات کی تپش انتقام اور طاقت کی آگ کو مزید بڑھکائے گی؟ کیا معصوم شہریوں کا خون اسی طرح بہے گا اور میڈیا پر اسی طرح گولیاں چلائی جائیں گی؟ کیا اسی طرح ہم دنیا بھر میں ملک و قوم کی بدنامی کا تماشا دیکھتے رہیں گے؟ “

ایک سوال:

کیا کیا جا سکتا ہے؟ کیا کیا جانا چاہیے؟

سب سے پہلے تو واقعات اور حقائق کو بیان کیا جائے اور احتجاج رقم کیا جائے اس کے بعد بنیادی مسائل پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور یہ علم سب تک پھیلایا جائے کہ آئیندہ ایسی کسی بھی کاروائی سے بچنے کے لیے کیا کیا کیا جا سکتا ہے اور مستقبل میں یہ مباحث اور حقائق آنے والے خطرات سے باخبر ہونے میں کلیدی کردار ادا کر سکیں۔

آواز بلند کرنا بہت ضروری ہے تاکہ کوئی اسے معمول کی کاروائی نہ سمجھے اور مجرمین کے خلاف مؤثر کاروائی کے لیے دباؤ بڑھایا جائے۔
 
آصف نے کہا:
جیسبادی کی سوچ بہت عمدہ ہے۔ ہمیں ضروربالضرور ان واقعات کو تفصیل سے (اور حوالوں کے ساتھ) لکھنا چاہئیے کیونکہ برائی کے مقابلہ میں یہی ہم لوگوں کا ہتھیار ہے۔

آصف میں نے دیکھا ہے کہ آپ بھی حوالہ جات مہیا کرنے میں مہارت رکھتے ہیں اور اس وقت اشد ضرورت بھی ہے تو کیوں نہ ہم سب مل کر اس دھاگہ پر حوالہ جات ، تصاویر ، ویڈیو پوسٹ‌ کرتے جائیں اور پھر اس میں سے ایک مضمون بنا کر وکیپیڈیا پر بھی پوسٹ‌کر دیں۔
 
آج ٹی وی پر حملے کی ویڈیو

کل ڈاکٹر فاروق ستار نے آج ٹی وی پر حملے کی مذمت کی اور اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے غیر مشروط طور پر آج ٹی وی سے معافی مانگ لی اور کہا کہ اگر اس میں کوئی ایم کیو ایم کا کارکن ملوث ہوا تو اسے بھی سزا دی جائے گی۔



آج پر حملے کی ویڈیو کا لنک یہ ہے جس میں طلعت حسین لیٹ کر رپورٹنگ کر رہے ہیں اور ایم کیو ایم کے کارکنان مسلسل چھے گھنٹے تک فائرنگ کرتے رہے۔


[youtube]http://www.youtube.com/watch?v=O6XfT1mIgso [/youtube]]
 

باسم

محفلین
آج ٹی وی پر حملہ کی بنیاد بننے والی ویڈیو
[youtube]http://www.youtube.com/watch?v=GmjzeStwWWw[/youtube]
 
یہ واقعی بہت اہم ویڈیو ہے اور مجھے مل نہیں رہی تھی۔ باسم اس طرح کی ویڈیوز اور تصاویر بہت حد تک معاملے کو واضح کرتی ہیں۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین
[align=justify:8cdb6ef325]السلام و علیکم
ایک عرصہ ہو گیا یہ سنتے سنتے کہ پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے لیکن اب تو واقعی لگتا ہے کہ ملک اس وقت اپنی تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ 12 مئی کو کراچی میں ہونے والے افسوناک واقعات نے ملک میں برپا انارکی اور افراتفری کو پوری طرح واضح کر دیا ہے۔ جو لوگ اس کو سوچی سمجھی سازش کہہ رہے ہیں وہ غلط نہیں ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہ ایمرجنسی نافذ کرنے کے لئے ایسے واقعات پلاٹ کرنا بہت ضروری تھا۔
برطانوی اخبار “ڈیلی ٹیلیگراف“ اس کو The bloodiest episode in a two-month-long challenge کا نام دیتا ہے۔ Daily Telegraph
اسی طرح بہت سے تبصروں میں کراچی میں ہونے والے خون خرابے کو بغداد اور افغانستان میں جاری خون ریزی سے تشبیع دی جا رہی ہے۔۔۔

wpak13a.jpg

اپنے ہی شہر میں کتنی لاشیں اس طرح گرتی رہیں اور قانون نافذ کرنے والوں کو کچھ نظر نہیں آیا۔۔۔کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ ایک اپنے ہی ملک میں عوام اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں مارے جائیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پوری توجہ وکیلوں کے ایک گروہ کو ایک جگہ محصور کرنے میں صرف ہوں۔۔۔ ایک طرف تو رکاوٹیں کھڑی کرکے سب راستے بند کر دیے جاتے ہیں اور دوسری طرف کھلے عام قتل و غارت بپا ہوتی دیکھ کر بھی کسی کا راستہ نہیں روکا جاتا۔۔۔ “ڈیلی ٹیلیگراف“ نے ایک سوال یہ بھی اٹھایا ہے کہ “ایک شخص لند ن میں بیٹھ کر کس طرح کراچی کے معاملات چلا رہا ہے۔۔۔“
“ Running Karachi from London" کے عنوان سے اس مضمون میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ایک طرف تو ایک مجمع اپنے لیذر کے ٹیلی فونک خطاب کو سن رہا تھا اور دوسری طرف اسی پارٹی کے کارکنان خطرناک اسلحے سے لیس فائرنگ کا تبادلہ کر رہے تھے۔Running Karachi from London
پاکستانی عوام بے حس نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے ہمیں قیامِ پاکستان کے بعد مخلص قیادت میسر آ ہی نہیں سکی۔ آج بھی اپنے سیاست دانوں کو دیکھیں تو امید کی کرن ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ کچھ سیاست دان “بڑی سرکار“ کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر مشرف کے بعد صرف وہی“طالبائزیشن“ کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف کچھ لیڈر پاکستان کی بقا کو مشرف کی بقا کے ساتھ نتھی کرتے ہیں۔ (حوالہ:اوپر دیا گیا لنک)۔۔ اور باقی تاک میں بیٹھے ہیں کہ کب اور کیسے اس صورتِ حال کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا جائے۔
ملک کی بگڑتی ہوئی صورتحال پاکستان کو عالمی سطح پر بھی بہت کمزور بنا رہی ہے۔ امریکہ اور اس کے حواری ایران پر حملہ کرنے کے لئے بے چین ہیں اور اس صورت میں جب پاکستان پہلے ہی داخلی انتشار کا شکار ہے۔ امریکہ کے لئے اس کو اپنے فائدےکے لئے استعمال کرنا چنداں مشکل نہیں ہو گا۔سرحدوں پر افغانستان اور بھارت کی طرف سے بھی خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگر اب بھی ہمارے حکمرانوں اور سیاسی رہنماؤں نے اپنی روش نہیں بدلی یا ان کو اس کا احساس نہیں دلایا گیا تو شاید تاریخ پوری پاکستانی قوم کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔[/align:8cdb6ef325]
 
Top