کورونا وائرس: سوئزرلینڈ میں ایمرجنسی، فرانس اور روس کا سرحدیں بند کرنے کا اعلان

جاسم محمد

محفلین
چین کے بعد ایران اور اٹلی کے بہت زیادہ متاثر ہونے کی کیا وجہ ہے ؟
ہر ملک میں یہ وبا سرکاری نااہلی کی وجہ سے پھیلی ہے۔ کچھ ممالک جیسے تائیوان، سنگاپور، ہانگ کانگ وغیرہ نے بروقت اقدامات کرکے وبا کو کافی حد تک کنٹرول کر لیا تھا۔ دیگر ممالک جیسے ایران، اٹلی، سپین وغیرہ ان اقدامات میں تاخیر کر دینے کی وجہ سے پچھتا رہے ہیں۔
Tracking the Coronavirus: How Crowded Asian Cities Tackled an Epidemic

یاد رہے کہ یہ وبا چین سے پوری دنیا میں منتقل ہو ئی ہے۔ یعنی چینی حکام نےاسے اپنے ملک تک محدود کرنے کیلئے جو سخت اقدامات کئے تھے وہ سب رائیگاں گئے۔ یوں اس وبا کے عالمگیر ہو جانے میں بہت حد تک ذمہ دار چین بھی ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
ہاتھ کے ہاتھ چائنہ کے لئے سزا بھی تجویز کر دی ہوتی آپ کی عدالت نے تو اچھا رہتا ۔
چین پچھلے 30 سالوں سے دنیا کا لاڈلا بچہ بنا ہوا تھا۔ پوری دنیا کو سستا مال سپلائی کرنا اس کی ذمہ داری تھی۔ چین ہی کی وجہ سے عالمی معیشت کا پہیہ گھوم رہا تھا۔ البتہ اب لگتا ہے کہ دیگر دنیا چین کے معاملہ میں اپنا مؤقف سخت کرلے گی۔ کل ہی ٹرمپ نے پریس کانفرس میں بار بار کورونا وائرس کو تضحیکا چینی وائرس کہا ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
چین پچھلے 30 سالوں سے دنیا کا لاڈلا بچہ بنا ہوا تھا۔ پوری دنیا کو سستا مال سپلائی کرنا اس کی ذمہ داری تھی۔ چین ہی کی وجہ سے عالمی معیشت کا پہیہ گھوم رہا تھا۔

آپ کو پتہ ہے لاڈلہ بچہ کسے کہتے ہیں؟

کیا چین امریکہ کا بھی لاڈلا تھا؟

چین پچھلے 30 سالوں سے دنیا کا لاڈلا بچہ بنا ہوا تھا۔ پوری دنیا کو سستا مال سپلائی کرنا اس کی ذمہ داری تھی۔ چین ہی کی وجہ سے عالمی معیشت کا پہیہ گھوم رہا تھا۔ البتہ اب لگتا ہے کہ دیگر دنیا چین کے معاملہ میں اپنا مؤقف سخت کرلے گی۔ کل ہی ٹرمپ نے پریس کانفرس میں بار بار کورونا وائرس کو تضحیکا چینی وائرس کہا ہے۔

تو کیا آپ کی دنیا ٹرمپ پر ہی محیط ہے؟؟
 

جاسم محمد

محفلین
کیا چین امریکہ کا بھی لاڈلا تھا؟
جی بالکل لاڈلا تھا اسی لئے تو کٹر کمیونسٹ ملک ہونے کے باوجود ابھی تک نہ صرف قائم ہے۔ بلکہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے اس کے ساتھ آزاد تجارت کرکے اسے دنیا کی دوسری بڑی معیشت بھی بنا دیا ہے۔

تو کیا آپ کی دنیا ٹرمپ پر ہی محیط ہے؟؟
امریکہ دنیا کی واحد سوپر پاور ہے۔ اس لئےاس کے صدر کے بیانات کو سنجیدہ نہ لینا زیادتی ہوگی۔
 

محمداحمد

لائبریرین
جی بالکل لاڈلا تھا اسی لئے تو کٹر کمیونسٹ ملک ہونے کے باوجود ابھی تک جوں کا توں قائم ہے۔
ورنہ کیا ارادے تھے امریکہ بہادر کے؟

کیا کمیونسٹوں کا دانہ پانی اُٹھ چکا ہے دُنیا سے؟
امریکہ دنیا کی واحد سوپر پاور ہے۔ اس لئےاس کے صدر کے بیانات کو سنجیدہ نہ لینا زیادتی ہوگی۔

سوپر پاور ہوگی۔

لیکن دنیا بھر کے منتخب صدر نہیں ہے ٹرمپ صاحب! اور نہ ہی ساری دنیا کی نمائندگی کا حق ہے اُن کا۔
 

جاسم محمد

محفلین
لیکن دنیا بھر کے منتخب صدر نہیں ہے ٹرمپ صاحب! اور نہ ہی ساری دنیا کی نمائندگی کا حق ہے اُن کا۔
مستقبل کا پتا نہیں لیکن جب تک امریکی ڈالر پوری دنیا کی واحد ریزرو کرنسی ہے تب تک امریکہ بہادر دنیا کی واحد سوپر پاور رہے گا۔ اور ہر عالمی طاقت کا ایک ہی اصول ہے: جسکی لاٹھی اس کی بھینس۔
 

جاسم محمد

محفلین
کورونا وائرس؛ نریندرمودی نے ملک بھر میں کرفیو کا اعلان کردیا
ویب ڈیسک جمعرات 19 مارچ 2020
2023158-meramoodimahan-1584633063-370-640x480.jpg

60سال سے زائد العمر افراد اور 10 سال سے کم عمر بچوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کرتا ہوں، نریندرمودی۔ فوٹو:فائل

نئی دلی: نریندر مودی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اتوار کو صبح سے رات تک گھر سے نہ نکلیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز اور اس سے نمٹنے کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی عوام اتوار کے روز صبح 7 سے لیکر شام 9 بجے تک گھروں سے نہ نکلیں۔

22مارچ کو “جنتاکرفیو” لگانے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم مودی کا کہنا تھا کہ اتوار کے روز تمام شہری گھروں میں رہیں اور اشد ضرورت کے تحت ہی باہر نکلیں، جب کہ بچے اور 60 سال سے زائد العمر افراد چند ہفتوں تک گھروں تک محدود رہیں کیوں کہ ہم نے کورونا وائرس کے خود کو احتیاط کرکے بچانا ہے۔
 

عرفان سعید

محفلین
یعنی مزید لوگ مبتلا نہیں ہورہے۔۔۔
مزید مبتلا ہو رہیں لیکن شرح کافی کم ہے۔
نیچے والے ربط کے مطابق 39 نئے کیس ہیں۔
Coronavirus Update (Live): 245,859 Cases and 10,047 Deaths from COVID-19 Virus Outbreak - Worldometer
اس روک تھام کی کیا وجوہات ہوئیں؟؟؟
اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ووہان کو مکمل لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھا۔ میرے خیال میں حکومت نے پوری قوت سے لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کروایا اور متاثرہ لوگوں کو قرنطینہ میں رکھا۔ مزید یہ کہ آٹھ دنوں میں ایک پورا ہسپتال تعمیر کر ڈالا۔
یہ محض ایک عمومی سا تاثر ہے۔
نگاہِ غائر سے پوری کیس ہسٹری کو دیکھا جائے تو بنیادی ٹھوس عوامل تک رسائی ہو سکتی ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
کورونا: سب سے زیادہ ہلاکتیں اٹلی میں، ایک پاکستانی بھی ہلاک
کورونا وائرس کے سبب اطالوی شہر مچراتہ میں ایک پاکستانی شہری بھی انتقال کر گیا ہے۔ ان کی نماز جنازہ میں تقریبا چھ آدمی شریک ہوئے اور وہ بھی بے بسی کے عالم میں ایک دوسرے سے فاصلے پر کھڑے ہوئے تھے۔


بازار ویران، سڑکیں سنسان، دکانیں، ریسٹورنٹ اور کاروبار بند، بس اسٹیشن اور ٹرین اسٹیشن مسافروں سے خالی۔ یہ اس وقت اٹلی کے اکثر شہروں کی صورتحال ہے، جو یورپ میں کورونا وائرس کی نئی قسم سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے اس وقت اٹلی دنیا میں پہلے نمبر پر آچکا ہے۔ جمعرات 19 مارچ کو حکام کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد 3400 تک پہنچ چکی ہے۔ یہ تعداد کورونا وائرس سے چین میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 41000 سے زائد ہے۔

