ہر وقت نوحہ خواں سی رہتی ہیں میری آنکھیں - اختر انصاری دہلوی

کاشفی

محفلین
غزل​
اختر انصاری دہلوی​
​
​
ہر وقت نوحہ خواں سی رہتی ہیں میری آنکھیں​
اِک دُکھ بھری کہانی کہتی ہیں میری آنکھیں​
​
عیش و طرب کے جلسے، درد و الم کے منظر،​
کیا کچھ نہ ہم نے دیکھا، کہتی ہیں میری آنکھیں​
​
جب سے دل و جگر کی ہمدرد بن گئی ہیں​
غمگینیوں میں ڈوبی رہتی ہیں میری آنکھیں​
​
لبریز ہو کے دل کا ساغر چھلک اُٹھا ہے​
شاید اسی سبب سے بہتی ہیں میری آنکھیں​
​
ہر جنبشِ نظر ہے رودادِ عشق اختر​
ہیں بے زباں مگر کچھ کہتی ہیں میری آنکھیں​
​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top