گلگت بلتستان: سرکاری سرپرستی میں مباہلہ۔ شیعہ اور سنی عالم آگ میں کودیں گے

اکمل زیدی

محفلین
نجران میں نہیں زیدی صاحب، مدینے میں۔ نجران کے عیسائی آئے تھے وہاں۔ باقی کینسل ہونے پر سب کا اتفاق ہے لیکن آپ ثابت کریں کہ مباہلے کے لیے میدان میں کوئی آگ جلائی گئی تھی جس میں کودنا تھا یا ایسا کرنے کا اللہ کی طرف سے حکم دیا گیا تھا یا ایسا کرنے کے لیے اللہ کی طرف سے کبھی کوئی حکم دیا گیا ہو!
وارث بھائی اس ضمن میں اگر بات حکم کی ہے تو سورہ آل عمران کی آیت 61 کو ہی پیش کیا جاتا ہے ۔ ۔ رہی آگ جلانے کی بات تو اس میں خدا کی لعنت تو آگ سے بہت بڑھ کر ہے جس کی شکل آگ برسنے کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے ۔
 
سمندر کے درمیان خشک راستہ:
چنانچہ موسٰیؑ نے اسی ہدایت کے موافق سمندر میں لاٹھی ماری جس سے پانی پھٹ کر راستہ نکل آیا ۔ خدا نے ہوا کو حکم دیا کہ زمین کو فورًا خشک کر دے۔ چنانچہ آنًا فانًا سمندر کے بیچ میں خشک راستہ تیار ہو گیا جس کے دونوں طرف پانی کے پہاڑ کھڑےہوئے تھے { فَانۡفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرۡقٍ کَالطَّوۡدِ الۡعَظِیۡمِ } (الشعراء۔۶۳) بنی اسرائیل اس پر سے بےتکلف گذر گئے۔
فرعون کا تعاقب اور ہلاکت:
پیچھے سے فرعون اپنے عظیم الشان لشکر کو لئے تعاقب کرتا آ رہا تھا ۔ خشک راستہ دیکھ کر ادھر ہی گھس پڑا۔ جس وقت بنی اسرائیل عبور کر گئے اور فرعونی لشکر راستہ کے بیچوں بیچ پہنچا خدا تعالیٰ نےسمندر کو ہر طرف سے حکم دیا کہ ان سب کو اپنی آغوش میں لے لے۔ پھر کچھ نہ پوچھو کہ سمندر کی موجوں نے کس طرح ان سب کو ہمیشہ کے لئے ڈھانپ لیا۔
 

اکمل زیدی

محفلین
سمندر کے درمیان خشک راستہ:
چنانچہ موسٰیؑ نے اسی ہدایت کے موافق سمندر میں لاٹھی ماری جس سے پانی پھٹ کر راستہ نکل آیا ۔ خدا نے ہوا کو حکم دیا کہ زمین کو فورًا خشک کر دے۔ چنانچہ آنًا فانًا سمندر کے بیچ میں خشک راستہ تیار ہو گیا جس کے دونوں طرف پانی کے پہاڑ کھڑےہوئے تھے { فَانۡفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرۡقٍ کَالطَّوۡدِ الۡعَظِیۡمِ } (الشعراء۔۶۳) بنی اسرائیل اس پر سے بےتکلف گذر گئے۔
فرعون کا تعاقب اور ہلاکت:
پیچھے سے فرعون اپنے عظیم الشان لشکر کو لئے تعاقب کرتا آ رہا تھا ۔ خشک راستہ دیکھ کر ادھر ہی گھس پڑا۔ جس وقت بنی اسرائیل عبور کر گئے اور فرعونی لشکر راستہ کے بیچوں بیچ پہنچا خدا تعالیٰ نےسمندر کو ہر طرف سے حکم دیا کہ ان سب کو اپنی آغوش میں لے لے۔ پھر کچھ نہ پوچھو کہ سمندر کی موجوں نے کس طرح ان سب کو ہمیشہ کے لئے ڈھانپ لیا۔
خالد بھائی میری بات کا جواب آپ کے الجواب میں ہی موجود ہے یعنی پانی تھا مگر راستہ بن گیا فرعون معہ لشکر غرق ہوا اسی پانی سے جس نے راستہ دے دیا تھا جناب موسیٰ کو ۔۔۔مگر آپ نے تو ٹکا کر کہہ دیا تھا کہ
جس وقت جس دریا سے حضرت موسیٰؒ (اور ان کی وہ قوم جو ان کے ساتھ تو تھی لیکن ان پر مکمل ایمان بھی نہیں لائی تھی) گزرے تھے اس میں اس وقت (اللہ کے حکم سے)پانی نہیں تھا
 

سید ذیشان

محفلین
سر جی۔۔نجران میں بھی تو کینسل ہو گیا تھا ۔۔۔عیسائیوں نے منع کر دیا تھا سامنے حقانیت پہچان کر یہ الگ بات کے مسلمان پھر بھی نہ ہوئے ۔۔۔
بھائی جان کہاں کی بات کہاں ملا دی ہے۔ یہاں پر دونوں گروہ مسلمان ہیں اور دونوں نے ہی مباہلہ سے کنارہ کشی کی ہے۔
 

