یوم الفرقان ، غزوۂ بدر ، معرکہ حق وباطل

ام اویس نے 'سیرتِ سرورِ کائنات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 11, 2020

  1. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,896
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    غزوات النبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم
    عام خیال ہے کہ اسلام جب تک مکہ میں تھا مشکلات و مصائب کا شکار تھا اور مدینہ آتے ہی اس کی تمام تکالیف دور ہو گئیں۔ مگر یہ خیال صحیح نہیں۔ مکہ میں مصیبت سخت لیکن تنہا تھی مدینہ میں آکرمشکلات گوں ناگوں اقسام میں بدل گئیں۔ مکہ میں صرف قریش کا ظلم وستم تھا مگر مدینہ میں مشرکینِ مکہ کی دشمنی کے ساتھ ساتھ یہود ونصاری اور منافقین مدینہ کی عداوت بھی شامل ہوگئی۔ مدینہ کا اثر چاردیواری تک محدود تھا؛ اگر مکہ میں اسلام کو عروج حاصل ہوجاتا تو حرم کی برکت کے اثر سے تمام قبائل اسلام قبول کر لیتے۔
    قریش نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ہجرت کر جانے کے ساتھ ہی مدینہ پر حملے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ عبد الله بن اُبی کو خط لکھا کہ یا تو محمد ( صلی الله علیہ وآلہ وسلم ) کو قتل کر دو یا ہم ان کے ساتھ ہی تمہارا بھی قصہ تمام کر دیں گے۔
    چونکہ انصار میں سے زیادہ تر لوگ جن میں عبد الله بن ابی کا بیٹا اور بھائی بھی شامل تھے مسلمان ہو چکے تھے اس لیے وہ قتل و غارت گری سے باز رہا۔
    تاہم قریش کی شہہ پر منافقین اور یہودو نصاری کا دماغ پھر چکا تھا۔ اسی زمانے کا ایک واقعہ صحیح مسلم میں مذکور ہے۔
    آپ صلی الله علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار بنو الحارث بن خزرج کے محلے میں تشریف لے جارہے تھے۔ راستے میں ایک جگہ مشرکین و منافقین ، یہود اور بعض مسلمان بیٹھے تھے۔ گدھے کے چلنے سے گرد اڑی تو منافق عبد الله بن اُبی نے کپڑا اپنے منہ پر ڈال لیا اور حقارت سے کہا: “ گرد نہ اُڑاؤ”
    نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے مجمع کو سلام کیا اور قرآن مجید کی کچھ آیات پڑھ کر سنائیں۔ عبد الله نے کہا: “اے شخص مجھے یہ پسند نہیں ، اگر تمہاری دعوت سچی بھی ہے تو ہماری مجلس میں آکر ہمیں ستایا نہ کرو۔” اس کے حقارت امیز رویہ پر مسلمانوں کا خون جوش مارنے لگا، قریب تھا کہ جھگڑا بڑھ جاتا آپ صلی الله علیہ وسلم نے سمجھا بجھا کر معاملہ ٹھنڈا کیا۔
    صحیح بخاری کتاب المغازی کی ابتدا میں اسی دور کا ایک اور واقعہ مذکور ہے۔
    حضرت سعد بن معاذ جو قبیلہ اوس کے سردار تھےعمرہ کرنے مکہ تشریف لے گئے اور امیہ بن خلف سے دوستی ہونے کی وجہ سے اس کے مہمان ہوئے۔ ایک دن طواف کے دوران اتفاق سے ابوجہل سامنے آگیا اور اُمیہ سے پوچھا کہ یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟
    جب اسے علم ہوا کہ یہ مدینہ سے سعد بن معاذ ہیں تو انہیں دھمکی دیتے ہوئے بولا: تم لوگوں نے صابیوں کو اپنے ہاں پناہ دی ہے۔ میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ تم کعبہ میں آسکو۔ خدا کی قسم اگر امیہ ساتھ نہ ہوتا تو تم بچ کر واپس نہیں جا سکتے تھے۔ حضرت سعد نے جواب دیا: “اگر تم نے ہمیں حج سے روکا تو ہم بھی تمہارا مدینے کا راستہ روک دیں گے۔”(یعنی شام کی تجارت کا راستہ)
