کوہ سلیمان میں بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی

الف نظامی

لائبریرین
deraghazikhan-flood_5-18-2014_148064_l.jpg
ڈیرہ غازی خان: - کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلوں میں بارشوں کی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے اور فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔
کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلوں میں گزشتہ رات کی بارش کے بعد تونسہ کے 7 برساتی ندی نالوں میں طغیانی کی وجہ سے قبائلی علاقوں سنگڑ، مٹھاون، درہ وہوا،درہ لینڑی،درہ سوری اور درہ درگ کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ بارش سے راجن پور کے درہ کاہا میں طغیانی سے فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختونخوا،بلوچستان ،پنجاب اور کشمیر میں کہیں کہیں ہلکی بارش کا امکان ہے۔

متعلقہ کی ورڈ:
رود کوہی-Hill torrents
 

قیصرانی

لائبریرین
deraghazikhan-flood_5-18-2014_148064_l.jpg
ڈیرہ غازی خان: - کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلوں میں بارشوں کی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے اور فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔
کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلوں میں گزشتہ رات کی بارش کے بعد تونسہ کے 7 برساتی ندی نالوں میں طغیانی کی وجہ سے قبائلی علاقوں سنگڑ، مٹھاون، درہ وہوا،درہ لینڑی،درہ سوری اور درہ درگ کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ بارش سے راجن پور کے درہ کاہا میں طغیانی سے فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختونخوا،بلوچستان ،پنجاب اور کشمیر میں کہیں کہیں ہلکی بارش کا امکان ہے۔

متعلقہ کی ورڈ:
رود کوہی-Hill torrents
انا للہ و انا الیہ راجعون
منٹوں میں تباہی مچتی ہے ان نالوں سے تو :(
 

قیصرانی

لائبریرین
اس پانی کو کہیں ذخیرہ کرنے کا بندو بست ہو تو شاید نقصان نہ ہو۔
اس بارے کئی بار بند وغیرہ باندھنے یا ان کا رخ موڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن ایک تو پہاڑی علاقے سے آنے والے پانی کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے، دوسرا یہ بھی کہ کٹاؤ کی وجہ سے بہت سارے پتھر بھی ساتھ آتے ہیں۔ اس وجہ سے اکثر و بیشتر ڈیم تباہ ہو جاتے ہیں
مجھے یاد ہے کہ ڈیرہ غازی خان سے چند کلومیٹر مغرب کو کوئٹہ روڈ پر کئی برس مٹی کی کھدائی ہوتی رہی تھی اور کئی کلومیٹر پر مشتمل کھائیاں بن گئی تھیں جو کئی سو فٹ گہری تھیں۔ ایک بار رودکوہی میں بہت سیلاب آیا اور کچھ دن بعد جب پانی غائب ہوا تو ساری کھائیاں مٹی سے پُر ہو چکی تھیں۔ سنگھڑ یا سنگڑ والا نالا تو اتنا تیز ہوتا ہے کہ جب وہ دریائے سندھ میں گرتا ہے تو اس کا پانی براہ راست دوسرے کنارے سے ٹکرا رہا ہوتا ہے۔ ایک بار تو یہ نالا اتنا لبالب تھا کہ اس کے پاس سے گذرتی ہوئی چشمہ رائٹ بینک کینال کا کچھ حصہ بھی بہہ گیا تھا، حالانکہ اسے ستونوں پر بہت اونچا کر کے پل کی شکل میں گذارا گیا تھا۔ نالے کی تہہ سے کم و بیش بیس سے چالیس فٹ اونچائی رہی ہوگی
 

الف نظامی

لائبریرین
اس بارے کئی بار بند وغیرہ باندھنے یا ان کا رخ موڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن ایک تو پہاڑی علاقے سے آنے والے پانی کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے، دوسرا یہ بھی کہ کٹاؤ کی وجہ سے بہت سارے پتھر بھی ساتھ آتے ہیں۔ اس وجہ سے اکثر و بیشتر ڈیم تباہ ہو جاتے ہیں
مجھے یاد ہے کہ ڈیرہ غازی خان سے چند کلومیٹر مغرب کو کوئٹہ روڈ پر کئی برس مٹی کی کھدائی ہوتی رہی تھی اور کئی کلومیٹر پر مشتمل کھائیاں بن گئی تھیں جو کئی سو فٹ گہری تھیں۔ ایک بار رودکوہی میں بہت سیلاب آیا اور کچھ دن بعد جب پانی غائب ہوا تو ساری کھائیاں مٹی سے پُر ہو چکی تھیں۔ سنگھڑ یا سنگڑ والا نالا تو اتنا تیز ہوتا ہے کہ جب وہ دریائے سندھ میں گرتا ہے تو اس کا پانی براہ راست دوسرے کنارے سے ٹکرا رہا ہوتا ہے۔ ایک بار تو یہ نالا اتنا لبالب تھا کہ اس کے پاس سے گذرتی ہوئی چشمہ رائٹ بینک کینال کا کچھ حصہ بھی بہہ گیا تھا، حالانکہ اسے ستونوں پر بہت اونچا کر کے پل کی شکل میں گذارا گیا تھا۔ نالے کی تہہ سے کم و بیش بیس سے چالیس فٹ اونچائی رہی ہوگی
یہاں جنگلی حیات کی کیا صورتِ حال ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہاں مختلف اقسام کے جانور ، پرندے اور دیگر جنگلی حیوانات موجود ہوں گے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
یہاں جنگلی حیات کی کیا صورتِ حال ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہاں مختلف اقسام کے جانور ، پرندے اور دیگر جنگلی حیوانات موجود ہوں گے۔
کوہ سلیمان میں ابھی چند برس قبل تک ڈی جی سیمنٹ فیکٹری کے آس پاس تیندوے شکار ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ کوہ سلیمان میں دس ہزار فٹ سے بلند کئی چوٹیاں ہیں۔ وہاں ریچھ، مارخور، آئی بیکس، ہرن (کوہ سلیمان میں جہاں پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی سرحد ملتی ہے، کے پاس ایک جگہ کیکر کا بہت بڑا جنگل ہے) ملتے ہیں۔ بھیڑیئے بھی گذشتہ پندرہ ایک برس سے پھر دکھائی دینے لگ گئے ہیں۔ بجو، گیدڑ اور لومڑی بھی عام ہیں۔ اس کے علاوہ کالا اور سفید تیتر، چکور، سے سی اور موسمی پرندوں میں کونجیں، مرغابیاں، فلیمنگو، تلور، کشمیرہ، سوان وغیرہ ملتے ہیں۔ اونچے پہاڑی علاقوں میں تلور اور کشمیرہ وغیرہ مستقل بھی ملتے ہیں۔ کئی جگہ پر جھیلیں یا بند بھی ہیں جہاں مچھلی بکثرت پائی جاتی ہے (جس کے بارے تفصیل سے نہیں جانتا)۔ ہرن کے سلسلے میں یہ بات قابلِ افسوس ہے کہ میرے والد کے ایک دوست جن کی عمر اس وقت 80 سال کے لگ بھگ ہوگی، بتاتے ہیں کہ بچپن میں جب وہ کبھی سیر پر جاتے تھے تو پالتو بکریوں کے ریوڑ میں ہرن بھی گھل مل جاتے تھے اور ایک وقت میں ایک ریوڑ میں 120 تک ہرن انہوں نے خود گنے تھے۔ وہوا کے کھیتران سرداروں کے پاس جب جیپ اور ٹارچ آئی، انہوں نے اندھا دھند شکار کر کے ہرن کی نسل ہی ان علاقوں سے مٹا دی ہے۔ بیٹ کے علاقے میں پاڑہ ابھی بھی ملتا ہے اور سور بھی۔ جنگلی کبوتر، فاختہ اور ہریل وغیرہ جیسے عام پرندوں کے بارے میں نے جان بوجھ کر بات نہیں کی
مزید جس جانور یا پرندے کے بارے پوچھنا چاہیں
 