کورونا وائرس کے سبب اطالوی شہر مچراتہ میں ایک پاکستانی شہری بھی ہلاک ہو گیا ہے۔ 65 سالہ ولائیت خان کا تعلق صوبہ پنجاب کی تحصیل کھاریاں کے علاقے ڈنگہ سے تھا اور ان کی تدفین انتہائی خاموشی کے ساتھ کر دی گئی ہے۔ ان کی نماز جنازہ میں تقریبا چھ لوگ ہی شریک ہو سکے کیوں کہ کووڈ انیس نامی وائرس کی وجہ سے اطالوی حکومت نے اجتماعات پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ پابندیوں کے باعث ان کی نماز جنازہ میں ان کا کوئی قریبی رشتہ دار بھی شرکت نہیں کر سکا۔

وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لیے حکومتی اقدامات

اٹلی میں کورونا وائرس تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے حکومت اور انتظامیہ نے سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔ بلاضرورت گھروں سے نکلنے کی صورت میں کم از کم 260 یورو جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس کنٹرول مزید سخت کردیا گیا ہے۔ صرف راشن کی خریداری، میڈیکل اسٹور یا ڈاکٹر سے چیک اپ کے لیے جانے والے یا پھر فیکٹری ورکرز اور دفاتر میں کام کرنے والے افراد ہی گھر سے باہر نکل سکتے ہیں۔


اور ایسے افراد کو گھر سے نکلتے وقت انتظامیہ کی طرف سے جاری کیا گیا بیان حلفی اپنے ساتھ رکھنا پڑتا ہے جس میں کوائف کے اندراج کے ساتھ گھر سے نکلنے کی معقول وجہ، تاریخ اور وقت درج ہونا چاہیے۔ اٹلی کی یونیورسٹیوں نے تمام کلاسز اب آن لائن کلاسز میں تبدیل کر دی ہیں۔ طالب علم گھر بیٹھ کر ہی لیکچرز اور اپنی تدریسی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکتے ہیں۔

پاکستانی کمیونٹی بھی شدید متاثر

اٹلی میں کورونا وائرس نے جہاں صحت کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے وہیں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھی بے حد متاثر کیا ہے۔ محمد رضوان کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ پچھلے پانچ سال سے اٹلی میں مقیم ہیں۔ طالب علم ہونے کے ساتھ وہ فری لانس آن لائن مارکیٹنگ کرتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ان کو بھی معاشی طور پر نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، ''میں اب اپنے کلائنٹس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ مجھے پہلے ان سے ملنا پڑتا ہے پھر مطمئن کرنے کے بعد کام ملتا ہے۔ کبھی نہیں سوچا تھا کہ اٹلی کی سڑکیں ایسی ویران ہوں گی۔‘‘

محمد رضوان کے مطابق وہ اس صورتحال میں خوف زدہ نہیں ہیں اور انہیں امید ہو چلی ہے کہ اطالوی حکومت کی طرف سے متعارف کرائے گئے نئے امدادی بل کی وجہ سے ان کو بھی حکومت کی طرف سے کچھ ریلیف ضرور ملے گا۔

واضح رہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر اطالوی حکومت نے ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت عوام کو ریلیف دیا جائے گا۔ 72 صفحات اور 127 نکات پر مشتمل اس بل کی چند بنیادی باتوں میں عوام کو ٹیکس کی مد میں کمی، مارگیج پر لیے گئے گھروں، انشورنس اور دیگر فیسوں کی تاریخوں میں توسیع سمیت یوٹیلیٹی بلوں میں کمی اور کچھ کٹیگری کے حامل افراد کے لیے مالی معاونت بھی شامل ہے۔

اٹلی میں پاکستانی سفارت خانے کے اقدامات

پاکستانی قونصل خانہ میلان کے قونصلر جنرل منظور احمد چودھری نے پاکستانی کمیونٹی سے اپیل کی ہے کہ محکمہ صحت اور اطالوی حکام کی طرف سے جاری کیے گئے احکامات پر مکمل عمل کریں۔ ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سفارت خانہ روم نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے کافی پہلے سے ہی 24 گھنٹے ہیلپ لائن سروس شروع کی ہوئی ہے اور میلان قونصل خانہ بھی کسی ایمرجنسی صورتحال میں پاکستانیوں کی ہر ممکنہ مدد کے لئے موجود ہے، ''پاسپورٹ اور ویزہ سروس آن لائن کر دی گئی ہے جبکہ دیگر کسی بھی طرح کے کاغذات کے لیے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ کورونا وائرس سے متاثر کئی پاکستانی شہری بھی ہیں مگر ان کی صحیح تعداد کا ابھی علم نہیں۔‘‘
 
Top