کیا یہ انصاف ہے؟؟؟

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

الف نظامی

لائبریرین
مہوش علی نے کہا:
ڈپلومیسی [جہاد بالمقابل صبر]

"ڈپلومیسی سے مراد یہ تخمینہ لگانا ہے کہ اسلام کا مجموعی فائدہ کونسا قدم اٹھانے میں ہے"

میرا سوال اُن حضرات سے ہے جو کہ مولانا مسعود کے نظریہ جہاد کے حامی ہیں، اور مجھے اپنے سوالات کا جواب ضرور سے چاہیے

(علی عمران برادر، آپ بہت عرصے سے یہ مضمون سامنے لا رہے ہیں، اور میں بہت عرصے سے اسے نظر انداز کر رہی ہوں۔ قیصرانی برادر، اگر آپ اجازت دیں تو میں علی عمران سے درخواست کرنا چاہتی ہوں کہ میرے سوالات کا جواب سب سے پہلے دیا جائے)

میرے سوال کو بہت غور سے اور مکمل پڑھئے گا اور پھر جواب دینے کی زحمت فرمائیے گا۔

سوال: کیا رسول اللہ (معاذ اللہ) جہاد سے جان چھڑا رہے تھے؟؟؟


اسلام کا ایک اصول ہے کہ اگر کفار تمہارے دوسرے مسلمان بھائی پر ظلم و ستم کر رہے ہوں تو فرض ہے کہ اپنے ان مظلوم مسلمان بھائیوں کو کفار کے ظلم و ستم سے نجات دلائی جائے۔

کیا آپ مجھ سے متفق ہیں کہ اس موقع پر جہاد "فرض" ہو جاتا ہے؟

یقینی طور پر آپ سب مجھ سے متفق ہوں گے کیونکہ جہاد کی اس شرط سے آج تک کسی نے کبھی انکار نہیں کیا ہے۔

اچھا، اب ذرا رسول اللہ (ص) کے دور میں چلتے ہیں، اور صورتحال یہ ہے کہ:

۔ رسول اللہ مدینے ہجرت کر چکے ہیں۔

۔ مگر جو مسلمان مدینہ میں رہ گئے ہیں، کفار اُن پر ظلم و ستم کیے جا رہے ہیں۔ رسول (ص) کو علم ہے کہ اس موقع پر جہاد "فرض" ہے، مگر آپ ان مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے نہیں نکلتے۔

۔ اچھا اب آگے چلتے ہیں۔۔۔۔۔ اور غزوہ بدر کا وقت آتا ہے۔۔۔۔ مسلمان فتح یاب ہوتے ہیں۔۔۔۔ مگر کفار پھر بھی مکہ میں مسلمانوں پر ظلم کیے جا رہے ہیں۔۔۔۔ جہاد فرض ہے مگر رسول (ص) ہیں کہ تلوار لے کر کفارِ مکہ پر ٹوٹتے ہی نہیں۔

۔ اچھا آگے چلتے ہیں۔۔۔۔ غروہ خندق ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔ مگر رسول جہاد کا فرض پورا نہیں کرتے اور مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم ہونے ہی دیتے ہیں۔

۔ اور آگے چلتے ہیں اور حدیبیہ کا موقع آ جاتا ہے۔۔۔ مگر رسول ہیں کہ پھر جہاد کا فریضہ پورا نہیں کر رہے اور کفار مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کیے جا رہے ہیں۔۔۔


تو مولانا مسعود کے حامی حضرات یہ جواب دیں کہ آیا اُن کی دانست میں رسول (ص) جہاد سے جان چُرا رہے تھے؟؟؟

|\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\


جوابِ شکوہ

اب مولانا مسعود کے حامی حضرات تو جو جواب بھی ارشاد کریں وہ تو ہم بعد میں دیکھ لیں گے۔ فی الحال میں اپنے اس سوال کے ذیل میں خود ہی "جوابِ شکوہ" عرض کرنا چاہ رہی ہوں تاکہ عوام الناس تک رسول (ص) کے اس اسوہ میں پوشیدہ پیغام پہنچ جائے۔