الف نظامی

لائبریرین
کوہ سلیمان میں ابھی چند برس قبل تک ڈی جی سیمنٹ فیکٹری کے آس پاس تیندوے شکار ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ کوہ سلیمان میں دس ہزار فٹ سے بلند کئی چوٹیاں ہیں۔ وہاں ریچھ، مارخور، آئی بیکس، ہرن (کوہ سلیمان میں جہاں پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی سرحد ملتی ہے، کے پاس ایک جگہ کیکر کا بہت بڑا جنگل ہے) ملتے ہیں۔ بھیڑیئے بھی گذشتہ پندرہ ایک برس سے پھر دکھائی دینے لگ گئے ہیں۔ بجو، گیدڑ اور لومڑی بھی عام ہیں۔ اس کے علاوہ کالا اور سفید تیتر، چکور، سے سی اور موسمی پرندوں میں کونجیں، مرغابیاں، فلیمنگو، تلور، کشمیرہ، سوان وغیرہ ملتے ہیں۔ اونچے پہاڑی علاقوں میں تلور اور کشمیرہ وغیرہ مستقل بھی ملتے ہیں۔ کئی جگہ پر جھیلیں یا بند بھی ہیں جہاں مچھلی بکثرت پائی جاتی ہے (جس کے بارے تفصیل سے نہیں جانتا)۔ ہرن کے سلسلے میں یہ بات قابلِ افسوس ہے کہ میرے والد کے ایک دوست جن کی عمر اس وقت 80 سال کے لگ بھگ ہوگی، بتاتے ہیں کہ بچپن میں جب وہ کبھی سیر پر جاتے تھے تو پالتو بکریوں کے ریوڑ میں ہرن بھی گھل مل جاتے تھے اور ایک وقت میں ایک ریوڑ میں 120 تک ہرن انہوں نے خود گنے تھے۔ وہوا کے کھیتران سرداروں کے پاس جب جیپ اور ٹارچ آئی، انہوں نے اندھا دھند شکار کر کے ہرن کی نسل ہی ان علاقوں سے مٹا دی ہے۔ بیٹ کے علاقے میں پاڑہ ابھی بھی ملتا ہے اور سور بھی۔ جنگلی کبوتر، فاختہ اور ہریل وغیرہ جیسے عام پرندوں کے بارے میں نے جان بوجھ کر بات نہیں کی
مزید جس جانور یا پرندے کے بارے پوچھنا چاہیں
جنگلی حیات کے حوالے سے تو یہ بڑا زبردست علاقہ ہے!
یہ بیٹ کا علاقہ کیا ہوتا ہے اور یہ"پاڑہ" کون سا جانور ہے؟
 

قیصرانی

لائبریرین
جنگلی حیات کے حوالے سے تو یہ بڑا زبردست علاقہ ہے!
یہ بیٹ کا علاقہ کیا ہوتا ہے اور یہ"پاڑہ" کون سا جانور ہے؟
بیٹ سے مراد وہ علاقہ جو دریا کے کنارے ہو، جہاں گھنے جنگل یا جھاڑیاں پائی جاتی ہیں اور مسلسل مرطوب موسم ہوتا ہے شاید
پاڑہ چیتل کی طرح کا ایک جانور ہے، اسے ہاگ ڈیئر بھی کہتے ہیں۔ تصویر یہ رہی۔ میرے ایک سیکنڈ کزن بیٹ کے علاقے میں رہتے ہیں اور انہوں نے کئی اس طرح کے پاڑے پالے ہوئے ہیں
1029px-Hog_Deer_in_Punjab_Pakistan.jpg
 

قیصرانی

لائبریرین
بہت شکریہ۔کوہ سلیمان ؛یہ علاقہ ضرور دیکھنا ہے۔
ایک بات واضح کر دوں کہ علاقہ بہت وسیع اور تقریباً غیر آباد ہے۔ اس لئے ایک تو مقامی کسی افراد سے واقفیت بہتر رہے گی دوسرا یہ بھی کہ صبر کا مادہ ہو۔ بہت سارے جانور دن کے وقت بہت مشکل سے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر او جی ڈی سی ایل میں یا اٹامک انرجی کمیشن کی ایکسپلوریشن میں واقفیت ہو تو اس طرح کے تمام علاقوں کی سیر کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے
 

