"ہفتہ مذہبی بیٹھک" بسلسلہ چوتھی سالگرہ محفل

"ہفتہ مذہبی بیٹھک" بسلسلہ چوتھی سالگرہ محفل
میرا یہ موضوع شروع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ میں اسلام کے حوالے ایسے اقدامات شیئر کروں جن کا تعلق "امن""تعلیم" سے ہے ۔ سوات اور دیگر علاقوں میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کی کوششوں کی حمایت اور امن کے لیے کی جانے والی تحریکوں کی حمایت کے سلسلہ میں‌ہے۔دوسرا موجودہ سال یا پچھلے سال میں تعلیم کے حوالے دور جدید کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیمات اسلام کے حوالے سے ہونے والی کوششوں کو یہاں شیئر کیا جائے اگر آپ کے پاس بھی ایسی کوئی خبر ، مضمون یا آپ کسی ایسی کاوش کے متعلق علم رکھتے ہیں تو ضرور شیئر کریں۔ شکریہ
ہفتہ مذہبی بیٹھک میں ضرور شرکت کریں۔
من جانب
عمران القادری
 
اس کے بعد آنے والی پوسٹ میں آپ کے ساتھ ایک خبر شیئر کرنے جا رہا ہوں جو کہ مجھے تعلیم کے شعبہ میں ایک بہت اہم لگی کہ ایک زندہ شخصیت کی تصنیف کی گی کتاب کو ایک جامعہ نے اپنے نصاب میں شامل کر لیا۔یہ خبر ماہنامہ منہاج القرآن کے آن لائن ایڈیشن سے لی گئی ہے۔
 
المنہاج السوی کی قبولیتِ عامہ​
عقائد، عبادات، معاملات، حقوق، مناقب اور دیگر اہمیت کے حامل موضوعات پر 1100 منتخب احادیث کے مجموعہ پر مشتمل شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی تالیف ’’المنہاج السوی‘‘ ہر خاص و عام حلقہ میں تیزی سے قبولیت کے مدارج طے کر رہی ہے۔ جہاں اس کتاب کو ہمہ جہتی افادیت، جدید اسلوب اور عمدہ تحقیق و تخریج کے پیش نظر عالمِ عرب کے علمی و فکری حلقوں میں بے حد پذیرائی حاصل ہے، جس کا ثبوت اس مجموعہ حدیث کے شروع میں لکھی گئیں تقاریظ ہیں۔ وہاں پاک و ہند میں بھی یہ کتاب اس سے بھی کہیں زیادہ قبولیت عامہ کی انتہائی حدوں کو چھوتی ہوئی نظر آتی ہے۔
حال ہی میں چنائی (بھارت) میں واقع عریبک کالج ’’دارالعلوم الکلیۃ العربیہ الجمالیہ‘‘ (Darul uloom Jamalia arabic College) (الحاق شدہ مدراس یونیورسٹی) نے اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اسے اپنے باقاعدہ نصاب میں شامل کیا ہے۔ کالج پرنسپل محترم نیاز احمد ’’المنہاج السوی‘‘ کے حوالے سے رقم طراز ہیں کہ
’’ہم نے اس کتاب کو اہل سنت کے جملہ عقائد کے مستند دلائل پر مشتمل نہایت ہی فائدہ مند پایا۔ نئے تراجم الابواب قائم کئے گئے ہیں جن کی بناء پر قاری کو احادیث کی تلاش میں مشکل پیش نہیں آتی۔ یہ کتاب اہل سنت پر ہونے والے جملہ اعتراضات کے جوابات اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ پس ہم نے اس کتاب کی اسی اہمیت و افادیت کے پیشِ نظر اسے اپنے باقاعدہ نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس خوبصورت مشن میں ان کے دست و بازو بن سکیں‘‘۔
یاد رہے کہ یہ عریبک کالج الحاج علامہ جمال محی الدین رحمۃ اللہ علیہ نے 1898ء میں قائم کیا تھا۔ 1967ء میں مدراس یونیورسٹی سے اس کا الحاق ہوا۔ یہاں کے فارغ التحصیل سکالرز پورے بھارت میں متعدد مقامات پر اسلام کی حقیقی تعلیمات کے فروغ میں مصروف عمل ہیں۔
 

سویدا

محفلین
کتاب کے تعارف کی آڑ میں‌مسلکی موضوعات کو اس محفل سے دور رکھا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا
 
Top