جہاد بالمقابل جہاد سے قبل "جہاد کی مکمل تیاری"

جہاد تو اسلام میں فرض ہے، مگر جس چیز کو جہاد پر بھی افضلیت حاصل ہے وہ ہے "قبل از جہاد مکمل تیاری"۔

بخدا رسول (ص) کو علم تھا کہ مکہ میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے۔۔۔۔ اور رسول (ص) کو بخدا علم تھا کہ اُن مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنا فرض ہے۔۔۔ اور بخدا رسول (ص) نے جہاد میں کوئی کوتاہی بھی نہیں کی۔۔۔۔

مگر رسول (ص) کو علم تھا کہ مدینے کے ابتدائی سالوں میں مسلمانوں کی طاقت بہت کمزور ہے اور اگر وہ تلوار لے کر مکہ بغرضِ جہاد روانہ ہو گئے گئے تو اس سے اسلام کو فائدہ پہنچنے کی بجائے الٹا انتہائی نقصان پہنچے گا۔ یعنی اس جہاد کے اقدام کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ مدینے کے مسلمان جنگ میں قتل ہو جائیں گے اور نہ ہی مکہ کے مظلوم مسلمانوں کو کفارِ مکہ کے ظلم و ستم سے نجات ملے گی۔

یہی صورتحال غزوہ بدر کے بعد بھی موجود رہی۔ اگرچہ کہ مسلمان جنگ جیت گئے، مگر پھر بھی اتنی طاقت مجتمع نہیں تھی کہ مکہ جا کر براہ راست حملہ کیا جاتا۔ ۔۔۔۔۔۔ پھر غزوہ خندق، خیبر،۔۔۔۔۔ اور پھر آخر میں آٹھویں ہجری میں جا کر اتنی طاقت مجتمع ہوتی ہے کہ رسول (ص) کو یقین ہو جاتا ہے کہ اب اگر براہ راست جہاد کا فریضہ انجام دیا جائے تو اسلام کو مجموعی طور پر اس سے فائدہ پہنچے گا کیونکہ کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔

\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

مجموعی طور پر جس چیز کو میں نے اوپر بیان کیا ہے، اسے آجکل کی زبان میں آپ ڈپلومیسی کہہ لیں۔ ڈپلومیسی کا مطلب ہے کہ جہاد سے اہم چیز یہ ہے کہ صورتحال کا صحیح تخمینہ لگانا، کیونکہ صورتحال کو دیکھے بغیر اندھا دھند جہاد کرنے سے کبھی کبھار مجموعی طور پر اسلام کو فائدہ پہنچنے کی بجائے نقصان پہنچ جانے کے زیادہ امکانات ہو جاتے ہیں۔

\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

مولانا مسعود کے نظریہ جہاد میں بہت ساری چیزیں انتہائی غلط ہیں اور اسلام کو فائدہ پہنچانے کی بجائے یقینی طور پر نقصان کی طرف دھکیل دیں گی۔

مجبوری یہ ہے کہ آجکل جہاد کچھ فیشن کی شکل اختیار کر گیا ہے اور ہر جوشیلے نوجوان کو دلکش لگ رہا ہے اور وہ یہ سوچے اور جانے بغیر اس میں کود جانے کو تیار ہے کہ آیا مجموعی طور پر اسکا اسلام کو فائدہ پہنچے گا یہ نقصان۔ اور اس میں ان بے چاروں کا قصور بھی نہیں ہے کیونکہ ہمارے علماء ہی نے بدقسمتی سے انہیں صرف اور صرف اور بار بار جہاد کی آیات سنائی ہیں اور انہیں گہرائی سے اسلام کا مجموعی نظام سمجھنے ہی نہیں دیا کہ کہاں جہاد اسلام کو فائدہ پہنچا رہا ہے اور کہاں مجموعی طور پر اسلام کو جہاد کی نہیں بلکہ صبر کی ضرورت ہے۔

