شیفتہ ہم سے آزاد روش ہاتھ میں زر رکھتے ہیں

Rehmat_Bangash

محفلین
ہم سے آزاد روش ہاتھ میں زر رکھتے ہیں

کیا قیامت ہے کہ اب سر و ثمر رکھتےہیں

فکر میں وصل کی شب کے قفسِ چرخ میں ہم

فکر آزادئ مرغانِ سحر رکھتے ہیں

نہ مذمت کا تحمل نہ ثنا کی خواہش

عیب رکھتے ہیں نہ ہم کچھ ،نہ ہنر رکھتے ہیں

دل ترا سنگ ہے پر آگ کہاں ہے اس میں

دل ہمارا ہے کہ شیشہ میں شرر رکھتے ہیں

آہ و زاری کی مصیبت سے بہت سہل چُھٹے

بذلہ وہذل ترے دل میں اثر رکھتے ہیں

نہ ہمارا کوئی دشمن ،نہ ہماراکوئی دوست

وہ نظر اورہے جواہلِ نظر رکھتےہیں

بے خودی ہم کو ہے اور ان کو خودآرائی ہے

نہ ہماری وہ،نہ ہم اُن کی خبر رکھتے ہیں

شیفتہ ہم سے ہو جس شخص کو ملنا مل لے

صبح اس شہر سے ہم عزمِ سفر رکھتےہیں
 

طارق شاہ

محفلین
بے خودی ہم کو ہے اور اُن کو خودآرائی ہے
نہ ہماری وہ ، نہ ہم اُن کی خبر رکھتے ہیں

شیفتہ ہم سے ہوجس شخص کو مِلنا، مِل لے !
صُبح اِس شہر سے ہم عزمِ سفر رکھتے ہیں


:thumbsup2:
 
Top