کورونا وائرس اور حکومتی اقدامات

زاہد لطیف نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 4, 2020

  1. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,355
    موڈ:
    Asleep
    سعی کی یا پھر سعادت حاصل کی؟
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,438
    پاکستانی عوام کی اکثریت حکومتی اقدامات سے مطمئن
     
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,438
    کورونا وبا اور حکومت کا احساس پروگرام
    مشتاق علی قاسمی پير 22 جون 2020
    [​IMG]
    گزشتہ مالی سال احساس پروگرام کےلیے 187 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ (فوٹو: فائل)


    دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد تقریباً 79 لاکھ ہوچکی ہے اور اموات 4 لاکھ، 35ہزار سے بڑھ گئی ہیں۔ پاکستان میں مصدقہ کیسزتقریباً 1لاکھ، 49 ہزار اور اموات 2800 سے زیادہ ہیں۔ یوں پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی کورونا وائرس اپنی تباہ کاریاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    بیماری، آفت اور آزمائشیں کہیں بھی ہوں، قیمتی جانوں اور املاک کا زیاں کر گزرتی ہیں۔ بالخصوص پاکستان کو گزشتہ چند دہائیوں کے دوران تسلسل کے ساتھ قدرتی آفات کا سامنا رہا ہے۔ سیلاب، زلزلے یا جنگوں میں سے ہر ایک کی ہلاکت خیزیاں کسی بھی ملک کے معاشی، سماجی اور معاشرتی ڈھانچے کا بیڑہ غرق کردیتی ہیں۔ انسان جتنی بھی تگ و دو کرکے سائنس و ٹیکنالوجی پر تکیہ کرنے کا سوچے، کرونا جیسی قدرتی آفتوں کے سامنے اپنی دریافتوں اور صلاحیتوں کی حیثیت بخوبی جان سکتا ہے۔

    کورونا وائرس نہ صرف انسانی اموات کی صورت میں تباہ کن واقع ہوا ہے بلکہ اس نے دنیا کے پورے نظام کو درہم برہم کردیا ہے۔ اسپتال، اسکول، کالج، یونیورسٹیاں، دفاتر، مارکیٹیں، پارک، پارلیمنٹ ہاؤسز حتیٰ کہ عبادت گاہیں بھی اب تک معمول کے مطابق نہیں کھل پائے ہیں۔ عالمی تجارت ناقابل یقین حد تک کم ہوگئی ہے۔ معیشتیں مائیکرو اور میکرو دونوں سطحوں پر زبوں حالی کا شکار ہیں۔ جس سے غریب ممالک اور ان کے عوام بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے شکنجے میں جکڑے پسماندہ ملکوں کے عوام کا تو مقدر ہی ان حالات میں بھوک اور افلاس سے مرنا ہے۔

    ترقی یافتہ ممالک کے پاس اس جیسی بحرانی کیفیت سے نمٹنے کےلیے بہت کافی موجود ہیں جن سے وہ اپنے ملکی حالات سنبھالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم ترقی پذیر ممالک جن کا انحصار زیادہ تر ان امیر ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے لیے گئے قرضوں پر ہوتا ہے، کےلیے معاشی مسائل گمبھیر تر ہوتے جارہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ملک جہاں معاشی حالت پہلے سے ہی ابتر چلی آرہی ہے، کورونا نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ یہاں کے اکثریتی عوام دیہاڑی دار اور مزدور ہیں، جن کی روزی روٹی روزمرہ کی کمائی پر منحصر ہوتی ہے۔ کورونا کو کنٹرول کرنے کےلیے حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن یا اس جیسے دیگرسخت اقدامات کا حتمی نتیجہ ان مزدوروں کی روزی روٹی سے محرومی ہی ہے۔ دوسری طرف حکومتوں کے پاس اس قدرتی آفت سے نمٹنے کےلیے لاک ڈاؤن یا اور سخت ترین فیصلوں کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ پس غریب خاندانوں کو کورونا کی بیماری سے لڑنے کے ساتھ ساتھ بھوک سے بھی سخت جنگ کرنا پڑرہی ہے۔