اسی ضمن میں اور بہت سی چیزیں آ جاتی ہیں، جن کی تفصیل میں انشاء اللہ آہستہ آہستہ آئیں گے۔ یہاں صرف یہ باتیں یاد رکھیں:

1۔ "قبل از جہاد تیاری" کو بذات خود جہاد پر افضلیت حاصل ہے۔

2۔ جہاد بغیر اسلامی ریاست کے انتہائی غلط راستے کی طرف جا سکتا ہے (جیسا کہ افغانستان میں یہ چھوٹے چھوٹے جہادی گروپ آپس میں ایسے لڑے کہ لاکھوں مسلمان مارے گئے

جہاد کی یہی صورتحال عراق میں سامنے آ رہی ہے جہاں جہادی گروپ بنا کسی کنٹرول کے ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ زرقاوی گروپ، انصارِ السنہ گروپ، اور الصدر گروپ اور صدام حسین کے حامی، اور بے تحاشہ اور دیگر جہادی گروپ موجود ہیں۔ اب یہ گروپ نہ صرف شیعہ سنی کی بنیاد پر تقسیم ہیں، بلکہ انصار السنہ اور زرقاوی گروپ بھی آپس میں ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں۔ اور ان دو گروپوں کے آگے بہت سے گروپ بن گئے ہیں اور انکا جو جی آتا ہے وہ کرتے ہیں۔

\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

کیا غیر مسلم اقوام کو حق حاصل ہے کہ وہ عام مسلمان شہریوں اور عورتوں\بچوں کو قتل کریں؟


مولانا مسعود اظہر نے اب اعلانِ جہاد کر دیا ہے۔
اور یہ مولانا صاحب اب غیر مسلمین کا قتل حق جانتے ہیں اور اس سلسلے میں اُن کی عورتوں اور بچوں کا بھی کوئی لحاظ نہیں کرتے (اور انکی دانست میں یہ فدائی حملے جہادِ اسلامی ہیں)۔

بات یہ ہے کہ تمام اقوام عالم UNO کے تحت ایک معاہدے میں بندھے ہوئے ہیں۔ اس لیے مغربی اقوام ان خود کش حملوں کے جواب میں کھل کر مسلمان شہروں پر حملہ نہیں کرتے اور نہ شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

اب یہ تو اس مُلا طبقے کی طرف سے بہت زیادتی اور Double Standards ہیں کہ خود کو ہر کسی معاہدے سے بلند تر جانتے ہیں اور خود کش حملوں کو جائز گردانتے ہیں مگر اپنے دشمن کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ بھی کھل کر ہمارے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنائے؟؟؟

خیر وہ دن دور نہیں جب انکے اس اندھے پن کی وجہ سے مغربی عوام کی اکثریت بھی انتہا پسند ہو جائے گی اور کھل کر ہمارے شہروں پر بمباری کی حمایت کر رہی ہو گی۔ اور جب وہ ایسا کریں گے تو آپ کو پتا ہے کہ یہ ہمارے جہادی ملا کیا کریں گے؟؟؟؟؟

تو ایسے وقت میں ہمارے یہ جہادی ملا وہی کریں گے جو کہ طالبان نے افغانستان میں کیا۔۔۔۔ یعنی خود بھاگ کر پہاڑوں میں چھپ جائیں گے اور اپنی نہتی عوام عورتوں بچوں کو دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے۔ ۔۔۔۔۔

وہ تو شکر ہے کہ مغربی عوام نام کا ہی سہی، مگر پھر بھی اقوام متحدہ کے چارٹر کا پاس کرتے ہیں اور اس دباؤ کی وجہ سے امریکہ بہادر کو افغانسان میں نہتی عوام پر بم برسانے کی اجازت نہیں ملی۔۔۔۔ مگر وقت دور نہیں جب ہمارے ملاؤں کا اندھا پن ہم پر یہ وقت لے آئے گا۔

