1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

عرفان صدیقی ہم بندگاں تو نذرِ وفا ہونے والے ہیں

Qaisar Aziz نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 20, 2014

  1. Qaisar Aziz

    Qaisar Aziz محفلین

    مراسلے:
    141
    ہم بندگاں تو نذرِ وفا ہونے والے ہیں
    پھر آپ لوگ کِس کے خدا ہونے والے ہیں

    اِس طرح مطمئن ہیں مِرے شب گزیدگاں
    جیسے یہ سائے ظلِ ہما ہونے والے ہیں

    بے چارے، چارہ سوزئی آزار کیا کریں
    دو ہاتھ ہیں، سو محوِ دعا ہونے والے ہیں

    اِک روز آسماں کو بھی تھکنا ضرور ہے
    کب تک زمیں پہ حشر بپا ہونے والے ہیں

    ہم پہلے تشنگی کی حدوں سے گزر تو جائیں
    سارے سراب، آبِ بقا ہونے والے ہیں

    لگتا نہیں ہے دل کو جفا کا کوئی جواز
    نامہرباں، یہ تِیر خطا ہونے والے ہیں

    ہم دل میں لکھ رہے ہیں، حسابِ سِتم گراں
    کچھ دن میں سب کے قرض ادا ہونے والے ہیں

    اِن راستوں میں دل کی رفاقت ہے اصل چیز
    جو صرف ہم سفر ہیں، جدا ہونے والے ہیں

    اچھا نہیں غزل کا یہ لہجہ مِرے عزیز
    بس چپ رہو کہ لوگ خفا ہونے والے ہیں

    عرفانؔ صدیقی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,305
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    بہت خوب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر