ہائر ایجوکیشن نے وظائف کا سلسلہ روک دیا [نئی گورنمنٹ کا بجٹ کٹ]

مہوش علی

لائبریرین
Funds dearth: HEC to end MPhil, PhD programme
By SYED JAFAR ASKARI November 22, 2008
KARACHI - Higher Education Commission (HEC) has decided to stop sending students abroad on scholarships for MPhil and PhD programmes due to financial cut in the HEC’s budget by the present democratic government, The Nation learnt on Friday through its sources.

The HEC was used to spend Rs 5 billion yearly on account of scholarships, while previous scholarship programme, advertised in January 2008, will be continued but now the programme has been terminated due to inappropriate policies of the government.

It is pertinent to mention here that HEC, from its inception to date, has sent around 3000 candidates to USA, China, Austria, Germany, England, Italy, France and other countries for higher research (MPhil/PhD).

It is also worth mentioning that the government funding to HEC had been stopped when PPP-led government came into power.

Link​
 

گرو جی

محفلین
یہ تو ہونا ہی تہا، جب بھی حکومت میں تبدیلی آتی ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔
مجہے ایک شاعر کا شعر یاد آگیا جو کہ شاید موزوں نہیں ہے مگر کیا کریں کہنا پڑ رہا ہے۔
ب ہم پہ نزع کا عالم ہے تم اپنی محبت واپس لو
کشتی جب ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں
"
کچہ اس طرح کی صورتحال سے پاکستانی عوام اور حکومت بھی دوچار ہے
 

دوست

محفلین
ڈاکٹر عطاء الرحمن نے جس دن استعفی دیا اسی دن میں نے کہہ دیا تھا کہ ایچ ای سی یتیم ہوگیا۔ اگرچہ اس بندے کی کچھ پالیسیاں متنازعہ تھیں، لیکن اب پیچھے کچھ بھی نہیں رہے گا۔ ایچ ای سی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن بن جائے گا جس کے پاس اپنا خرچہ چلانے کے پیسے بھی نہیں ہونگے۔ یونیورسٹیوں کو فیسیں بڑھانے اور اپنے اثاثے بیچنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ملے گا اخراجات پورے کرنے کے لیے۔ گلوبل سائنس کے مدیر علیم احمد نے اپنے اداریے میں اسے تعلیمی دہشت گردی قرار دیا ہے۔
 
ڈاکٹر عطا الرحمٰن بابائے انٹرنیٹ اور بابائے تعلیم ہیں۔ ان کی خدمات سے انکار نہیں‌کیا جاسکتا ۔ ایچ ای سی کا خاتمہ جلد ہی قریب ہے۔ یہ پی پی پی حکومت کا ایک بے کار اور غلط قدم ہے۔
 

دوست

محفلین
ڈاکٹر عطاء الرحمٰن پر کرپشن کے سلسلے میں انگلیاں بھی اٹھائی جارہی ہیں کچھ اخبارات میں۔
 
Top