ہمیں بہادر لیڈر کی ضرورت ہے‘

نایاب

لائبریرین
ہمیں بہادر لیڈر کی ضرورت ہے‘
پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے علیحدہ علیحدہ ہونے والے اجلاسوں میں کوئٹہ سانحے پر بحث ہوئی، ماحول سوگوار رہا لیکن اراکین کی حاضری جہاں کم رہی وہاں اس اہم مسئلے پر بحث کے دوران کئی اراکین کی غیر سنجیدگی بھی نمایاں تھی۔
پنجاب کے ضلع جھنگ سے مسلم لگ (ق) کے شیخ وقاص اکرم نے کھل کر باتیں کیں اور کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں چند سیٹوں اور ووٹوں کی خاطر کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کرتی ہیں اور ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتیں۔
ان کی تقریر کے دوران جب مسلم لیگ (ن) کے بعض اراکین نے جملہ بازی کی تو بات گالم گلوچ اور ایک دوسرے کو مارنے کے لیے بعض اراکین کے لپکنے تک پہنچی اور حکومتی اراکین نے بچ بچاؤ کرایا۔
شیخ وقاص نے کہا کہ کوئٹہ میں اس وقت اڑسٹھ لشکر جھنگوی کے شدت پسند قید ہیں لیکن عدالتیں انہیں سزا نہیں دیتیں۔ ان کے بقول جن سات پولیس اہلکاروں نے شدت پسندوں کو گرفتار کیا ان میں سے پانچ مارے جاچکے ہیں۔
ان کے بقول لشکر جھنگوی کے سربراہ کو پنجاب حکومت پروٹوکول دیتی رہی ہے۔ ان کے بقول کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرنا چاہا تو پنجاب پولیس نے ان پر بندوقیں تان لیں۔
وقاص اکرم نے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ چند ووٹوں اور سیٹوں کی قربانی دیں اور جو مولوی ہتھیار اٹھاتا ہے اس کے خلاف کارروائی کریں کیونکہ ایسے لوگ کبھی باتوں سے نہیں مانتے۔
’جو ہمارے بچوں کو مارتے ہیں انہیں قتل کرنا ہوگا ۔۔۔ یہ چند مٹھی بھر لوگ ہیں ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ ہمیں بہادر لیڈر کی ضرورت ہے اور کل اگر قوم کے بچوں کو تحفظ دینا ہے تو آج تھوڑی قربانی دینی ہوگی۔‘
بحث کے دوران کسی نے کوئٹہ کے ہزارہ برادری کے خلاف حملوں کو الیکشن ملتوی کرانے کی سازش قرار دیا تو کسی نے اُسے اپنا سیاسی رنگ دیا۔
بعض اراکین نے کہا کہ ہزارہ برادری کے خلاف حملوں کی ذمہ داری لشکر جھنگوی نے قبول کی ہے اور سکیورٹی ادارے ان کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔
ایوان بالا سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اسحاق ڈار نے کہا کہ کوئٹہ سانحے میں لوگ انٹیلیجنس ایجنسیوں کے کردار پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں اور یہ واقعہ بربریت کی انتہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ رحمان ملک نے سینیٹ کو بند کمرے میں بریفنگ کا کہا لیکن بیماری کا بہانہ بنا کر لندن چلے گئے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ پشاور کی فوجی چھاؤنی کے علاقے میں پولیٹیکل ایجنٹ پر حملہ ہوا ہے، کل کور کمانڈر کے دفتر پر حملہ ہوسکتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ یہ فوجی علاقے میں کہاں سے گولہ بارود پہنچتا ہے؟
قومی اسمبلی میں ایسا ہی خدشہ آفتاب شیر پاؤ نے بھی ظاہر کیا اور کہا کہ ’پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر کے دو سو گز کے فاصلے پر فوجی چوکی قائم ہے۔۔۔ حملہ آور کہاں گئے؟‘
پیپلز پارٹی کے ندیم افضل چن نے کہا کہ جب لوگ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں حکومت کی نہیں بلکہ آئی جی فرنٹیئرکور کی چلتی ہے، تو پھر سیاستدانوں کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے کہا کہ پارلیمان جب فوجی بجٹ اور مدرسوں کو بیرونی فنڈنگ کے بارے میں نہیں پوچھ سکتی اور سیاستدانوں سے مولوی طاقتور ہے تو یہ ملک کیسے چلے گا؟
ایک موقع پر جب کئی اراکین وزیراعظم کے گرد جمع ہوئے اور درخواستیں دینے لگے تو عوامی نیشنل پارٹی کی بشریٰ گوہر اور ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی نے انہیں ٹوکا اور کہا کہ اتنے اہم معاملے پر بحث ہو رہی ہے اور اراکین غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
آخر ہماری خفیہ ایجنسیاں کیا کرتی پھر رہی ہیں؟ ان کے فرائض کیا ہیں؟ سیاست دان تو ناکام و نامراد ٹھہرے لیکن یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ فوجی چوکیوں کے ہونے کے باوجود حملہ آور اپنی کاروائیاں کرتے ہوئے کیسے 'فرار' ہو جاتے ہیں؟
 

آبی ٹوکول

محفلین
ہماری خفیہ ایجنسیاں کررہی ہیں ناں بڑا ضروری کام کہ سوشل میڈیا پر ایک عرصہ سے اپنے ٹاؤٹوں کے زریعے آئی ایس آئی از دا ورلڈ بیسٹ انٹیلی ایجینسی آف دا ورلڈ کا ڈھنڈورا پٹوارہے ہیں کیا آپ کی نظر میں یہ کوئی کام ہی نہیں اس بھلا ضروری اور اہم کام کیا ہوگا ؟؟؟
 
Top