بخدا میرے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے، مگر اب میرے حواس خستہ ہیں اور میرے اعضائے جسمانی میرا ساتھ نہیں دیتے۔ مگر اللہ نے چاہا تو میرا پیغام کا اہم حصہ آپ لوگوں تک ضرور سے پہنچ چکا ہو گا۔ انشاء اللہ۔

والسلام۔
آپ کے پوسٹ پر تفصیلی رائے بعد میں
فی الحال یہ سن لیں کہ سنا ہے مودودی صاحب نے بھی جہاد پر کوئی کتاب لکھی تھی اور 1948 میں کشمیر کے جہاد کو حرام قرار دیا تھا، کیوں؟
آج انہی کے ماننے والے جہاد کشمیر کا نام لے کر سیاست چمکاتے ہیں،
کیوں؟

کشیمیری تو آزادی چاہتے ہیں ، کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں، اور وہ اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہوں گے
 

الف نظامی

لائبریرین
یہ تمام “انتہا پسندی“ جو آج ہو رہی ہے یہ خود امریکہ کی انتہاپسندانہ اور مسلم کش پالیسیوں کا ردعمل ہے۔ مسئلے کی جڑ کو سمجھیں اور اس کو حل کریں، مسئلہ ختم ہوجائے گا۔
 

سیفی

محفلین
نبیل نے کہا:

نبیل بھیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کی شخصیت کو یہ زیبا نہیں ہے کہ آپ اسطرح کا لہجہ استعمال کریں۔۔۔۔۔آپ کے جذبات اور احساسات کچھ بھی ہوں مگر بحیثیت ایڈمن آپکا ممبران سے اسطرح کا رویہ رکھنا درست نہیں ہے۔۔۔۔۔(یاد رکھیں کہ آپ اپنے بلاگ پر نہیں لکھ رہے بلکہ ایک فورم کے ایڈمن ہیں)
میں نے تو اسی وجہ سے مذہبی مباحث میں حصہ لینا چھوڑ دیا ہے کہ بات اگر ایڈمن حضرات کے مزاج کے خلاف ہو تو وہ سیخ پا ہو جاتے ہیں اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اب آگے کیا کہوں)

میں آپ سے یہ درخواست کروں گا کہ تھوڑا ہاتھ کو ہولا رکھیں۔۔۔ امید ہے کہ آپ میری گزارشات پر توجہ دیں گے۔
 
انشاءاللہ بہت جلد لائبریری میں ایک کتاب ان لائن کرنے والے ہیں جس میں زیادہ تر سوالوں کے جواب مل جائیں گے
جہاد
مفتی محمد شفیع رحمتہ اللہ علیہ
 

سیفی

محفلین
مہوش علی نے کہا:
ڈپلومیسی [جہاد بالمقابل صبر]

"ڈپلومیسی سے مراد یہ تخمینہ لگانا ہے کہ اسلام کا مجموعی فائدہ کونسا قدم اٹھانے میں ہے"

میرا سوال اُن حضرات سے ہے جو کہ مولانا مسعود کے نظریہ جہاد کے حامی ہیں، اور مجھے اپنے سوالات کا جواب ضرور سے چاہیے

(علی عمران برادر، آپ بہت عرصے سے یہ مضمون سامنے لا رہے ہیں، اور میں بہت عرصے سے اسے نظر انداز کر رہی ہوں۔ قیصرانی برادر، اگر آپ اجازت دیں تو میں علی عمران سے درخواست کرنا چاہتی ہوں کہ میرے سوالات کا جواب سب سے پہلے دیا جائے)

میرے سوال کو بہت غور سے اور مکمل پڑھئے گا اور پھر جواب دینے کی زحمت فرمائیے گا۔

سوال: کیا رسول اللہ (معاذ اللہ) جہاد سے جان چھڑا رہے تھے؟؟؟


اسلام کا ایک اصول ہے کہ اگر کفار تمہارے دوسرے مسلمان بھائی پر ظلم و ستم کر رہے ہوں تو فرض ہے کہ اپنے ان مظلوم مسلمان بھائیوں کو کفار کے ظلم و ستم سے نجات دلائی جائے۔

