ھمالیہ کی سرد چٹانوں میں !!!!!!!!!‌

پردیس میں اپنے دیس کی بہت یاد آتی ھے،!!!!!

کبھی کبھی میں خاموش بیٹھا اپنے وطن کو یاد کرتا ھوں، کبھی اپنے ملک کے ھمالیہ کی برف پوش چٹانوں سے لے کر سمندر کے کناروں کی مچلتی موجوں کے آپس کے اس رشتے کے بارے میں سوچتا ھوں، کہ دیکھنے میں تو ایک طویل فاصلہ ھے لیکن ان کا رشتہ ایک دوسرے سے بہت ھی قریب تر اور مضبوط جڑا ھوا ھے،!!!

وہ پہاڑوں کی جمی ھوئی دودھیہ برف آئی کہاں سے،؟؟؟؟ اسی سمندر سے،!!!!
اور یہ برف پگھل کر بہتی گئی کہاں پر،؟؟؟؟؟ اسی سمندر میں،!!!!!!

کاش ھم اپنے پیارے وطن کے ان قدرتی وسائل کے حسین مناظر کے آپس کے مضبوط رشتوں سے ھی کچھ سبق لے سکتے،؟؟؟؟؟!!!!!!!!!


برف تو پگھلتی ھے، پھر جا بہتی ھے دریاؤں میں اور سپرد سمندر ھوجاتی ھے،!!!!!!!!!!!

لیکن گردش زمانہ، گھٹاؤں کے سنگ پھر اسے اُڑا لے جاتا ھے،
کبھی بہا دیتا ھے میدانوں میں،
کبھی حوالے تپتے صحراؤں میں،
کبھی بچھا دیتا ھے واپس ان ھی،
ھمالیہ کی سرد چٹانوں میں !!!!!!!!!‌

یاد میں تیر ے پگھلتے آنسوؤں کے سنگ، پھر اگلی بہار میں،
تڑپتی ھوئی آبشاروں کے ساتھ،
روتی بہتی ھوئی، سنگ ریزوں کے ساتھ،
سنگ لاخ چٹانوں کو چیرتی ھوئی، پتھروں ٹھوکروں کے ساتھ،
پھر انہیں سرسبز وادیوں کو سیراب کرتی، اٹھلاتی دریاؤں میں،
جا پہنچتی ھے پھر، اسی تیرے شہر خموشاں،
اور ڈوب جاتی ھے آخر، پھر وھی سمندر کی موجوں میں !!!!!!!!!!!!!!!!


وہ رات کا ایک سناٹا سا، ڈوبتی ھوئی ناؤ سمندر میں جیسے
واپس ھوتی پھر ٹکراتی، تیرے شہر کے بچھے سنگ کناروں سے

ایک شور سا سنائی دیتا، ایک چیخ تیرے شہر خموشاں میں،
کوئی کیا سنے تیری فریاد، ھر کوئی مگن اپنے ھی پیاروں سے
 

شمشاد

لائبریرین
آج کل کی مصروف زندگی میں کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ پردیس میں رہ کر اپنے وطن کو یاد کرئے کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی دھن سر پر سوار ہے۔ ایسے پردیسیوں کی تعداد بیس فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی جو پردیس میں بھی اپنے وطن کی خاک اپنی جیب میں لیے پھرتے ہیں کہ کہیں اپنے وطن کی خوشبو کو بھول نہ جائیں۔
 
شاید آپ صحیح کہتے ھوں، لیکن میرے خیال میں ھر ایک کی پردیس سے واپسی کی منزل اس کا اپنا دیس ھے، جہاں وہ پیدا ھوا اور کہیں نہ کہیں ھر ایک کے دل کے چھوٹے سے گوشے میں کہیں نہ کہیں اس کے وطن کی یاد بستی ھی ھے، یہاں پر میں نے اپنے وطن کی مناسبت کی ھر تقریب میں لوگوں کا بہت بڑا ھجوم دیکھا ھے، جہاں کھڑے ھونے کی جگہ بھی نہیں ھوتی تھی، لیکن لوگ اپنے وطن کی یاد میں جو بھی تقریب ھو جوق در جوق شامل ھونے ضرور جاتے ھیں،!!!!!
 
Top