جوش کیوں صبح یوں عرق میں نہائے ہوئے ہو تم ( جوش ملِیح آبادی )

طارق شاہ

محفلین
تجاہل عارفانہ
جوش ملِیح آبادی
کیوں صبح یوں عرق میں نہائے ہوئے ہو تم
شاید کسی خلِش کے جگائے ہوئے ہو تم
اُلجھا ہُوا ہے کرب سے ہر رشتۂ نفس
گو دیکھنے میں زُلف بنائے ہوئے ہو تم
جن مشغلوں سے کھیلتی رتی تھی کم سنی
اُن مشغلوں سے ہاتھ اُٹھائے ہوئے ہو تم
شاید یہ اہتمام ہو اخفائے راز کا
ہم جولِیوں سے آنکھ چُرائے ہوئے ہو تم
خود کو لیے دیئے ہو مگر کہہ رہے ہیں طَور
سِینے میں ایک حشر چھپائے ہوئے ہو تم
کیا جوش نامُراد کو دیکھا ہے خواب میں
یوں صبح کو، جو شام بنائے ہوئے ہو تم
جوش ملِیح آبادی
 

طارق شاہ

محفلین
گیلانی صاحبہ
جناب قیصرانی اور حسان خان صاحب!

منتخبہ کلامِ جوش پر اظہار خیال کے لئے ممنون ہو
تشکّر
بہت خوش رہیں
 
Top