یادِ سلف - محروم

کاشفی

محفلین
یادِ سلف​
(محروم - 1910ء)​
​
شگفتہ لالہ و گل اب بھی ہوتی ہیں بہاروں میں​
وہی ہے لمبی لمبی دوب اب بھی سبزہ زاروں میں​
​
وہی اب ہے جو پہلے تھا ترنّم آبشاروں میں​
دکھاتی ہے کرشمے اب بھی قدرت کوہساروں میں​
​
نظارے ہیں وطن کے دلنشیں، جیسے کہ پہلے تھے​
مگر افسوس ہم ویسے نہیں جیسے کہ پہلے تھے​
​
نہ وہ دل ہے، نہ ہے وہ دیدہء معنی مگر باقی​
بزرگوں کی خصائل کا نہیں ہم میں اثر باقی​
​
کمالات اُن کے باقی ہیں نہ وہ علم و ہنر باقی​
جو یاد اُن کی ہے وہ سونے کی چڑیا کے ہیں پر باقی​
​
امینِ معرفت کہتے ہیں اب تک جنکے سینوں کو​
ستم ہے اے زمیں تو کھا گئی ایسے دفینوں کو​
 

محمداحمد

لائبریرین
نظارے ہیں وطن کے دلنشیں، جیسے کہ پہلے تھے​
مگر افسوس ہم ویسے نہیں جیسے کہ پہلے تھے​
بہت خوب!​
بہت اچھا انتخاب ہے بھائی۔​
شاد آباد رہیے۔​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top