اعتبار ساجد کہا اُس نے کہ آخر کِس لیے بیکار لکھتے ہیں؟ اعتبار ساجد

شیزان

لائبریرین
کہا اُس نے کہ آخر کِس لیے بیکار لکھتے ہیں؟​
یہ شاعر لوگ کیوں اِتنے دُکھی اشعار لکھتے ہیں​
​
کہا ہم نے کہ اَز خُود کچھ نہیں لکھتے یہ بیچارے​
اِنہیں مجبور جب کرتا ہے دل، ناچَار لکھتے ہیں​
​
یہ سُن کر مُسکرائی، غور سے دیکھا ہمیں، بولی:​
تو اچھا آپ بھی اُس قِسم کے اشعار لکھتے ہیں​
​
وہ کیا غم ہے جسے دُہرا رہے ہیں آپ برسوں سے​
وہ کیا دُکھ ہے، مناتے ہیں جسے ہر بار لکھتے ہیں​
​
مگر افسوس ہم سمجھا نہیں پائے اُسے کچھ بھی​
کہ کیوں ہم بھی اُسی انداز کے اشعار لکھتے ہیں​
​
وہ کیسی آگ ہے لفظوں میں، جس کو ڈھالتے ہیں ہم​
وہ کیا غم ہے جو راتوں کو پسِ دیوار لکھتے ہیں​
​
ہے ایسا کون جو سارے جہاں سے ہے ہمیں پیارا​
وہ کیسا دُشمنِ جاں ہے ، جسے غم خوار لکھتے ہیں​
​
اعتبار ساجد​
​
"تمہیں کتنا چاہتے ہیں" سے انتخاب​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top