ہمیں اپنے رویے میں کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے

" حضور اکرم ﷺ کی حیات طیبہ تو تھی، صبر و برداشت کا مظہر ۔ آپﷺ نے صبر و برداشت کے ذریعے پوری انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ آپ نا ممکن کو بھی ممکن بنا سکتے ہیں۔ یہ آپﷺکا صبر و برداشت ہی تھا کہ کوڑا پھینکنے والی بڑھیا دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتی ہے۔سفر طائف کے دوران آپ ﷺکو لہو لہان کر دیا جاتا ہے، لیکن آپﷺ برداشت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے اور انہیں بھی معاف فرما دیتے ہیں۔ اگر ہم بحیثیت انسان ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھ لیں ،تو ہماری زندگیوں سے غصہ، حسد، بغض، ڈپریشن،بلڈ پریشر اور بہت ساری نفسیاتی بیماریاں خود بخود بھاگ جائیں گی۔قوت برداشت ،ہمیں دوسرے ممالک سے امپورٹ نہیں کرنا پڑے گی بلکہ اس کے لئے ہمیں اپنے رویوں کو بدلنا ہو گا ۔ خرابی تب پیدا ہوتی ہے جب ہم اپنے آپ کو عقلِ کُل تصور کرتے ہوئے، اس بات پر بضد ہو جاتے ہیں کہ جو میں نے کہہ دیا وہ غلط ہو ہی نہیں سکتا۔جب اس قسم کی کا رویہ ہو گا تو پھر دوسرے کی بات ،رائے خواہ جتنی بھی مدلل کیوں نہ ہو، ہم اس کو نہیں مانتے۔ ہمیں اپنی اس سوچ کو بدلنا ہو گا کہ جو میں نے کہہ دیا، وہی درست ہے اور باقی سارے غلط ہیں، جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بات کو اہمیت دی جائے بالکل اسی طرح ہمیں بھی دوسروں کی بات کواہمیت دیتے ہوئے،سمجھنے کی عادت ڈالناہو گی۔یہ کر کے دیکھ لیں، زیادہ مشکل نہیں"
 
جمعہ کی نماز قائم ہونے ہی جا رہی تھی ۔۔امام صاحب خطبہ کے اختتام پر دعا کروا رہے تھے ایسے میں آخری صفوں میں بیٹھے ایک شخص کا موبائل بول اٹھا۔۔۔اس شخص نے بطور رنگ ٹون ایک انگلش گانا لگا رکھا تھا۔۔جیسے ہی اس کا موبائل بولا وہ شخص چونک گیا اس کے رنگ اڑ گئے اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور موبائل نکالا اور اسے سائلنٹ کرنے کی کوشش کی لیکن یہ آج کل کے زمانے کےا سمارٹ فون تھے لہذا فون ہینگ ہو گیا۔۔۔اب وہ شخص فون کے ساتھ مغز ماری کرنے میں مصروف تھا ۔۔فون پر گانا چل رہا تھا ادھر امام صاحب دعا کروا رہے تھے۔۔مسجد میں اللہ کا نام اور انگلش گانا ایک ساتھ چل رہا تھا۔۔۔اس شخص کے رنگ اڑے تھے وہ فون کو بند کر نے کی کوشش کر رہا تھا۔۔امام سمیت تمام لوگوں کی توجہ منتشر ہو چکی تھی۔۔۔۔امام نے اسی وقت دعا ختم کروا دی اور نماز قائم کرنے کا حکم دیا۔۔۔۔ادھر سے اس شخص کا موبائل بھی آف ہو ہی گیا۔۔۔۔مجھ سمیت تمام لوگ اس شخص کو گھورتے ہوئے نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔
قارئین میرے سامنے یہ سین کوئی پہلی بار نہیں ہوا تھا۔۔۔۔دو ہزار آٹھ میں خانہ کعبہ میں اللہ کے گھر کے سامنے کھڑا میں دعا کرنے میں مصروف تھا میرے ساتھ ہی کوئی پاکستانی صاحب بھی کھڑے تھے وہ بھی زور و شور سے رو رو کر دعا کرنے میں مصروف تھے۔۔۔۔اچانک مجھے راحت فتح علی خان کے گانے کی آواز سنائی دی میں فورا چونک گیا اللہ معاف کرے حرم میں خانہ کعبہ میں اللہ کے گھر کے سامنے کس بدبخت نے گانا لگا دیا۔۔۔۔پتا چلا کہ ساتھ موجود پاکستانی صاحب کے جیب سے گانے کی آواز سنائی دے رہی ہے وہ شخص جو رو رو کر دعا میں مصروف تھا فورا رونا دھونا چھوڑا اور جیب سے موبائل نکال کر کان سے لگا لیا۔۔۔۔اور سلام کے بعد بولا
" میں جی اللہ کے گھر کے سامنے کھڑا ہو بالکل سامنے کھڑا ہوں۔۔"
وہ شخص فون پر گویا ہوا اب دعا سے میری توجہ منتشر ہو چکی تھی میں نے سوچا کہ یہ شخص کال ختم کرے میں اس سے بات کروں گا کہ بندہ خدا خانہ کعبہ میں راحت فتح علی خان چلا دیا لیکن وہ شخص بات کرتا کرتا آگے کو نکل گیا۔۔۔
یہاں پر میں کچھ باتیں آپ لوگوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔
آپ لوگ گھر سے محلے کی مسجد میں جا رہے ہیں آپ نے نماز پڑھ کر گھر آجانا ہے تو پھر آپ لوگ مسجد میں موبائل کیوں لے کر جاتے ہیں۔؟۔موبائل لاک کر کے یا آف کر کے گھر رکھ جائیں۔۔۔۔موبائل لاک اور آف کرنے کا بھی اس لیے کہا کہ آپ نے جن کے نمبر "پا رشید" اور " حمید مستری" کے نام سے سیو کیے ہوتے ہیں ان کے پیغامات کوئی نا پڑھ سکے۔۔۔۔محلے کی مسجد میں موبائل لے جانے کا کیا تک بنتا ہے جب آپ نے نماز کے بعد گھر واپس آنا ہی ہے۔۔
۔۔چلیں اگر لے ہی گئے ہیں تو اس کم از کم سائلنٹ کر دیں۔۔۔۔

جب موبائل مسجد میں لے ہی آئے ہیں اسے سائلنٹ کر دیں یا آف کر دیں۔۔۔کیا آپ لوگوں کی فون کالز آپ کی نماز سے زیادہ اہم ہیں؟ ۔۔آپ کو علم ہے آپ نماز کے دوران فون نہیں اٹھا سکتے پھر اس کی بیل آن رکھنے کا کیا فائدہ؟؟نماز کے دوران موبائل بول اٹھے تو صرف آپ کی نہیں پوری مسجد کی توجہ منتشر ہو جاتی ہے کیوں کہ نماز کے دوران شیطان ویسے ہی نماز میں ڈکیتی کرنے کے وسیلے ڈھونڈتا ہے آپ نے ضرور شیطان کا وسیلہ بننا ہے؟اور انسان ہیں اگر بعض اوقات سائلنٹ کرنا بھول جاتے ہیں کم از کم رنگ ٹون تو ایسی ہو کہ آپ کو زیادہ شرمندگی نہ اٹھانی پڑے لہذا عام روٹین میں اپنے موبائل کی رنگ ٹون کوئی ڈیسینٹ سی رکھیں تا کہ مسجد یا کسی ایسی محفل میں جہاں موبائل کا سائلنٹ ہونا ضروری ہے وہاں آپ بھول جائیں تو آپ کا موبائل بول اٹھے آپ کو زیادہ شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔۔

