ہجوم کا سری لنکن شہری پر بہیمانہ تشدد، قتل کرنے کے بعد آگ لگادی

الف نظامی

لائبریرین

توہین رسالت کی سزا فقہ حنفی کی روشنی میں

ڈاکٹر محمد مشتاق لکھتے ہیں:
جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ
عدالتی نظام سے مایوسی کی وجہ سے لوگ قانون ہاتھ میں لیتے ہیں اور کبھی توہین رسالت کے ملزم کو، تو کبھی ڈاکے کے ملزم کو، بد ترین تشدد کے بعد قتل کردیتے ہیں،
وہ ادھوری بات کرتے ہیں۔
پوری بات یہ ہے کہ
ان کو یہ خوف بھی نہیں ہوتا کہ وحشت و بربریت کے اس بدترین مظاہرے پر ان کو سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یقین نہ ہو تو کل کے واقعے کے مرتکبین کا رویہ دیکھ لیں۔
مزید دلیل چاہیے تو طاقت کے بل بوتے پر، دستوری نظام کو لپیٹ کر، "میرے عزیز ہم وطنو" کہنے والوں کا زعم پارسائی دیکھ لیں۔
پھر بھی کوئی دلیل چاہیے تو سنگین غداری کے مرتکب عدالت سے سزا یافتہ شخص کے بارے میں معلوم کیجیے کہ وہ پھانسی چڑھ گیا ہے، جیل میں سڑ رہا ہے، یا دبئی میں مزے کررہا ہے۔

-
"عدالتوں نے کتنے گستاخوں کو سزا دی؟"
میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ عدالتوں کا اس تاخیر میں کوئی کردار ہی نہیں ہے، یا وہ بالکل ہی بے قصور ہیں۔ جج بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور اس معاشرے میں پائی جانے والی عمومی اخلاقی برائیاں ان میں بھی پائی جاتی ہیں۔ تاخیر سے فیصلوں میں ان کی کمزوریوں کا بھی حصہ ہے لیکن جب ہم نے عدالتیں بنائی ہوئی ہیں تو عدالت ہی کا فیصلہ حتمی ماننا ہوگا اور عدالت سے ماورا انصاف کے تصور سے جان چھڑانی ہوگی۔ اگر "گستاخوں" یا "دہشت گردوں" کو عدالتوں نے سزا نہیں دی تو اس کےلیے صرف عدالتیں نہیں ، بلکہ پورا معاشرہ ذمہ دار ہے۔ ایف آئی آر میں جھوٹ ، چالان میں جھوٹ، مقدمے کے دوران گواہوں کی جانب سے جھوٹ، وکلا کی جانب سے جھوٹ، ججز کی جانب سے جھوٹ، یہ سب مل کر اس بے انصافی کا باعث بن رہے ہیں۔ جب تک پورے نظام کی ، بلکہ پورے معاشرے کی، اوورہالنگ نہ کی جائے، صرف "گستاخوں" کے مقدمے میں، یا صرف "دہشت گردوں" کے مقدمے میں، یہ کہنا کہ عدالتیں مجرموں کو سزائیں نہیں دیتیں، خود کو دھوکا دینا ہے۔
حل کیا ہے؟
دو میں سے کوئی ایک حل اپنائیے۔
یا تو ساری عدالتوں کا خاتمہ کیجیے اور ہر ادارے، بلکہ ہر فرد، کو اپنے طور پر اپنا انصاف نافذ کرنے کا حق دے دیجیے؛ یا ہر ادارے اور ہر فرد نے یہ ماننا ہوگا کہ عدالت ہی کو فیصلے کا اختیار ہے۔ جب تک ہر ادارے اور ہر فرد کی جانب سے عدالت کے اس اختیار کو کھلے دل سے تسلیم نہ کیا جائے ، تب تک مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ عدالتوں کےلیے انصاف اور فیصلے کا اختیار مان کر ہی عدالتوں سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ درست فیصلے دیں کیونکہ تب ان کے پیچھے پورا معاشرہ کھڑا ہوگا۔

 

الف نظامی

لائبریرین
عامر خاکوانی لکھتے ہیں:
جس طرح لوگوں نے جلتی ہوئی لاش کی ویڈیوز بنائیں اور سینکڑوں لوگ مزے لے کر یہ ماجرا دیکھتے رہے، اس سے عوام کی بڑی خوفناک نفسیاتی تصویر سامنے آئی۔ حساس شخص کسی جانور کی جلتی ہوئی لاش بھی نہیں دیکھ سکتا، کجا یہ کہ جلتے انسان کو دیکھے۔ انسانی گوشت جلنے کی بو بھی ناقابل برداشت ہوتی ہے۔کلپس سے ظاہر ہے کہ پریشان ، دل گرفتہ یا وحشت طاری ہونے کے بجائے سینکڑوں لوگوں پر کمال درجے کا سکون قلب غالب تھا۔کہیں نہیں لگ رہا تھا کہ لوگ اس خوفناک منظر سے گھبرا رہے ہیں بلکہ وہ اچک اچک کر پوری جزئیات سے سب کچھ دیکھنا چاہ رہے تھے۔ اس اعتبار سے یہ سماجی، نفسیاتی سٹڈی کا کیس بھی ہے۔