    اس قسم کے حالات میں ایک مدت تک یہ حال رہا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم راتوں کو جاگا کرتے تھے۔ اور صحابہ ہتھیار باندھ کر سوتے تھے۔
    مدینہ میں آکر نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلا کام اپنی اور مہاجرین و انصار کی حفاظتِ کی تدبیر کی۔ قریش نے مدینہ کی بربادی کا فیصلہ کر لیا تھا اور اپنے حلیف قبائل میں مخالفت کی آگ بڑھکا دی تھی۔
    چنانچہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے بھی ان کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کیا اور اسی سلسلہ میں مدینہ کے قرب وجوار کے قبائل سے امن و امان کے معاھدے کیے۔
    قریش کے چھوٹے چھوٹے گروہ لوٹ مار کے لیے مدینہ کا گشت لگاتے رہتے؛ یہانتک کہ مکہ کا ایک رئیس کُرز بن جابر فہری مدینہ کی چراہ گاہ تک پہنچ گیا اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے مویشی لوٹ لیے۔ اس کا پیچھا کیا گیا لیکن وہ بچ کر نکل گیا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے مدینہ کی حفاظت کے لیے مدینہ کے اطراف قبائل کے ساتھ معاہدہ کی مہمات بھی بھیجیں۔ جن میں سب سے پہلا قبیلہ جہینہ ہے جو مدینہ سے تین منزل پر آباد تھا اور ان کا کوہستان دور تک پھیلا ہوا تھا۔ صفر دو ہجری میں آپ صلی الله علیہ وسلم ساٹھ مہاجرین کے ہمراہ ابوا کے مقام تک گئے جو مدینہ سے اسی میل کے فاصلہ پر واقع ہے اور جہاں آپ کی والدہ کی قبر بھی ہے۔ یہاں آپ نے چند روز قیام کیا اور بنو ضمرہ سے معاہدہ کیا جن کے سردار کا نام مخشی بن عمرو ضمری تھا۔ معاہدے میں بنو ضمرہ کے مال وجان محفوظ رہنے کی ضمانت دی گئی اور ان پر بیرونی حملے کی صورت میں مدد کا وعدہ کیا گیا۔ نیز یہ شق بھی شامل تھی کہ جنگ کی صورت میں مسلمان اگر ان کو مدد کے لیے بلائیں تو وہ مدد کو آئیں گے۔ تمام محدثین بشمول صحیح بخاری غزوات کی ابتدا اسی واقعہ سے کرتے ہیں۔
    آپ نے حفاظت کے لیے جاسوسی کا نظام بھی مرتب کیا۔ اس مقصد کے لیے رجب دو ہجری میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے عبد الله بن جحش کو بارہ آدمیوں کے ساتھ بطنِ نخلہ کی طرف بھیجا۔ یہ مقام مکہ اور طائف کے درمیان واقع ہے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے بھیجتے وقت عبد الله کو ایک خط دے کر فرمایا: “اسے دودن بعد کھولنا”خط میں لکھا تھا کہ مقام نخلہ پر قیام کرو اور قریش کے حالات کا پتہ لگاؤ۔اتفاق سے قریش کے ایک مختصر قافلے سے مڈبھیڑ ہوگئی جو شام سے سامانِ تجارت کے ساتھ واپس لوٹ رہا تھا۔ عبد الله بن جحش نے ان پر حملہ کردیا۔ ایک شخص عمر بن حضرمی مارا گیا جو قریش کے رئیسِ اعظم حرب کا حلیف تھا۔ دو کو گرفتار کرلیا جن کا تعلق بڑے معزز خاندان سے تھا اور مال غنیمت لے کر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے مال غنیمت قبول نہ کیا اور ارشاد فرمایا: “میں نے تمہیں یہ کرنے کا حکم نہیں دیا تھا”
    اس واقعہ نے قریش کومزید مشتعل کر دیا۔

    غزوہ بدر؛ یوم الفرقان

    آل عمران آیة : 123
    وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
    اردو:
    اور اللہ نے جنگ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی جبکہ اس وقت بھی تم بے سروسامان تھے۔ پس اللہ کی نافرمانی سے بچو تاکہ شکزگذار بن جاؤ۔
    بدر:-
    مدینہ النبی صلی الله علیہ وسلم سے تقریبا اسی میل کے فاصلے پر شام جانے کا راستہ دشوار گزار گھاٹیوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ وہیں ایک گاؤں بدر ہے جہاں ہر سال میلہ لگتا تھا۔
    وجوھات :-
    قریش نے ہجرت کے موقع پر رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے زندہ بچ نکلنے کو فراموش نہ کیا؛ چنانچہ ان کے چھوٹے چھوٹے گروہ مدینہ پر حملہ آور ہوتے رہے، یہانتک کہ کرز فہری مدینہ کی چراگاہوں تک آکر غارتگری کر گیا۔ حملہ کے لیے مصارف جنگ کی ضرورت تھی چنانچہ اس بار جو قافلہ تجارت کے لیے شام کو روانہ ہوا اس میں مکہ کے ہر مرد وزن نے اپنے سرمائے کے ساتھ حصہ لیا؛ تاکہ اس کے نفع کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کی ضروریات پر خرچ کیا جائے۔ قافلہ ابھی شام سے واپس روانہ نہ ہوا تھا کہ رئیس قریش کے حلیف حضرمی کے قتل کا اتفاقیہ واقعہ پیش آگیا۔ جس سے قریش مزید بھڑک اٹھے۔ اس دوران مکہ میں یہ غلط خبر مشہور ہوگئی کہ مسلمان تجارتی قافلے کو لوٹنے آ رہے ہیں۔ قریش کے غیظ و غضب کا بادل اٹھا اور پورے عرب پر چھا گیا۔
    معرکے کی تیاری :-
    نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو ان حالات کی خبر ہوئی تو آپ نے صحابہ کرام کو مشورے کے لیے طلب کیا۔ حضرت ابوبکر و عمر وغیرہ مہاجرین نے جوش و خروش سے اہل مکہ کے مقابلے پر جمے رہنے کا اعلان کیا۔ آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم انصار کی رائے کے منتظر تھے؛ چنانچہ حضرت سعد بن عبادہ سردارِ خزرج اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور کہا: کیا آپ صلی الله علیہ وسلم کا اشارہ ہماری طرف ہے؟ والله آپ فرمائیں تو ہم سمندر میں کود جائیں گے۔
    صحیح مسلم کی روایت ہے کہ حضرت مقداد نے کہا: ہم قومِ موسیٰ کی طرح آپ سے یہ نہ کہیں گے کہ آپ اور آپ کا خدا جا کر لڑیں۔ ہم آپ کے دائیں بائیں سامنے اور پیچھے سے لڑیں گے۔ یہ سُن کر آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگا۔
    بدر کی طرف روانگی:-
    بارہ رمضان المبارک کو آپ صلی الله علیہ وسلم تین سوتیرہ جان نثاروں کے ساتھ مدینہ سے نکلے۔ کم عمر بچوں کو واپس بھیج دیا گیا۔ عمیر بن ابی وقاص چھوٹے بچے تھے جب انہیں واپسی کا کہا گیا تو وہ رونے لگے ؛ چنانچہ آپ نے اجازت دے دی۔ عمیر کے بھائی سعد بن ابی وقاص نے کمسن سپاہی کے گلے میں تلوار لٹکائی۔
    أبو البابہ عبد المنذر کو مدینہ کا حاکم مقرر کیا گیا۔ عالیہ یعنی مدینہ کی بالائی آبادی پر عاصم بن عدی کو مقرر فرمایا۔