اخلاقاً یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ اگر آپ نے کسی کو کال کی ہے اور اسنے نہیں اٹھایا یا آگے سے کاٹ دیا تو آپ تھوڑی دیر انتظار کریں پھر دوبارہ کال کریں یا ہو سکتا ہے اتنی دیر میں وہ خود آپ کو فارغ ہو کر فون کر لے۔ اور اسلام میں ہے کہ کسی کے دروازے پر تین بار دستک دیں اگر وہ جواب نہ دے تو لوٹ جائیں اور یہی حکم فون پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔اگر زیادہ ایمرجنسی ہے تو تین بار فون کریں وہ بھی وقفے وقفے سے۔
نماز کے حوالے سے آج کل کے سمارٹ فونز کے لیے ایک ایپ آتا ہے "صلاتک Salatuk" کے نام سے آپ اگر وہ انسٹال کر لیں تو اس میں Option ہے کہ جب نمار کا وقت ہو تو موبائل خود باخود سائلںٹ موڈ میں ہو جائے اور جب نماز کا وقت ختم ہو جائے تو واپس آپنی حالت پر آجاتا ہے اور ساتھ میں گھنٹی بھی بجتی ہے تاکہ آپ کو پتہ چل جائے یا اگر جو کالز آئی ہیں آپ انہیں دیکھ سکیں۔ اسکو ایک بار سیٹ کرنا پڑتا ہے اور بار بار کی کوفت سے انسان بچ جاتا ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ سائلنٹ اس لیے نہیں کرتے کہ بعد میں ہم بھول جاتے ہیں اور لوگ ناراض ہوتے رہتے ہیں انکے لیے بھی یہ پروگرام بہترین ہے۔
کال کرنے والے کو بھی وقت کا اندازہ کرنا چاہیے۔ بعض لوگ اکثر غلط ٹائم پر فون کرتے ہیں۔ جیسے عید والے دن ہم نماز پڑ کر ہی فارغ ہوئے تھے کہ ہمارے ایک دوست کو فون آگیا کہ آج آپ کی دکان کھلی ہے یا نہیں اب وہ کرتے کمپیوٹر کا کام اوپر سے وہ تھوڑے منہ پھٹ بھی ثابت ہوئے ہیں اسکے بعد آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انہوں نے ان صاحب کو کیا جواب دیا ہو گا بس اتنا کافی ہے کہ ہم نے کونوں میں انگلیاں ٹھوس کر وہاں سے اپنے گھر کیطرف دوڑ لگا دی
لہذا اول تو مسجد میں موبائل فون ہی نہ لے کر جائیں
اگر لے گئے ہیں تو سائلنٹ کر لیں ورنہ اپنی رنگ ٹون کم از کم ڈیسینٹ سی رکھیں کہ اگر آپ سائلنٹ کرنا بھول جاتے ہیں تو آپ کو زیادہ شرمندگی نا ہو۔
اور نماز کے دوران موبائل بول اٹھتا ہے تو جیب سے نکال کر اسے صرف کاٹیں مت اسے کاٹ کر سائلنٹ بھی کر دیں یا آف کر دیں تا کہ آپ اور باقی نمازی اذیت سے بچ سکیں۔۔۔
اللہ پاک ہم سب کو عمل کی توفیق دے آمین۔۔۔

تحریر : وقار عظیم

تبدیلی و اضافہ : فیضی
 
ایک بار جیل میں میرا لیکچر آرگنائز کرنے والے نے میرے لیکچر کے بعد مجهے کہا کیوں ناں ہم کوٹهڑی لگے لوگوں کے سامنے سے بهی گزریں. میں نے کہا ٹهیک ہے. اور ہم کوٹهڑیوں کے سامنے سے گزرتے، میں سلام کرتا، حال احوال پوچهتا، صبر کی تلقین اور اللہ سے معافی مانگنے کو کہتا. لوگ خوش ہو رہے تهے کہ اچانک ہمارا گزر ایک ایسی کوٹهڑی کے سامنے سے گزرا جس میں بمشکل 20 یا 22 سال کا نوجوان قصاص کے انتظار میں بند تها. چہرے کی معصومیت بتاتی تهی کہ یہ قاتل نہیں ہو سکتا. پوچها تو پتہ چلا کہ بیوی کو چهری سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے قتل کر کے یہاں پہنچا ہوا ہے.
تفصیل یوں بتائی گئی کہ اس کی شادی ہوئی، شادی کی چٹهیوں کے بعد کام پر لوٹا تو ساتهیوں نے اس کے ساته ڈراما کرنے کا پروگرام بنایا. ایک دن ایک ساتهی نے آ کر اسے کہا مبارک ہو تو نے نئی ٹویوٹا کار لے لی ہے! اس نے کہا نہیں تو... اس آدمی نے کہا اچها؛ تیرے گهر کے سامنے ایک ٹویوٹا کهڑی تهی جس میں سے اتر کر ایک نوجوان تیرے گهر گیا اور گهنٹہ بهر کے بعد واپس چلا گیا تها.
دو ایک دن کے بعد پهر اسے ایک ساتهی نے آ کر کہا یہ امریکی کار والا جوان کون ہے جس کے ساتھ تیری بیوی آج جارہی تهی اور پهر وہ نوجوان تیری بیوی کو دو گهنٹے بعد واپس چهوڑ کر گیا تها؟
اس بار اس نوجوان نے گهر جا کر بیوی کو آو دیکها نا تاو، چهری سے ذبح کر دیا.
یہ نوجوان چاہتا تو بیوی سے بحث و مباحثہ بهی کر سکتا تها کہ میرے کولیگ یوں کہتے ہیں، کیا سچ اور کیا جهوٹ ہے، یا پهر والدین کی اس لاڈلی بیٹی کو واپس بهی چهوڑ کر آ سکتا تها کہ یہ میرے قابل نہیں ہے. مگر شیطانوں میں پهنس کر انتہائی قدم اٹها بیٹها جس کیلئے قران پہلے ہی تنبیہ کر چکا ہے.
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ﴿٦﴾
اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ (الحجرات.6)
ڈاکٹر محمد العریفی
 
Top