کچھ ہم بھی کہیں ، کچھ تم بھی کہو۔۔۔!

متلاشی

محفلین
السلام علیکم !
نیا موضوع شروع کر رہا ہوں ۔۔۔۔ جس میں کچھ ہم کہیں گے اور کچھ آپ ۔۔۔!
چلو جی ہم نے تو جو کہنا تھا کہہ دیا۔۔۔۔ باقی ۔۔۔ اب کچھ آپ ہی کہیں۔۔۔۔!
 
  • بڑی لکیر
  • کلاس روم میں سناٹا طاری تھا۔ طلبا کی نظریں کبھی استاد کی طرف اٹھتیں اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔ استاد کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سوال تھا ہی ایسا۔ استاد نے کمرے میں داخل ہوتے ہی بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبا کی طرف کرتے ہوئے پوچھا، ’’تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دے ؟‘‘۔’’یہ ناممکن ہے ۔‘‘، کلاس کے سب سے ذہین طالبعلم نے آخر کار اس خاموشی کو توڑ تے ہوئے جواب دیا۔ ’’لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑ ے گا اور آپ اس لکیر کو چھونے سے بھی منع کر رہے ہیں ۔‘‘ باقی طلبا نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کر دی۔ استاد نے گہری نظروں سے طلبا کو دیکھا اور کچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پر پچھلی لکیر کے متوازی مگر اس سے بڑ ی ایک اور لکیر کھینچ دی۔ جس کے بعد سب نے دیکھ لیا کہ استاد نے پچھلی لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دیا تھا۔ طلبا نے آج اپنی زندگی کا سب سے بڑ ا سبق سیکھا تھا۔
 
شیخ سعدی کی ایک حکایت کا آزاد ترجمہ
ایک عمر رسیدہ شخص پودے لگا رہا تھا، ایک نوجوان پاس سے گزرا، اور بولا: ’’بڑے میاں یہ پودا تو دس سال بعد پھل دیتا ہے، تم کیا سمجھتے ہو کہ اس کے بار آور ہونے تک زندہ رہو گے؟‘‘ عمر رسیدہ شخص ہنسا اور کہا: ’’دیگراں نشاندند ما خوردیم، ما می نشانیم دیگراں بخورند‘‘۔
ترجمہ: دوسروں نے لگائے ہم نے کھایا، ہم لگاتے ہیں کہ دوسرے کھائیں۔

حاصلِ کلام:
درخت، خاص طور پر پھل دار درخت، ایک مضبوط روایت اور قیمتی ورثہ کی تمثیل ہے، ذاتی اور فوری مفاد سے کہیں بالا تر!​
 
Top