کیا آپ مجھ سے متفق ہیں کہ اس موقع پر جہاد "فرض" ہو جاتا ہے؟

یقینی طور پر آپ سب مجھ سے متفق ہوں گے کیونکہ جہاد کی اس شرط سے آج تک کسی نے کبھی انکار نہیں کیا ہے۔

اچھا، اب ذرا رسول اللہ (ص) کے دور میں چلتے ہیں، اور صورتحال یہ ہے کہ:

۔ رسول اللہ مدینے ہجرت کر چکے ہیں۔

۔ مگر جو مسلمان مدینہ میں رہ گئے ہیں، کفار اُن پر ظلم و ستم کیے جا رہے ہیں۔ رسول (ص) کو علم ہے کہ اس موقع پر جہاد "فرض" ہے، مگر آپ ان مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے نہیں نکلتے۔

۔ اچھا اب آگے چلتے ہیں۔۔۔۔۔ اور غزوہ بدر کا وقت آتا ہے۔۔۔۔ مسلمان فتح یاب ہوتے ہیں۔۔۔۔ مگر کفار پھر بھی مکہ میں مسلمانوں پر ظلم کیے جا رہے ہیں۔۔۔۔ جہاد فرض ہے مگر رسول (ص) ہیں کہ تلوار لے کر کفارِ مکہ پر ٹوٹتے ہی نہیں۔

۔ اچھا آگے چلتے ہیں۔۔۔۔ غروہ خندق ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔ مگر رسول جہاد کا فرض پورا نہیں کرتے اور مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم ہونے ہی دیتے ہیں۔

۔ اور آگے چلتے ہیں اور حدیبیہ کا موقع آ جاتا ہے۔۔۔ مگر رسول ہیں کہ پھر جہاد کا فریضہ پورا نہیں کر رہے اور کفار مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کیے جا رہے ہیں۔۔۔


تو مولانا مسعود کے حامی حضرات یہ جواب دیں کہ آیا اُن کی دانست میں رسول (ص) جہاد سے جان چُرا رہے تھے؟؟؟

|\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\


جوابِ شکوہ

اب مولانا مسعود کے حامی حضرات تو جو جواب بھی ارشاد کریں وہ تو ہم بعد میں دیکھ لیں گے۔ فی الحال میں اپنے اس سوال کے ذیل میں خود ہی "جوابِ شکوہ" عرض کرنا چاہ رہی ہوں تاکہ عوام الناس تک رسول (ص) کے اس اسوہ میں پوشیدہ پیغام پہنچ جائے۔


جہاد بالمقابل جہاد سے قبل "جہاد کی مکمل تیاری"

جہاد تو اسلام میں فرض ہے، مگر جس چیز کو جہاد پر بھی افضلیت حاصل ہے وہ ہے "قبل از جہاد مکمل تیاری"۔

بخدا رسول (ص) کو علم تھا کہ مکہ میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے۔۔۔۔ اور رسول (ص) کو بخدا علم تھا کہ اُن مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنا فرض ہے۔۔۔ اور بخدا رسول (ص) نے جہاد میں کوئی کوتاہی بھی نہیں کی۔۔۔۔

مگر رسول (ص) کو علم تھا کہ مدینے کے ابتدائی سالوں میں مسلمانوں کی طاقت بہت کمزور ہے اور اگر وہ تلوار لے کر مکہ بغرضِ جہاد روانہ ہو گئے گئے تو اس سے اسلام کو فائدہ پہنچنے کی بجائے الٹا انتہائی نقصان پہنچے گا۔ یعنی اس جہاد کے اقدام کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ مدینے کے مسلمان جنگ میں قتل ہو جائیں گے اور نہ ہی مکہ کے مظلوم مسلمانوں کو کفارِ مکہ کے ظلم و ستم سے نجات ملے گی۔

یہی صورتحال غزوہ بدر کے بعد بھی موجود رہی۔ اگرچہ کہ مسلمان جنگ جیت گئے، مگر پھر بھی اتنی طاقت مجتمع نہیں تھی کہ مکہ جا کر براہ راست حملہ کیا جاتا۔ ۔۔۔۔۔۔ پھر غزوہ خندق، خیبر،۔۔۔۔۔ اور پھر آخر میں آٹھویں ہجری میں جا کر اتنی طاقت مجتمع ہوتی ہے کہ رسول (ص) کو یقین ہو جاتا ہے کہ اب اگر براہ راست جہاد کا فریضہ انجام دیا جائے تو اسلام کو مجموعی طور پر اس سے فائدہ پہنچے گا کیونکہ کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔

\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

مجموعی طور پر جس چیز کو میں نے اوپر بیان کیا ہے، اسے آجکل کی زبان میں آپ ڈپلومیسی کہہ لیں۔ ڈپلومیسی کا مطلب ہے کہ جہاد سے اہم چیز یہ ہے کہ صورتحال کا صحیح تخمینہ لگانا، کیونکہ صورتحال کو دیکھے بغیر اندھا دھند جہاد کرنے سے کبھی کبھار مجموعی طور پر اسلام کو فائدہ پہنچنے کی بجائے نقصان پہنچ جانے کے زیادہ امکانات ہو جاتے ہیں۔

\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

مولانا مسعود کے نظریہ جہاد میں بہت ساری چیزیں انتہائی غلط ہیں اور اسلام کو فائدہ پہنچانے کی بجائے یقینی طور پر نقصان کی طرف دھکیل دیں گی۔

مجبوری یہ ہے کہ آجکل جہاد کچھ فیشن کی شکل اختیار کر گیا ہے اور ہر جوشیلے نوجوان کو دلکش لگ رہا ہے اور وہ یہ سوچے اور جانے بغیر اس میں کود جانے کو تیار ہے کہ آیا مجموعی طور پر اسکا اسلام کو فائدہ پہنچے گا یہ نقصان۔ اور اس میں ان بے چاروں کا قصور بھی نہیں ہے کیونکہ ہمارے علماء ہی نے بدقسمتی سے انہیں صرف اور صرف اور بار بار جہاد کی آیات سنائی ہیں اور انہیں گہرائی سے اسلام کا مجموعی نظام سمجھنے ہی نہیں دیا کہ کہاں جہاد اسلام کو فائدہ پہنچا رہا ہے اور کہاں مجموعی طور پر اسلام کو جہاد کی نہیں بلکہ صبر کی ضرورت ہے۔

اسی ضمن میں اور بہت سی چیزیں آ جاتی ہیں، جن کی تفصیل میں انشاء اللہ آہستہ آہستہ آئیں گے۔ یہاں صرف یہ باتیں یاد رکھیں:

1۔ "قبل از جہاد تیاری" کو بذات خود جہاد پر افضلیت حاصل ہے۔

2۔ جہاد بغیر اسلامی ریاست کے انتہائی غلط راستے کی طرف جا سکتا ہے (جیسا کہ افغانستان میں یہ چھوٹے چھوٹے جہادی گروپ آپس میں ایسے لڑے کہ لاکھوں مسلمان مارے گئے

جہاد کی یہی صورتحال عراق میں سامنے آ رہی ہے جہاں جہادی گروپ بنا کسی کنٹرول کے ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ زرقاوی گروپ، انصارِ السنہ گروپ، اور الصدر گروپ اور صدام حسین کے حامی، اور بے تحاشہ اور دیگر جہادی گروپ موجود ہیں۔ اب یہ گروپ نہ صرف شیعہ سنی کی بنیاد پر تقسیم ہیں، بلکہ انصار السنہ اور زرقاوی گروپ بھی آپس میں ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں۔ اور ان دو گروپوں کے آگے بہت سے گروپ بن گئے ہیں اور انکا جو جی آتا ہے وہ کرتے ہیں۔

\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

کیا غیر مسلم اقوام کو حق حاصل ہے کہ وہ عام مسلمان شہریوں اور عورتوں\بچوں کو قتل کریں؟