سیالکوٹ کے اس سانحے میں سوال یہ بھی پیدا ہوا کہ عوامی رویوں میں اس قدر شدت، عدم برداشت اور فرسٹریشن کیوں ا ٓگئی ہے؟لوگ صورتحال کو ہمیشہ ایک خاص منفی اور انتہائی زاویے سے دیکھنے پر کیوں اصرار کرتے ہیں؟ وہ ملزم کو صفائی کا موقعہ نہیں دینا چاہتے،کسی قسم کا حسن ظن نہیں رکھتے اور انتہائی شدت والا ردعمل ہی دیتے ہیں، آخر کیوں؟ کیا اس لئے کہ عمومی طور پر رویوں میں بے پناہ غصہ اور کڑواہٹ آ گئی ہے یا صرف مذہبی حوالے سے ایسی شدت ہے؟ کیا اس لئے کہ ایک خاص مذہبی حلقہ یا گروہ ان باتوں میں بہت سخت ، بے لچک اور نہایت عدم برداشت کا رویہ اپنانے کی تلقین کرتا ہے؟
 

الف نظامی

لائبریرین
سانحہ سیالکوٹ
ماورائے عدالت قتل کسی کے لیے بھی اور کسی صورت بھی جائز نہیں کیوں کہ اس سے فساد فی الارض پیدا ہوتا ہے اور فساد فی الارض پوری نوع انسانی کو قتل کرنے کے مترادف ہے
(توقیر صادق)
 

زیک

مسافر
انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ۔

البتہ اس کا تعلق توہین سے نہیں تھا۔

اس کا واضح تعلق توہین سے تھا۔ مجمع توہین کے نام پر اکٹھا ہوا۔ نعرے مذہبی لگائے گئے۔ کیا اس کے پیچھے کوئی ذاتی دشمنی وغیرہ تھی؟ یہ بالکل ممکن ہے لیکن اسے اسلام اور توہین کے نام پر سپرچارج کیا گیا۔
 
سنا ہے اس غریب نے کہا تھا کہ، ٰحرام خورو! کام کرتے نہیں تنخواہ کس بات کی بڑھائی جائے۔ٰ
کچھ غلط تو نہیں کہا تھا۔ یہاں اکثریت کا یہی حال ہے۔
 

سید ذیشان

محفلین
اس کا واضح تعلق توہین سے تھا۔ مجمع توہین کے نام پر اکٹھا ہوا۔ نعرے مذہبی لگائے گئے۔ کیا اس کے پیچھے کوئی ذاتی دشمنی وغیرہ تھی؟ یہ بالکل ممکن ہے لیکن اسے اسلام اور توہین کے نام پر سپرچارج کیا گیا۔
لوگوں کو توہین مذہب کے نام پر اشتعال دلایا گیا تھا لیکن اصل وجہ منیجر کا ڈسپلن پر سخت ہونا تھا جس کو ورکرز نے پسند نہیں کیا۔ اور جب منیجر نے تحریک لبیک کے سٹکر اتارنے کا کہا تو اس کو قتل کر دیا۔
 

زیک

مسافر
لوگوں کو توہین مذہب کے نام پر اشتعال دلایا گیا تھا لیکن اصل وجہ منیجر کا ڈسپلن پر سخت ہونا تھا جس کو ورکرز نے پسند نہیں کیا۔ اور جب منیجر نے تحریک لبیک کے سٹکر اتارنے کا کہا تو اس کو قتل کر دیا۔
یعنی توہین اسلام محض ایک جھوٹا عذر ہے جو پاکستانی مسلمان آئے دن استعمال کرتے ہیں
 

شرمین ناز

محفلین
ناموس کے جھوٹے رکھوالو!
بے جرم ستم کرنے والو!
کیا سیرتِ نبوی جانتے ہو؟
کیا دین کو سمجھا ہے تم نے؟
کیا یاد بھی ہے پیغام نبی؟
کیا نبی کی بات بھی مانتے ہو؟
یوں جانیں لو، یوں ظلم کرو،
کیا یہ قرآن میں آیا تھا؟
اس رحمت عالم نے تم کو،
کیا یہ اسلام سکھایا تھا؟
لاشوں پہ پتھر برسانا،
کیا یہ ایمان کا حصہ ہے؟
الزام لگاؤ مار بھی دو؟
دامن سے مٹی جھاڑ بھی دو؟
مسلماں کہو خود کو اور پھر،
ماؤں کی گود اجاڑ بھی دو؟
تم سے نہ کوئی سوال کرے؟
نہ ظلم کو جرم خیال کرے؟
اس دیس میں جو بھی جب چاہے،
لاشوں کو یوں پامال کرے؟
لیکن تم اتنا یاد رکھو،
وہ وقت بھی آخر آنا ہے!
ہے جس کے نام پہ ظلم کیا
اس ذات کے آگے جانا ہے!
اس خون ناحق کو پھر وہ
میزان حشر میں تولے گا!
وہ سرورِ عالم محسنِ جاں
تم سے اتنا تو بولیں گے!
اے ظلم و جبر کے متوالو
تم حق کے نام پہ باطل ہو!
تم وحشی ہو تم قاتل ہو !

حبیب جالب
 
Top