واصف ہر ذرّہ ہے اِک وُسعتِ صحرا مِرے آگے - واصف علی واصفؒ

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 6, 2017

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,138
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    ہر ذرّہ ہے اِک وُسعتِ صحرا مِرے آگے
    ہر قطرہ ہے اِک موجہِ دریا مِرے آگے

    اِک نعرہ لگا دُوں کبھی مستی میں سرِ دار
    کعبہ نہ بنے کیسے کلیسا مِرے آگے

    وہ خاک نشیں ہُوں کہ مری زد میں جہاں ہے
    بل کھاتی ہے کیا موجِ ثُریّا مِرے آگے

    مَیں ہست میں ہُوں نیست کا پیغامِ مُجسّم
    انگُشت بدنداں ہے مسیحا مِرے آگے

    مَیں جوش میں آیا تو یہی قُلزُمِ ہستی
    یوں سمٹا کہ جیسے کوئی قطرہ مِرے آگے

    لے آیا ہُوں اَفلاک سے مِلّت کا مُقدّر
    کیا کیجئے مقدُور کا شِکوہ مِرے آگے

    اُستادِ زماں فخرِ بیاں کی ہے توجہ
    غالبؔ کی زمیں کب ہوئی عنقا مِرے آگے

    واصفؔ ہے مرا نام مگر راز ہُوں گہرا
    ذرّے نے جِگر چیر کے رکھّا مِرے آگے​
    واصف علی واصفؒ
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 6, 2017
    • زبردست زبردست × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. سروش

    سروش محفلین

    مراسلے:
    2,188
    موڈ:
    Relaxed
    بہت زبردست، فرحان بھائی
     
  3. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    'انگُشت' پر کسرۂ اضافت نہیں آئے گی۔
    اَفلاک
     
  4. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,138
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    شکریہ جناب
    شکریہ سر
     

اس صفحے کی تشہیر