ساقی۔

محفلین
مجھے خطرہ ہے آپکی ناظمیت کی لاٹھی سے ورنہ میں آپ کو کرارا سا جواب دیتا نبیل!

آپکی کی بے جا تعصب بانہ پوسٹوں کی وجہ سے میں 3 دن بطور احتجاج محفل سے غیر حاضر ہو رہا ہوں . ذرا اپنی ان پوسٹوں کے کردار پر ٹھنڈے دماغ سے غور کیجیئے گا.
3 دن بعد ملیں گے.
 

نبیل

تکنیکی معاون
جی مجھے پتا ہے کہ آپ کو کتنے کرارے جواب دینے آتے ہیں۔ یہ ظلم کی شکار لڑکی کا تو محض بہانہ تھا۔ آپ جیسوں کو کب پرواہ ہونے لگی عورتوں پر ظلم کی۔ آپ کو محض اپنا کرارا پن دکھانے کا بہانا درکار تھا۔ اور جتنے مرضی دن کے لیے چاہیں جائیں، شاید اس لڑکی کے ہاتھ پاؤں کٹنے کی خوشی میں آپ جیسے لوگ مل کر جشن منا رہے ہوں گے۔
 

راشد احمد

محفلین
اب الطاف بھائی کو اس پر بھی یوم سیاہ منانا چاہئے۔

کہاں گئے الطاف بھائی
کہاں گئی انسانی حقوق کی تنظمییں
کہاں ہیں عاصمہ جہانگیر
کہاں ہیں ثمر من اللہ
کہاں ہیں‌زرداری، یوسف گیلانی
کہاں ہیں سیاسی جماعتیں
سب چپ ہیں۔

ایسے ظلم روز ہوتے ہیں، روز عصمتیں لٹتی ہیں، روز حوا کی بیٹیاں اغوا ہوتی ہیں، کاروکاری کی نذر ہوتی ہیں۔ روز کسی نہ کسی گاوں یا ڈیرے میں‌خواتین کے کپڑے پھاڑے جاتے ہیں
سب تنظیمیں اپنے مطلب کے ایشوز پر احتجاج کرتی ہیں۔ ان معاشرتی بے انصافیوں کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کرتا۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
یہاں کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟
بھائیو، ایک عورت ظلم کا شکار ہوئی ہے، اور تم لوگوں کو محض ایک دوسرے پر طنز کرنے کی سوجھ رہی ہے۔
 
اب الطاف بھائی کو اس پر بھی یوم سیاہ منانا چاہئے۔

کہاں گئے الطاف بھائی
کہاں گئی انسانی حقوق کی تنظمییں
کہاں ہیں عاصمہ جہانگیر
کہاں ہیں ثمر من اللہ
کہاں ہیں‌زرداری، یوسف گیلانی
کہاں ہیں سیاسی جماعتیں
سب چپ ہیں۔

ایسے ظلم روز ہوتے ہیں، روز عصمتیں لٹتی ہیں، روز حوا کی بیٹیاں اغوا ہوتی ہیں، کاروکاری کی نذر ہوتی ہیں۔ روز کسی نہ کسی گاوں یا ڈیرے میں‌خواتین کے کپڑے پھاڑے جاتے ہیں
سب تنظیمیں اپنے مطلب کے ایشوز پر احتجاج کرتی ہیں۔ ان معاشرتی بے انصافیوں کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کرتا۔

برادر آپ کی بات بالکل بجا ہے ۔ ایسے واقعات پر احتجاج ہونا چاہیئے اور شدت سے ہونا چاہیئے ۔ ظلم کرنا کسی کا حق نہیں ہے لیکن جب جرائم منظم ہو جائیں اور ان کو شریعت جیسی طاہر چیز کا لبادہ پہنانے کی کوشش کی جائے تو پر زور احتجاج بھی ہونا چاہیئے ۔ یہاں ایک شخصی جرم کو جو قابل مذمت ہے نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ قابل نفرت اور سخت ترین سزا کے ہے ایک ایسی تنظیم کے جرائم کو ویلی ڈیٹ کرنے کے لیئے استعمال کیا جا رہا ہے جسکے عزائم واضح اور اظہر من الشمس ہیں ۔ ایک طرف شخصی جرائم ہیں جنکی قانونی حیثیت پر حکومت اور ان کے لواحقین نہ صرف سوال اٹھا رہے ہیں بلکہ قانونی کاروائی بھی جاری ہے اب ایسے جرم کو ایک نہیں سیکنڑوں ایسے جرائم پر احتجاج سے منع کرنے کی حجت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جو نہ تو کہیں چیلنج ہو سکتے ہین نہ ان پر کوئی انگلی اٹھانے کی جرات کر سکتا ہے ۔ تو ایسے میں ایسی خبروں کو ایک مخصوص پس منظر میں باہر نکالنا کسی مخصوص مقصد کے حصول کا طریقہ تو ہو سکتا ہے مگر سچ میں کسی مظلوم پر ظلم کی مذمت نہیں
 
Top