مولانا مسعود اظہر نے اب اعلانِ جہاد کر دیا ہے۔
اور یہ مولانا صاحب اب غیر مسلمین کا قتل حق جانتے ہیں اور اس سلسلے میں اُن کی عورتوں اور بچوں کا بھی کوئی لحاظ نہیں کرتے (اور انکی دانست میں یہ فدائی حملے جہادِ اسلامی ہیں)۔

بات یہ ہے کہ تمام اقوام عالم UNO کے تحت ایک معاہدے میں بندھے ہوئے ہیں۔ اس لیے مغربی اقوام ان خود کش حملوں کے جواب میں کھل کر مسلمان شہروں پر حملہ نہیں کرتے اور نہ شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

اب یہ تو اس مُلا طبقے کی طرف سے بہت زیادتی اور Double Standards ہیں کہ خود کو ہر کسی معاہدے سے بلند تر جانتے ہیں اور خود کش حملوں کو جائز گردانتے ہیں مگر اپنے دشمن کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ بھی کھل کر ہمارے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنائے؟؟؟

خیر وہ دن دور نہیں جب انکے اس اندھے پن کی وجہ سے مغربی عوام کی اکثریت بھی انتہا پسند ہو جائے گی اور کھل کر ہمارے شہروں پر بمباری کی حمایت کر رہی ہو گی۔ اور جب وہ ایسا کریں گے تو آپ کو پتا ہے کہ یہ ہمارے جہادی ملا کیا کریں گے؟؟؟؟؟

تو ایسے وقت میں ہمارے یہ جہادی ملا وہی کریں گے جو کہ طالبان نے افغانستان میں کیا۔۔۔۔ یعنی خود بھاگ کر پہاڑوں میں چھپ جائیں گے اور اپنی نہتی عوام عورتوں بچوں کو دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے۔ ۔۔۔۔۔

وہ تو شکر ہے کہ مغربی عوام نام کا ہی سہی، مگر پھر بھی اقوام متحدہ کے چارٹر کا پاس کرتے ہیں اور اس دباؤ کی وجہ سے امریکہ بہادر کو افغانسان میں نہتی عوام پر بم برسانے کی اجازت نہیں ملی۔۔۔۔ مگر وقت دور نہیں جب ہمارے ملاؤں کا اندھا پن ہم پر یہ وقت لے آئے گا۔

بخدا میرے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے، مگر اب میرے حواس خستہ ہیں اور میرے اعضائے جسمانی میرا ساتھ نہیں دیتے۔ مگر اللہ نے چاہا تو میرا پیغام کا اہم حصہ آپ لوگوں تک ضرور سے پہنچ چکا ہو گا۔ انشاء اللہ۔

والسلام۔

آپ کے سوالات کے تشفی بخش جوابات دیئے جاسکتے ہیں مگر اس فورم پر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ ایڈمنز کے مزاج کے خلاف اگر بات ہو تو وہ اپنا کنٹرول کھو دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر کبھی کوئی ایسا فورم بنا جس میں شائستہ انداز میں، دلائل کے ساتھ بحث چلی تو میں ضرور آپ کی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کروں گا۔۔۔۔

اور یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ آجکل ایک فیشن چل پڑا ہے کہ اردو (یا اسلامی) میڈیا کی بات کو تو ملاؤں کی بے تکی کہہ کر رد کر دیتے ہیں اور مغربی میڈیا کی بکواسات کو آزاد میڈیا کہہ کر ایسے دلائل میں‌ تذکرہ کرتے ہیں جیسے کوئی مذہبی صحیفہ ہو۔۔۔۔
یہاں کسی پوسٹ میں محترم آصف صاحب نے سی این این کے ایسے ہی ایک جھوٹ کا مدلل تذکرہ کیا تھا۔۔۔۔۔۔اور میں نے کسی جگہ بی بی سی کی جھوٹی رپورٹنگ کی بھی مفصل لسٹ پڑھی تھی۔۔۔۔

