سودا گر تجھ میں ہے وفا تو جفا کار کون ہے • مرزا محمد رفیع سوداؔ

میم الف

محفلین
گر تجھ میں ہے وفا تو جفا کار کون ہے
دل دار تو ہوا تو دل آزار کون ہے

نالاں ہوں مدتوں سے ترے سائے کے تلے
پوچھا نہ یہ کبھو پسِ دیوار کون ہے

ہر شب شراب خوار ہر اک دن سیاہ ہے
آشفتہ زلف و لٹپٹی دستار کون ہے

ہر آن دیکھتا ہوں میں اپنے صنم کو شیخ
تیرے خدا کا طالبِ دیدار کون ہے

سوداؔ کو جرمِ عشق سے کرتے ہیں آج قتل
پہچانتا ہے تو یہ گنہ گار کون ہے

 

میم الف

محفلین
ماشاءاللہ، اچھی آواز اور انداز
پھر تو صداکاری کی تو الگ سے داد بنتی ہے ، بہت خوب جناب
جناب بہت اعلیٰ صدا کاری ۔۔۔۔۔۔۔
بہت نوازش ہے۔
بس ادنیٰ سی کوشش کی ہے سوداؔ صاحب کے کلام کو پڑھنے کی۔
آپ کی داد کے لیے بے حد شکرگزار ہوں۔
اور عاطف صاحب کا بھی شکرگزار ہوں کیونکہ اُن کے تبصرے کی وجہ سے مجھے صداکاری کا لفظ سیکھنے کو ملا۔
آج تک اداکاری ہی سنا تھا - پتہ چلا کہ صداکاری بھی ہوتی ہے :)
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
بہت نوازش ہے۔
بس ادنیٰ سی کوشش کی ہے سوداؔ صاحب کے کلام کو پڑھنے کی۔
آپ کی داد کے لیے بے حد شکرگزار ہوں۔
اور عاطف صاحب کا بھی شکرگزار ہوں کیونکہ اُن کے تبصرے کی وجہ سے مجھے صداکاری کا لفظ سیکھنے کو ملا۔
آج تک اداکاری ہی سنا تھا - پتہ چلا کہ صداکاری بھی ہوتی ہے :)
اب زمانہ ہی ایسا آگیا ہے ۔۔کہ سامعین و ناظرین کو
Viewers کہہ کر بھگتا دیا جاتا ہے ۔۔۔۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
Top