    پھر آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم میدانِ بدر کی طرف بڑھے اور دو خبر رساں بسیبہ اور عدی آگے روانہ کیے کہ قریش کی نقل و حرکت کی خبر لائیں۔ سترہ رمضان کو آپ بدر کے مقام پر پہنچے۔ سراغ رسانوں نے خبر دی، قریش وادی کے دوسرے سرے تک آگئے ہیں۔ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم وہیں ٹھہر گئے۔ حضرت حباب بن منذر نے آپ کی خدمت میں عرض کی ، جو مقام منتخب کیا گیا ہے وحی کی رو سے ہے یا فوجی تدبیر سے؟ ارشاد فرمایا: وحی نہیں ہے۔ حضرت حباب نے کہا بہتر ہوگا آگے بڑھ کر چشمے پر قبضہ کر لیا جائے اور آس پاس کے کنویں بے کار کر دئیے جائیں۔ آپ نے یہ رائے پسند فرمائی اور اسی پر عمل کیا گیا۔
    میدانِ جنگ کے حالات:-
    ادھر قریش مکہ بڑی تیاری اور سازوسامان کے ساتھ نکلے۔ لشکر ہزار افراد پر مشتمل تھا جن میں سو سواروں کا دستہ بھی شامل تھا۔ قریش کے سب سردار سوائے ابولہب کے اس لشکر میں شامل تھے۔ باری باری ہر روز دس اونٹ ذبح کرتے اور لوگوں کو کھلاتے تھے۔ عتبہ بن ربیعہ فوج کا سپہ سالار تھا۔ قریش کو بدر کے پاس پہنچ کر معلوم ہوا کہ تجارتی قافلہ بچ کر نکل گیا ہے تو قبیلہ زہرہ اور عدی کے لوگ یہ کہہ کر کہ اب لڑنا ضروری نہیں واپس لوٹ گئے۔
    پانی پر اگرچہ مسلمانوں کا قبضہ تھا لیکن دشمنوں کو بھی پانی بھرنے کی عام اجازت تھی۔ اسلامی لشکر میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے لیے صحابہ کرام نے میدان کے کنارے ایک چھپر کا سائبان تیار کر دیا؛ تاکہ آپ اس میں تشریف رکھیں۔ حضرت سعد بن معاذ آپ کی حفاظت کے لیے دروازے پر تیغ بکف کھڑے ہوگئے۔ تمام صحابہ نے رات بھر آرام کیا؛ لیکن آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم تمام رات مصروفِ دعا و گریہ رہے۔ سجدے میں گر کر گڑاگڑاتے رہے : “یا الله ! اگر آج یہ چند نفوس مٹ گئے تو قیامت تک کوئی تیری بندگی نہیں کرے گا”
    قریش جنگ کے لیے بے تاب تھے۔ تاہم ان میں کچھ نیک دل لوگ بھی موجود تھے جو اپنوں کا خون بہانے سے ڈرتے تھے۔ انہیں میں ایک حکیم بن حزام بھی تھے۔ انہوں نے عتبہ سے کہا کہ وہ قریش کو حضرمی کا خون بہا ادا کردیں۔ تجارتی قافلہ تو بچ گیا تھا۔ اب مسلمانوں پر حملہ کرنے کی یہی بڑی وجہ باقی تھی۔ عتبہ راضی ہوگیا؛ لیکن ابوجہل نہ مانا اور اس نے حضرمی کے بھائی أبو عامر کو بلا کر کہا؛ دیکھتے ہو تمہارا بدلہ تمہاری آنکھ کے سامنے سے نکلا جا رہا ہے۔ عامر نے عرب کے دستور کے موافق کپڑے پھاڑ ڈالے، گرد اڑا کر واعموہ واعموہ کا نعرہ لگایا۔ اس واقعہ نے فوج میں انتقام کے شعلے بھڑکا دئیے۔
    جنگ شروع ہوتی ہے:-
    صبح ہوتے ہی آپ صلی الله علیہ وسلم نے صف آرائی شروع کی، مہاجرین کا جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر کو عنایت فرمایا۔ خزرج کے علم بردار حضرت حباب بن منذر اور اوس کے حضرت سعد بن معاذ مقرر ہوئے۔
    عہد وفا کا اس قدر پاس تھا کہ اس موقع پر افرادی قوت کی اشد ضرورت کے باوجود حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت حسیل کو جنگ میں شامل ہونے کی اجازت اس بنا پر نہ دی کہ وہ آتے ہوئے راستے میں قریش سے عدم شرکت کا وعدہ کر آئے تھے۔
    حق و باطل ، نور وظلمت اور کفر و اسلام ہر رشتہ بھلا کر ایک دوسرے کے مقابل کھڑے تھے۔ باپ کے سامنے بیٹا ، ماموں کے سامنے بھانجا اور بھائی بھائی کے مقابل تھا۔