اسلئے حالات صرف وہ نہیں جو مغربی میڈیا ہمیں دکھاتا ہے۔۔۔۔

ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ اگر شر ہے تو مغرب میں بھی شر
مغرب کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر
(اقبال)
 

سیفی

محفلین
بی بی سی اکثر اسطرح کی غلطیاں کرتی‌رہتی‌ہے۔‌اگر‌خبر کے متاثرین میں‌زور ہو اور وہ کوئی ردعمل دکھانے یا قدغن لگانے کی اہلیت رکھتے ہوں تو پھر تو بی بی سی معذرت کر‌لیتی‌ہے‌۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ‌خبر کی اشاعت سے جو مذموم مقاصد اس نے حاصل کرنے ہوتے ہیں وہ کر لیتی ہے۔۔۔۔۔اور ہمارے ملازم حکمران تاویلیں کرتے رہ جاتے ہیں
 

نبیل

تکنیکی معاون
سیفی، آپ میرے لب و لہجے کی شکایت بعد میں کیجیے، پہلے اس فورم پر علی عمران اور واجد حسین کے دھمکی آمیز پیغامات ملاحظہ کیجیے۔ فورم پر جہادیوں نے سپیمرز کی طرح ہلہ بول دیا ہے۔ اس کا کچھ سدباب تو کرنا پڑے گا۔ شائستہ دلائل کے ضروری ہے کہ بات کا آغاز بھی شائستگی سے کیا جائے۔ یہاں پر کسی کو بات کا جواب سوجھتا ہے نہیں، بس کفر کے فتوے منہ سے جھڑ رہے ہوتے ہیں۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
راجہ، تم سے بھی بات کوئی بن نہیں رہی اور بلاوجہ ادھر ادھر کی ہانک رہے ہو۔ تمہی نے جہادیوں کو یہاں بات کرنے کی ہلا شیری دی تھی۔ اب تمہیں بھی سبق سیکھنا چاہیے کہ خاموشی بھی بہتر ہوتی ہے۔ اب فورم پر تمہارے دوستوں کے جہادی فلسفے کے پرخچے اڑے ہوئے سب کو نظر آ رہے ہیں۔ اگر کسی کو مسعود اظہر کا نہیں پتا تھا تو اب انہیں بھی پتا چل گیا ہوگا کہ یہ صاحب کیا جہالت پھیلا رہے ہیں۔

قادیانیت کی تم نے کیا رٹ لگا رکھی ہے۔ اس دھاگے کو نمایاں کرنے والے تمہی تھے۔ تم سے بہتر تو باذوق رہے جنہوں نے احمدیوں کے سامنے سوال پیش کیے ہیں کہ وہ ان کا جواب پیش کریں۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
واجدحسین، آپ بھی علی عمران کو کہی ہوئی بات سمجھ لیں۔ یہ فورم آپ کے جہادی پراپگینڈے کے لیے نہیں ہے۔ آپ سے کسی سوال کا جواب بن نہیں پڑتا اور کنی کترا کر دوسرے وہی موضوع دوسرے تھریڈ پر شروع کر دیتے ہیں۔
 

باسم

محفلین
شکریہ قیصرانی بھائی میں خود بھی یہی چاہ رہا تھا کہ مکمل مل جائے مگر فوری طور پر یہی مل سکی میں نے اپنے لنک کو آپ کے لنک سے دبل دیا ہے
 

نبیل

تکنیکی معاون
واجد، شاید آپ کو میری بات کی سمجھ نہیں لگی۔ میں عرض کر چکا ہوں کہ یہ فورم مذہبی مباحث کے لیے یا جہادی فلسفوں کے پراپگینڈے کے لیے نہیں ہے۔ اس مقصد کے لیے آپ کسی اور فورم یا ویب سائٹ سے رجوع کریں۔ میں اس تھریڈ کو مقفل کر رہا ہوں۔ اور جلد ہی اس قسم کے موضوعات کے بارے میں نظامت کے طریقہ کار کے بارے میں عرض کروں گا۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top