    ہمارے ملک میں عوام کی صحت، مالی استطاعت، روزگار اور سماجی میل جول کے لحاظ سے کوئی بھی مستند سروے یا اعداد وشمار جمع کرنے کا نظام پہلے سے وضع نہیں ہے۔ جبکہ کورونا کی وبا اور ملک میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے ساتھ ایمرجنسی بنیادوں پر غریبوں کو مالی امداد اور راشن مہیا کرنا ضروری تھا۔ ایسے میں حکومت پاکستان نے عوامی ریلیف کےلیےخلافِ معمول جدید کمپیوٹرائزڈ سوچ پر مبنی لائحہ عمل اختیار کیا۔ ڈیٹا سائنس، مصنوعی ذہانت، نادرا کے ڈیٹابیس اور بینکوں کے آن لائن ریکارڈ وغیرہ سے چند دنوں میں ایمرجنسی بنیادوں پر مالی امداد کا ایک زبردست اور حیران کن پروگرام وضع کیا گیا، جسے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کا نام دیا گیا۔ اس پروگرام کے ذریعے ایک کروڑ سے زائد پاکستانی خاندانوں میں تقریباً 122.415 ارب روپے کی مالی امداد تقسیم کی گئی۔

    احساس پروگرام کے تحت رقم کی تقسیم کےلیے مستحقین کا چناؤ پورے ملک بشمول وفاقی دارالحکومت، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر سے کیا گیا۔ جس کےلیے اپنایا گیا طریقہ کار درج ذیل ہے:

    کیٹیگری-1: اس کیٹیگری میں وہ مسحقین شامل کیے گئے جو کہ پہلے سے احساس کفالت پروگرام کے مستقل وصول کنندہ ہیں۔ ان میں رقم وصول کنندہ کی مجموعی تعداد 45 لاکھ 23 ہزار ہے۔

    کیٹیگری-2: اس میں وہ لوگ ہیں جنہوں نے 8171 پر میسیج بھیج کر اندراج کی درخواست کی تھی اور ان کو اہلیت کی جانچ پڑتال کے بعد مستحقین میں شامل کیا گیا۔ ان میں سےجن خاندانوں کو رقم کی ادائیگی کی گئی ان کی تعداد 32 لاکھ 91 ہزار ہے۔

    کیٹیگری-3: اس کیٹیگری میں ان مستحقین کو شامل کیا گیا جن کو صوبائی حکومتوں نے پہلے سے ایک مخصوص، عوامی طور پر مشتہرشدہ اور منظور شدہ طریقہ کار کے تحت چنا تھا۔ ان خاندانوں کی تعداد 22 لاکھ 56 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

    رقم کی تقسیم کےلیے پورے ملک میں جگہ جگہ احساس ایمرجنسی کیش مراکز قائم کیے گئے اور یوں محض چند دنوں میں اربوں روپے کی مالی امداد کی تقسیم جدید ترین طریقہ کار کے تحت عمل میں لائی گئی۔ اگرچہ مستحقین کا چناؤ اور پیسوں کی تقسیم کے عمل کی شفافیت کا یقینی اندازہ اس وقت لگانا مشکل ہے، تاہم مصیبت اور ایمرجنسی کے اس عالم میں اپنے عوام کے مفاد میں ملک ِخداداد کا کامیابی سے ایک منفرد سائنسی روش اپنانا مسرت اور اطمینان کا باعث ضرور ہے۔ جس پر وزیراعظم پاکستان نے بھی فخر کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کو اس کے کورونا اور بھوک سے نڈھال عوام کےلیے احساس پروگرام کی بھارت تک توسیع کی پیشکش کی، جس پر بھارتی حکومت کی طرف سے ناپسندیدگی سے بھرپور جواب ملا۔

    گزشتہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں احساس پروگرام کےلیے 187 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جبکہ آنے والے مالی سال 21-2020 میں حکومت یہ رقم 208 ارب روپے تک بڑھانے کا اعلان کرچکی ہے۔ جس سے اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ وفاقی حکومت احساس پروگرام اور اس کے مقاصد کو کتنا زیادہ اہمیت دیتی ہے۔

    کورونا وبا سے متاثرہ غریب اور متوسط طبقے کےلیے احساس پروگرام کے ذریعے دی جانے والی امداد معمولی ہی سہی لیکن ان مجبور سفید پوش خاندانوں کو بھوک سے بچانے کے ساتھ انہیں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بھی بچاتی ہے۔ یوں یہ پروگرام اخوت، یکجہتی اور اپنائیت کا احساس دلاتے ہوئے آزمائش کی اس گھڑی میں پاکستانیوں کےلیے امیدِ صبح برقرار رکھے ہوئے ہے۔
     
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,438

اس صفحے کی تشہیر