الف نظامی

لائبریرین
پہاڑی علاقوں کے برساتی نالے یوں تو عام دنوں میں کسی مردہ سانپ کی مانند بے حس و حرکت پڑے رہتے ہیں لیکن ان کا قہر اگر دیکھنا ہو تو برسات کے دنوں میں دیکھئیے ۔ بارش ہوتی ہے پہاڑوں کا پانی ان نالوں میں اترتا ہے اور اپنی طغیانی اور رفتار سے اپنے رستے میں آنے والی ہر چیز کو تہس نہس کرتا چلا جاتا ہے ۔ اسے مقامی زبان میں رود کوہی کہتے ہیں ۔ میں نے دو ہزار دس کے سیلاب کے دنوں میں کوہ سلیمان سے آنے والے رودکوہی کا مشاہدہ انڈس ہائی وے پر پنجاب اور خیبر پختون خواہ کی سرحد پر واقع قصبے تریمن کے قریب واقع برساتی نالے میں کیا ہے ۔ سیلاب نے مضبوط پل کو کھدیڑ کر دو پھینک دیا تھا ۔ حکام نے ٹریفک کی آمد و رفت پر پابندی لگا رکھی تھی اور رکھ تریمن میں سیلاب کے متاثرین کو اقوام متحدہ کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے آٹا پہنچایا جا رہا تھا اگرچہ یہ ہیلی کاپٹر اپنے شکم میں کافی سامان لے جانے کی اہلیت رکھتے تھے لیکن متاثرین کی تعداد اور ضروریات کی فراہی کی ڈیمانڈ میں توازن پیدا کرنا کاردار تھا ۔ طوفان اگرچہ بظاہر گذر چکا تھا لیکن ابھی بھی خطرناک تھا ۔ شومئی قسمت سے کراچی سے پشاور جانے والی ایک کوچ کے ڈرائیور نے شاید مسافروں کے اصرار پر یا پھر اپنی مہارت کے زعم میں نالے کے پانی میں اپنی کوچ ڈال دی ۔ آدھے رستے میں جا کے کوچ کے پہیئے نالے کے فرش کی کوہ سلیمان سے بہ کر آنے والی زرخیز اور کنواری چکنی مٹی میں بیٹھ گئے ۔ ڈرائیور جتنا انجن کا زور لگاتا جاتا مسافربس اتنی ہی نیچے دھنستی چلی جاتی ۔ جب تک کسی عینی شاہد نے حکام کو خبر دی اور فوجی دستے اس مقام پر ریسکیو کی کاروائی کرنے پہنچتے بس پوری کی پوری زیر زمین جا چکی تھی ۔ بڑی مشکل سے پتھر ڈال کرین لگا کر بھی بس کو باہر نہ کھینچا جا سکا اور مٹی نے اپنی بھرپور طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے ٹکروں میں ہی بس اور اس کے چند مسافروں کو اپنے خونی جبڑوں سے باہر نکلنے دیا اور بقیہ کو اپنے شکم میں اتار لیا ۔
 

قیصرانی

لائبریرین
رود کوہی اتنی تیز ہوتی ہے کہ اسے عبور کرنا ایک طرح سے حماقت ہی سمجھی جاتی ہے۔ اس میں نہ صرف پانی، پتھر اور درخت اور دیگر خس و خاشاک ہوتا ہے بلکہ یہ اپنے نیچے سے زمین کو بھی کاٹتی جاتی ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے والد نے بتایا تھا کہ اگر رود کوہی میں پانی کی مقدار اتنی ہو کہ گھٹنے تک پانی آئے تو اس کا زور ٹوٹنے کا انتظار کر لو، ورنہ بہہ جاؤ گے
 

الف نظامی

لائبریرین
May 19, 2014
ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں اور کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں جاری بارش اور ژالہ باری سے برساتی ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے۔ کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلوں اور قبائلی علاقوں میں پانچ روز سے وقفے وقفے سے بارش اور ژالہ باری جاری ہے،جس سے برساتی ندی نالوں میں شدید طغیانی آگئی ہے۔ قبائلی علاقوں فاضلہ کچ، وادی چلالہ اور دیگر علاقوں کا آج پانچویں روز بھی زمینی رابطہ منقطع ہے۔دوسری طرف تحصیل تونسہ شریف کے علاقوں میں سیلابی ریلوں سے فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

17:55 مئی 19, 2014
کوہ سلیمان پر مسلسل بارشوں سے تونسہ شریف کے متعدد دیہات زیر آب آگئے، کئی علاقوں کا ڈی جی خان سے زمینی رابطہ بھی منقطع ہو گیا جبکہ فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
فلڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق کوہ سلیمان میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، ندی نالوں میں طغیانی سے تونسہ شریف کے دیہات بیٹ فتح خان، نتکانی ، چو رکن، جھانگرا اور نور احمد والی میں نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔
شدید بارشوں کے باعث سیکڑوں ایکڑ رقبے پر گندم کی فصل تباہ ہوگئی، متعدد قبائلی علاقوں کا ڈی جی خان سے زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔
فلڈ کنٹرول سینٹر کا کہنا ہے کہ وادی چنالہ کا زمینی رابطہ بحال نہ ہونے کی وجہ سے علاقے میں خوراک کی قلت پیدا ہوگئی ہے
 
Top