فیض ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول ۔ فیض

فرخ منظور

لائبریرین
ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول​
​
آج پھر درد و غم کے دھاگے میں​
ہم پرو کر ترے خیال کے پھول​
​
ترکِ الفت کے دشت سے چن کر​
آشنائی کے ماہ و سال کے پھول​
​
تیری دہلیز پر سجا آئے​
پھر تری یاد پر چڑھا آئے​
​
باندھ کر آرزو کے پلے میں​
ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top