ہے ایسا بحر کہ جس کا کوئی کنارہ نہیں

عرفان سعید نے 'مزاحیہ شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 19, 2019

  1. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    4,404
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Persnickety
    (اقبال سے معذرت)
    ہے ایسا بحر کہ جس کا کوئی کنارہ نہیں
    جو بیوی کو سمجھا آبجو تو چارہ نہیں

    مرے مقام کو انجم شناس کیا جائے
    قریب میں رہتی کوئی بھی ستارہ نہیں

    وہ کانپ جاتی ہے دیکھ کر شہد کی مکھی
    تو اس مکھی کو دانستہ میں نے مارا نہیں

    جو روٹھ کر بیوی میکے چلی جاتی ہے
    ابالتا ہوں انڈے کہ میں بچارہ نہیں

    بڑے ہی چاؤ سے شمعیں میں نے جلائی تھیں
    کہا تھا اس نے ترے ہاتھ میں غبارا نہیں

    کبھی یہ سالے کبھی ساس میرے گھر میں رہیں
    گیارہ بچوں کے ہمراہ اب یہ یارا نہیں

    حیات کیمیا پڑھتے گزر گئی ہے مری
    میں ایسا پاپڑ ہوں گویا جو کرارا نہیں

    ۔۔۔ عرفان ۔۔۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 6
  2. احمد محمد

    احمد محمد محفلین

    مراسلے:
    155
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    کافی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ عرفان سعید صاحب کہاں گم ہوگئے۔۔۔

    تلاش کیا تو محفل پر اس شاعری کی صورت ان کی آخری حرکت نظر آئی۔۔۔

    اب آپ سب بھی جان گئے ہوں ان کی گمشدگی کا سبب۔ :D
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  3. امجد علی راجا

    امجد علی راجا محفلین

    مراسلے:
    1,945
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    اقبال کی زمین میں کھیتی کرنے کی جرأت کرنا بھی بہت ہمت کی بات ہے، آپ نے تو پوری غزل کہہ ڈالی :)
    بہت خوب، سلامت رہیں، اور محنت کرتے رہیں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. امجد علی راجا

    امجد علی راجا محفلین

    مراسلے:
    1,945
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    انڈے ابالنے میں اتنا وقت تو نہیں لگتا بھیا :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  5. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    4,404
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Persnickety
    بہت شکریہ راجا بھائی!
     

اس صفحے کی تشہیر