نوشی گیلانی ہجر کی شب میں قید کرے یا صُبح وصَال میں رکھے

عبد الرحمٰن نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 17, 2017

  1. عبد الرحمٰن

    عبد الرحمٰن محفلین

    مراسلے:
    2,623
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ہجر کی شب میں قید کرے یا صُبح وصَال میں رکھے
    اچھّا مولا! تیری مرضی تو جس حال میں رکھے
    کھیل یہ کیسا کھیل رہی ہے دل سے تیری محبّت
    اِک پَل کی سرشاری دے اور دِنوں ملال میں رکھے
    میں نے ساری خُوشبوئیں آنچل سے باندھ کے رکھیں
    شاید ان کا ذِکر تُو اپنے کسی سوال میں رکھے
    کِس سے تیرے آنے کی سرگوشی کو سُنتے ہی
    میں نے کِتنے پھُول چُنے اور اپنی شال میں رکھے
    مشکل بن کر ٹَوٹ پڑی ہے دِل پر یہ تنہائی
    اب جانے یہ کب تک اس کو اپنے جال میں رکھے
    کلام: محترمہ نوشی گیلانی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر