بے الف اذان

محفلین
لیکن ایک بات سمجھ نہیں آئی ! "معرضِ وجود" میں آنے والا شعر کس کی جھولی میں جائے گا؟ "وہ" جس نے مصرعہ دے کر شعر کی بنیاد رکھی ، یا "وہ" جس نے شعر کی تکمیل کی ۔ ۔ ۔

آپ احباب کی کیا رائے ہے ۔ ۔ ۔
 
لیکن ایک بات سمجھ نہیں آئی ! "معرضِ وجود" میں آنے والا شعر کس کی جھولی میں جائے گا؟ "وہ" جس نے مصرعہ دے کر شعر کی بنیاد رکھی ، یا "وہ" جس نے شعر کی تکمیل کی ۔ ۔ ۔

آپ احباب کی کیا رائے ہے ۔ ۔ ۔

یہ تو اس گرہ پر منحصر ہے
بقول جناب محمد یعقوب آسی صاحب ، اگر گرہ لگا کر مصرع چھین لیا تو، گرہ لگانے والے کا ۔۔
 
لیکن ایک بات سمجھ نہیں آئی ! "معرضِ وجود" میں آنے والا شعر کس کی جھولی میں جائے گا؟ "وہ" جس نے مصرعہ دے کر شعر کی بنیاد رکھی ، یا "وہ" جس نے شعر کی تکمیل کی ۔ ۔ ۔
آپ احباب کی کیا رائے ہے ۔ ۔ ۔
یہ تو اس گرہ پر منحصر ہے
بقول جناب محمد یعقوب آسی صاحب ، اگر گرہ لگا کر مصرع چھین لیا تو، گرہ لگانے والے کا ۔۔
یہ کوئی نئی بات نہیں جنابِ ادب دوست !
مثال کے طور پر میں نے آپ کے مصرعے پر گرہ لگائی تو وہ شعر جس سے میں نے مصرع لیا وہ آپ کا ہے اور جو میں نے کہا وہ میرا ہے؛ گرہ چاہے ڈھیلی لگی ہو چاہے کَس کے۔ گرہ لگانے میں حسن ہے یا قبح ہے اسے بھی تو میرے حساب میں جانا ہے نا! "بھئی واہ! گرہ کیا لگائی، مصرع چھین لیا" یا "کیا ریڑھ ماری ہے یار، اس سے تو بہتر تھا گرہ نہ لگاتے

مصرع چھین لینے سے یہ قطعاً مراد نہیں کہ وہ مصرع آپ کا نہیں رہا۔ وہ آپ کا ہے! اسی لئے تو اس پر واوین لگاتے ہیں! اس کا درست مفہوم یہ ہے کہ: میں اپنے شعر میں مصرعے کو یوں کھپاؤں ( فٹ کروں) کہ ایسا لگے ہی نہیں کہ گرہ لگی ہے؛ ایسا لگے کہ یہ مصرع اس میرے کہے ہوئے شعر کا فطری حصہ ہے۔ اور ایسا بہت کم ہوتا ہے، ناممکن بہر حال نہیں ہے۔
 
آخری تدوین:

بے الف اذان

محفلین
یہ کوئی نئی بات نہیں جنابِ ادب دوست !
مثال کے طور پر میں نے آپ کے مصرعے پر گرہ لگائی تو وہ شعر جس سے میں نے مصرع لیا وہ آپ کا ہے اور جو میں نے کہا وہ میرا ہے؛ گرہ چاہے ڈھیلی لگی ہو چاہے کَس کے۔ گرہ لگانے میں حسن ہے یا قبح ہے اسے بھی تو میرے حساب میں جانا ہے نا! "بھئی واہ! گرہ کیا لگائی، مصرع چھین لیا" یا "کیا ریڑھ ماری ہے یار، اس سے تو بہتر تھا گرہ نہ لگاتے

مصرع چھین لینے سے یہ قطعاً مراد نہیں کہ وہ مصرع آپ کا نہیں رہا۔ وہ آپ کا ہے! اسی لئے تو اس پر واوین لگاتے ہیں! اس کا درست مفہوم یہ ہے کہ: میں اپنے شعر میں مصرعے کو یوں کھپاؤں ( فٹ کروں) کہ ایسا لگے ہی نہیں کہ گرہ لگی ہے؛ ایسا لگے کہ یہ مصرع اس میرے کہے ہوئے شعر کا فطری حصہ ہے۔ اور ایسا بہت کم ہوتا ہے، ناممکن بہر حال نہیں ہے۔

بہت خوب ! کافی حد تک بات واضع ہو گئی۔ لیکن ایک سوال اب بھی ذہن میں کھٹک رہا ہے اور وہ یہ کہ : مثال کے طور پہ میں نے یہاں ایک مصرع پیش کیا ( جو میرے شعر کا حصہ نہیں تھا ، محض ایک مصرع تھا ) اور پھر کسی صاحب نے گرہ لگائی اور شعر مکمل بھی ہو گیا، تو اُس صورت میں شعر کس کے حصے میں آئے گا؟
 
بہت خوب ! کافی حد تک بات واضح ہو گئی۔ لیکن ایک سوال اب بھی ذہن میں کھٹک رہا ہے اور وہ یہ کہ : مثال کے طور پہ میں نے یہاں ایک مصرع پیش کیا ( جو میرے شعر کا حصہ نہیں تھا ، محض ایک مصرع تھا ) اور پھر کسی صاحب نے گرہ لگائی اور شعر مکمل بھی ہو گیا، تو اُس صورت میں شعر کس کے حصے میں آئے گا؟
شعر بہر حال اس کا ہوا جس نے مکمل کیا، مصرعہ آپ کا ہے آپ کا رہے گا۔ ہاں! اُس پر لازم ہے کہ مستعار مصرعے پر واوین لگائے۔ واوین لگانا دراصل شاعر کی طرف سے اعلان ہے کہ صاحبو! یہ مصرع مستعار ہے۔
چلئے یوں کرتے ہیں۔ بلکہ صلائے عام ہے۔ میرا ایک (اکیلا) مصرعہ ہے۔
ع: ’’پھر وہی تلخ نوائی جو مرا حصہ ہے‘‘
اس پر حسبِ سہولت پہلا یا دوسرا مصرع لگا کر شعر مکمل کیجئے۔
 
آخری تدوین:

بے الف اذان

محفلین
شعر بہر حال اس کا ہوا جس نے مکمل کیا، مصرعہ آپ کا ہے آپ کا رہے گا۔ ہاں! اُس پر لازم ہے کہ مستعار مصرعے پر واوین لگائے۔ واوین لگانا دراصل شاعر کی طرف سے اعلان ہے کہ صاحبو! یہ مصرع مستعار ہے۔
چلئے یوں کرتے ہیں۔ بلکہ صلائے عام ہے۔ میرا ایک (اکیلا) مصرعہ ہے۔
ع: ’’پھر وہی تلخ نوائی جو مرا حصہ ہے‘‘
اس پر حسبِ سہولت پہلا یا دوسرا مصرع لگا کر شعر مکمل کیجئے۔

واہ جناب ! کیا خوب سمجھایا ، اور آپکے مصرعے کے تو کیا ہی کہنے ۔ ۔ ۔

ایک کوشش ارادت مند کی طرف سے ۔ ۔ ۔

پھر وہی میں ہوں، وہی تُو ہے، وہی قصہ ہے
’’پھر وہی تلخ نوائی جو مرا حصہ ہے‘‘
 

ابن رضا

لائبریرین
شعر بہر حال اس کا ہوا جس نے مکمل کیا، مصرعہ آپ کا ہے آپ کا رہے گا۔ ہاں! اُس پر لازم ہے کہ مستعار مصرعے پر واوین لگائے۔ واوین لگانا دراصل شاعر کی طرف سے اعلان ہے کہ صاحبو! یہ مصرع مستعار ہے۔
چلئے یوں کرتے ہیں۔ بلکہ صلائے عام ہے۔ میرا ایک (اکیلا) مصرعہ ہے۔
ع: ’’پھر وہی تلخ نوائی جو مرا حصہ ہے‘‘
اس پر حسبِ سہولت پہلا یا دوسرا مصرع لگا کر شعر مکمل کیجئے۔

پھر وہی جُرمِ مکرّر ، وہی طرزِ لغزش
’’پھر وہی تلخ نوائی جو مرا حصہ ہے"

یا

پھر وہی لغزشِ مستانہ وہی طرزِ خطا
’’پھر وہی تلخ نوائی جو مرا حصہ ہے"

 
آخری تدوین:
Top