مجید امجد کیا کہیے کیا حجابِ حیا کا فسانہ تھا ۔ مجید امجد

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 1, 2019

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,661
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    کیا کہیے کیا حجابِ حیا کا فسانہ تھا
    سب کچھ بس اک نگاہِ کرم کا بہانہ تھا

    دیکھا تو ہرتبسمِ لب والہانہ تھا
    پرکھا تو ایک حیلۂ صنعت گرانہ تھا

    دنیا، امیدِ دید کی دنیا تھی دیدنی
    دیوار و در اداس تھے، موسم سہانا تھا

    ہائے وہ ایک شام کہ جب مست، نَے بلب
    میں جگنوؤں کے دیس میں تنہا روانہ تھا

    یہ کون ادھر سے گزرا، میں سمجھا حضور تھے
    اِک موڑ اور مڑ کے جو دیکھا، زمانہ تھا

    اک چہرہ، اس پہ لاکھ سخن تاب رنگتیں
    اے جرأتِ نگہ، تری قسمت میں کیا نہ تھا

    ان آنسوؤں کی رو میں نہ تھی موتیوں کی کھیپ
    ناداں سمندروں کی تہوں میں خزانہ تھا

    اےغم، انیسِ دل، یہ تری دلنوازیاں
    ہم کو تری خوشی کے لیے مسکرانا تھا

    اک طرفہ کیفیت، نہ توجہ نہ بےرخی
    میرے جنونِ دید کو یوں آزمانا تھا

    ہائے وہ دھڑکنوں سے بھری ساعتیں مجیدؔ
    میں ان کو دیکھتا تھا، کوئی دیکھتا نہ تھا

    (مجید امجد)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر