کچھ اشعار اصلاح کی غرض سے!

بہت دن ہوے کوئی شعر موزوں نہیں ہوا۔ دو غزلیں مدت سے رکی ہوی تھیں، سوچ رہا تھا کہ مکمل ہوں تو اصلاح مانگوں۔ لیکن بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی سو پیش ہیں۔ مزید اشعار ہوے تو انہیں بھی جوڑ لیں گے اور پھر اصلاح طلبی کی جانب آ جائیں گے:

یہ جتنے زخم ہیں، سب پیار سے لگے ہوے ہیں
یہ مت سمجھنا کہ تلوار سے لگے ہوے ہیں

جہاں پہ راستہ بدلا تھا تم نے، دیکھ لو ہم
تھکے ہوے، وہیں دیوار سے لگے ہوے ہیں

اور دوسری غزل کے اشعار:

نہیں کر حدود کے تذکرے، نہ ہی فلسفہ سنا جبر کا
کبھی آ جو تو مری بزم میں، فقط اختیار کی بات کر

تجھے وصل اس کا نصیب تھا، تو ہمارے پاس بیٹھ کر
کبھی اس کے حسن کا تذکرہ، کبھی اس کے پیار کی بات کر

(ان دو اشعار میں بحر کی غلطی بھی ہو سکتی ہے کہ اس بحر پر میں نے اس سے قبل تقریبا کوئی کوسشش نہیں کی)
 
آخری تدوین:
بہت دن ہوے کوئی شعر موزوں نہیں ہوا۔ دو غزلیں مدت سے رکی ہوی تھیں، سوچ رہا تھا کہ مکمل ہوں تو اصلاح مانگوں۔ لیکن بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی سو پیش ہیں۔ مزید اشعار ہوے تو انہیں بھی جوڑ لیں گے اور پھر اصلاح طلبی کی جانب آ جائیں گے:

یہ جتنے زخم ہیں، سب پیار سے لگے ہوے ہیں
یہ مت سمجھنا کہ تلوار سے لگے ہوے ہیں

جہاں پہ راستہ بدلا تھا تم نے، دیکھ لو ہم
تھکے ہوے، وہیں دیوار سے لگے ہوے ہیں

اور دوسرے غزل کے اشعار:

نہیں کر حدود کے تذکرے، نہ ہی فلسفہ سنا جبر کا
کبھی آ جو تو مری بزم میں، فقط اختیار کی بات کر

تجھے وصل اس کا نصیب تھا، تو ہمارے پاس بیٹھ کر
کبھی اس کے حسن کا تذکرہ، کبھی اس کے پیار کی بات کر

(ان دو اشعار میں بحر کی غلطی بھی ہو سکتی ہے کہ اس بحر پر میں نے اس سے قبل تقریبا کوئی کوسشش نہیں کی)

اچھے اشعار ہیں۔ :)
ایک مصرع لال ہوگیا ہے۔ نظرِ ثانی کر لیجئے گا۔ :)
 
اور اس ڈھنگ سے کیا جائے تو؟

تجھے وصل اس کا نصیب تھا، تو ہمارے پہلو میں بیٹھ کر

گرچہ مجھے پہلو کے واؤ اور میں ونوں کا یکے بعد دیگرے گرنا اچھا نہیں لگ رہا۔
 
جی۔ درست فرمایا۔

تجھے وصل اس کا نصیب تھا، تو ہمارے پاس ۔ بیٹھ کر

پاس کے بعد ایک حرکت کی کسر رہ گئی ہے۔ دیکھتا ہوں۔

’’تجھے وصل اس کا نصیب تھا تو ہمارے سامنے بیٹھ کر‘‘
کبھی اس کے حسن کا تذکرہ کبھی اس کے پیار کی بات کر
متفاعلن متفاعلن متفاعلن متفاعلن​
بہت آداب۔
 

الف عین

لائبریرین
دیکھ چکا ہوں۔ میری رائے جاننا چاہتے ہو تو مجھے
جہاں پہ راستہ بدلا تھا تم نے، دیکھ لو ہم
تھکے ہوے، وہیں دیوار سے لگے ہوے ہیں
میں پہلے مصرع میں روانی کی کمی محسوس ہوتی ہے، الفاظ بدلنے کی کوشش کریں۔
نہیں کر حدود کے تذکرے، نہ ہی فلسفہ سنا جبر کا
میں بھی وہی بات کہوں گا
آخری شعر تو آسی بھائی نے درست کر ہی دیا ہے
 
مدیر کی آخری تدوین:
دیکھ چکا ہوں۔ میری رائے جاننا چاہتے ہو تو مجھے
جہاں پہ راستہ بدلا تھا تم نے، دیکھ لو ہم
تھکے ہوے، وہیں دیوار سے لگے ہوے ہیں
میں پہلے مصرع میں روانی کی کمی محسوس ہوتی ہے، الفاظ بدلنے کی کوشش کریں۔
نہیں کر حدود کے تذکرے، نہ ہی فلسفہ سنا جبر کا
میں بھی وہی بات کہوں گا
آخری شعر تو آسی بھائی نے درست کر ہی دیا ہے
بہت شکریہ۔ میں دوبارہ دیکھتا ہوں۔
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
نہیں کر حدود کے تذکرے، نہ ہی فلسفہ سنا جبر کا
کبھی آ جو تو مری بزم میں، فقط اختیار کی بات کر

تجھے وصل اس کا نصیب تھا تو ہمارے سامنے بیٹھ کر
کبھی اس کے حسن کا تذکرہ، کبھی اس کے پیار کی بات کر


واہ مہدی بھائی
خوبصورت اشعار ہیں۔
لاجواب
 
نہیں کر حدود کے تذکرے، نہ ہی فلسفہ سنا جبر کا
کبھی آ جو تو مری بزم میں، فقط اختیار کی بات کر

تجھے وصل اس کا نصیب تھا تو ہمارے سامنے بیٹھ کر
کبھی اس کے حسن کا تذکرہ، کبھی اس کے پیار کی بات کر


واہ مہدی بھائی
خوبصورت اشعار ہیں۔
لاجواب
بہت شکریہ جناب۔
 
Top