    صحیحین میں ہے کہ اس موقع پر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم پر سخت خشوع و خضوع طاری تھا۔ دونوں ہاتھ پھیلا کر دعا فرماتے “ یا الله اپنے وعدے کو آج پورا کر” بے خودی کے عالم میں چادر کندھے سے گر جاتی لیکن آپ کو خبر تک نہ ہوتی۔ حضرت ابوبکر نے تسلی دی کہ الله اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔
    آغازِ جنگ میں سب سے پہلے عامر حضرمی لڑائی کے لیے نکلا، جسے اپنے بھائی کے خون کا دعوی تھا۔ حضرت عمر کے غلام مہجع نے آگے بڑھ کر اسے مار گرایا۔ سپاہ سالارِ لشکر عتبہ جس نے سینے پر شتر مرغ کے پر سجا رکھے تھے اپنے بھائی اور بیٹے کو لے کر میدان میں نکلا اور اس وقت کے رواج کے مطابق مبازرت طلب کی۔ حضرت عوف، معاذ اور عبد الله بن رواحہ جواب دینے نکلے۔ اسے جب معلوم ہوا کہ ان کا تعلق انصار سے ہے اس نے پکار کر کہا: “محمد(صلی الله علیہ وآلہ وسلم) یہ لوگ ہمارے جوڑ کے نہیں ۔ چنانچہ آپ کے حکم سے انصار پیچھے ہٹ گئے اور مہاجرین میں سے حضرت حمزہ ، علی اور عبیدہ رضی الله عنھم میدان میں آئے ۔
    عتبہ اور ولید حضرت حمزہ اور علی کے ہاتھوں مارے گئے۔عتبہ کے بھائی شیبہ نے حضرت عبیدہ کو زخمی کر دیا۔ حضرت علی نے آگے بڑھ کر شیبہ کو قتل کر دیا اور عبیدہ کو اٹھا کر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے۔ مختلف روایتوں میں ہے عبیدہ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا: “ کیا میں شھادت کی نعمت سے سرفراز ہوا؟” آپ نے فرمایا : ہاں تم شھید ہو۔ اس پر انہوں نے کہا : آج ابو طالب زندہ ہوتے تو جان لیتے کہ ان کے اس شعر کا مستحق میں ہوں جس میں انہوں نے کہا: “ ہم اس وقت محمد ( صلی الله علیہ وسلم ) کو دشمنوں کے حوالہ کریں گے جب ان کے گرد مر جائیں اور اپنے بیٹے بیٹیوں سے بھلا نہ دئیے جائیں۔
    سعید بن العاص کا بیٹا ( عبیدہ) سر سے پاؤں تک لوہے کی زرہ پہنے نکلا اور پکار کر کہا: “میں ابو کرش ہوں” حضرت زبیر اس سے مقابلہ کرنے نکلے اور تاک کر آنکھ میں برچھی ماری ، وہ زمین پر گرا اور وہیں ہلاک ہوگیا۔ برچھی اس طرح گڑ گئی کہ حضرت زبیر نے لاش پر پاؤں رکھ کھینچا ، اس کے دونوں سرے خم ہوگئے۔ یہ برچھی اس طرح یادگار رہی کہ حضرت زبیر سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے لے لی، پھر خلفائے راشدہ کے پاس سے ہوتی ہوئی حضرت زبیر تک پہنچی۔
    حضرت زبیر کی تلوار پر بھی، جس کا دستہ چاندی کا تھا لڑتے لڑتے دندانے پڑ گئے۔ آپ کو اس معرکہ میں کئی زخم آئے ، شانے پر جو زخم لگا، ٹھیک ہوجانے کے بعد بھی اس میں انگلی چلی جاتی تھی۔
    اس کے بعد عام لڑائی شروع ہوئی۔ ابوجہل کی مخالفت اور اسلام دشمنی مشہور تھی، انصار کے دو بھائی معوذ اور معاذ نے عہد کر رکھا تھا کہ جنگ میں اس موذی کو یا تو مار دیں گے یا خود مر جائیں گے۔ دونوں نے حضرت عبد الرحمن بن عوف سے ابوجہل کے متعلق پوچھا، ان کا اشارہ پاتے ہی ابوجہل پر جھپٹے اور اسے تہہ خاک کر دیا۔ عکرمہ بن ابوجہل نے پیچھے سے معاذ کے شانے پر تلوار کا وار کیا جس سے بازو کٹ کر لٹک گیا۔ معاذ نے ہاتھ کو پاؤں کے نیچے دبا کر اپنے جسم سے الگ کر دیا اور لڑائی میں مشغول ہوگئے۔
    ابوجہل اور عتبہ وغیرہ بڑے بڑے سرداروں کی موت کے بعد قریش میں شکست کے آثار دکھائی دینے لگے مسلمانوں نے انہیں گرفتار کرنا شروع کر دیا؛ چنانچہ عباس ، نوفل ، عقیل ، اسود بن عامر ، عبد الله بن زمعہ اور ابو العاص وغیرہ بہت سے لوگ گرفتار ہوئے۔
    حق کی فتح:-
    غزوہ بدر میں الله کی مدد شامل حال رہی اور باوجود جنگی سامان سے آراستہ ہونے کے قریش کے بڑے بہادر جنگجو سردار نہتے و بے سروسامان مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ مسلمانوں میں سے صرف چودہ اصحاب نے جام شھادت نوش فرمایا۔ جن میں چھ مہاجر اور باقی انصار تھے۔ لیکن دوسری طرف قریش کی اصل طاقت ٹوٹ گئی۔ ان کے قریبا ستر آدمی ہلاک ہوئے؛ جن میں عتبہ ، شیبہ ، ابوجہل ، ابو البختری ، زمعہ بن الاسود ، عاص بن ہشام ، امیہ بن خلف ، منبہ بن الحاج جیسے سرکردہ لوگ شامل تھے۔ تقریبا ستر لوگ گرفتار ہوئے، جن میں سے عقبہ اور نضر بن حارث قتل کر دئیے گئے باقی قیدیوں کو مدینہ لے جایا گیا۔
    یہ قیدی دو دو چار چار صحابہ کرام میں تقسیم کر دئیے گئے۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے تاکید فرمائی کہ ان سے اچھا سلوک کیا جائے؛ چنانچہ صحابہ نے ان کے ساتھ یہ برتاؤ کیا کہ ان کو کھانا دیتے اور خود کھجور پر گزارا کرتے۔
    آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے مشورے پر ان قیدیوں سے فدیہ لے کر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ چار ہزار درہم فی قیدی فدیہ مقرر ہوا؛ لیکن جو قیدی ناداری کی وجہ سے فدیہ ادا نہیں کرسکتے تھے انہیں چھوڑ دیا گیا اور جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے ان کو حکم ہوا دس دس بچوں کو لکھنا سکھا دیں۔ حضرت زید بن ثابت نے اسی طرح لکھنا سیکھا۔
    غزوہ بدر کے اثرات:-
    قرآن مجید میں غزوہ بدر کو تفصیل سے بیان کیا گیا اور اسے حق وباطل کے معرکے کا نام دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی مدد کے لیے نشان زدہ فرشتے بھیجے گئے اور الله تعالی کی مدد و نصرت کا وعدہ پورا ہوا۔
    اس معرکہ نے مذہبی اور ملکی سطح پر بھی بہت گہرے اثرات ڈالے۔ درحقیقت معرکۂ بدر اسلام کی ترقی کا سب سے پہلا زینہ تھا۔ بڑے بڑے رئیس جو اسلام کی راہ میں لوہے کی دیوار کی مانند تھے فنا ہوگئے اور قریش کی اصلی طاقت و زور کا معیار کم ہوگیا۔ دوسری طرف دشمنی اورمخالفت بھی بڑھ گئی، پہلے صرف حضرمی کے خون بہا کا دعوی تھا، بدر کے بعد مکہ کا ہر گھر ماتم کدہ بن گیا لیکن غیرت کی وجہ سے قریش نے منادی کروا دی کہ کوئی شخص رونے نہ پائے بلکہ اس غم و غصہ کو انتقام کی آگ بڑھکانے کا ایندھن بنایا جائے۔ چنانچہ مقتولینِ بدر کے انتقام کے لیے قریش کا بچہ بچہ مضطرب تھا اور آئندہ غزوات اسی جوش و انتقام کے مظہر تھے۔
    غزوۂ بدر تاریخِ اسلام کا اولین معرکۂ جنگ ہے جس میں فتح سے دورس نتائج حاصل ہوئے۔ حق کا غلبہ شروع ہوا اور باطل کو شکست ہوئی۔
    استفادہ از سیرت النبی علامہ شبلی نعمانی رحمہ الله
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. شمشاد خان

    شمشاد خان محفلین

    مراسلے:
    1,807
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    شریک محفل کرنے کا شکریہ۔ جزاک اللہ خیر۔
     

اس صفحے کی تشہیر