اکمل زیدی

محفلین
بھائی جان کہاں کی بات کہاں ملا دی ہے۔ یہاں پر دونوں گروہ مسلمان ہیں اور دونوں نے ہی مباہلہ سے کنارہ کشی کی ہے۔
ہاں مجھے بھی کچھ لگا کہ کچھ مس فٹ سا ہوگیا ہے ۔۔۔بس تو جواب کو کینسل ہو گیا تھا تک رکھیں۔ ۔ ۔۔
 
مزید یہ کہ اگر مذکورہ واقعے کے بعد کی تقریر ریکارڈ ہو سکتی ہے تو پھر اصل وقوعے کی ریکارڈنگ بھی ہونی چاہیئے، وہ کہاں ہے؟ :)

مذکورہ واقعہ 1997 یا 1998 میں سندھ کے کسی دیہاتی علاقے میں پیش آیا ( جسے ہم ابھی تک باقی پاکستان سے سو سال پیچھے سمجھتے ہیں)۔ وہاں اس زمانے میں ریکارڈنگ ہونی چاہیئے کا سوال عجیب لگا۔ واقعہ کیسے ہوا کی تفصیل تقریر میں موجود ہے۔ کیونکہ یہ واقعہ میری یادداشت میں تھا، اس لیے تازہ مباہلے کے تناظر میں اس کا ذکر کر دیا۔

جو تقریریوٹیوب سے لنک کی گئی، گجرات کے کسی علاقے اور شاید وی سی آر والی کیسٹ سے کنورٹ کر کے لوڈ کی گئی ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
مذکورہ واقعہ 1997 یا 1998 میں سندھ کے کسی دیہاتی علاقے میں پیش آیا ( جسے ہم ابھی تک باقی پاکستان سے سو سال پیچھے سمجھتے ہیں)۔ وہاں اس زمانے میں ریکارڈنگ ہونی چاہیئے کا سوال عجیب لگا۔ واقعہ کیسے ہوا کی تفصیل تقریر میں موجود ہے۔ کیونکہ یہ واقعہ میری یادداشت میں تھا، اس لیے تازہ مباہلے کے تناظر میں اس کا ذکر کر دیا۔

جو تقریریوٹیوب سے لنک کی گئی، گجرات کے کسی علاقے اور شاید وی سی آر والی کیسٹ سے کنورٹ کر کے لوڈ کی گئی ہے۔
اور مجھے یہ بات عجیب لگی کہ آپ اسے سچ سمجھ رہے ہیں (میں سمجھا تھا آپ نے اس کو ازراہِ تفنن اور مزاح المومنین کے سلسلے میں پیش کیا ہے) ، ۔۔۔۔۔۔خیر بسم اللہ چوہدری صاحب، سمجھتے رہیں! :)
 
اور مجھے یہ بات عجیب لگی کہ آپ اسے سچ سمجھ رہے ہیں (میں سمجھا تھا آپ نے اس کو ازراہِ تفنن اور مزاح المومنین کے سلسلے میں پیش کیا ہے) ، ۔۔۔۔۔۔خیر بسم اللہ چوہدری صاحب، سمجھتے رہیں! :)
میاں جی، میں نے ایک ہی مراسلہ لکھا تھا۔ باقی دو جوابات تھے۔ کس مراسلے میں، میں نے ایسے یقین سے لکھا ہے کہ یہ سچا واقعہ ہے یا یہ جھوٹا واقعہ ہے؟ ؟ اور نا ہی میں نے اسے ازراہ تفنن بیان کیا تھا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
میاں جی، میں نے ایک ہی مراسلہ لکھا تھا۔ باقی دو جوابات تھے۔ کس مراسلے میں، میں نے ایسے یقین سے لکھا ہے کہ یہ سچا واقعہ ہے یا یہ جھوٹا واقعہ ہے؟ ؟ اور نا ہی میں نے اسے ازراہ تفنن بیان کیا تھا۔
پھر تو واقعی مجھ سے اندازہ لگانے میں غلطی ہی ہو گئی، کوئی بات نہیں ایسا بھی ہو جاتا ہے۔ شاد رہیئے چوہدری صاحب۔ :)
 
خالد بھائی میری بات کا جواب آپ کے الجواب میں ہی موجود ہے یعنی پانی تھا مگر راستہ بن گیا فرعون معہ لشکر غرق ہوا اسی پانی سے جس نے راستہ دے دیا تھا جناب موسیٰ کو ۔۔۔مگر آپ نے تو ٹکا کر کہہ دیا تھا کہ
بھائی جان میں نے کہا اللہ کے حکم سے پانی نہیں تھا اس میں انکار کہاں سے آگیا۔یعنی پانی تھا مگر راستہ بن گیا مطلب جب اللہ کے حکم سے راستہ بن گیا تو موسیٰؑ اور ان کی قوم گذرگئی۔تو یہ ایک ہی بات ہے
 
آخری تدوین:
Top