مکمل کودک کہانی : زندہ درخت

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
السلام علیکم

کہانی "زندہ درخت" کودک کہانی کے سلسلے سے متعلق ہے ۔ یہ کہانی کل پانچ اسکین صفحات پر مشتمل ہے ۔

جو اراکین اس کہانی کی مناسبت سے کوئی ڈرائنگ یا گرافکس شامل کرنا چاہیں تو اسی دھاگے میں ارسال کر سکتے ہیں ۔

کسی تجویز یا سوال کی صورت میں کودک کہانی تبصرہ کے دھاگے میں لکھیے۔

zd1.gif
 

مقدس

لائبریرین
زندہ درخت

محمد طلحہ عطا الصمد، کراچی

“ٹھک ٹھک!“ دروازے پر دستک کی آواز سن کر جمال احمد کا کاغذ پر چلتا ہوا قلم ایک دم رک گیا۔ وہ ایک کہانی لکھ رہے تھے۔ جمال احمد ایک بہت بڑے ادیب تھے۔ انھوں نے بچوں اور بڑوں کے لیے سینکڑوں کہانیاں لکھی تھیں۔ ان کی کہانیاں بہت پسند کی جاتی تھیں، جن میں بچوں، بڑوں، قدرتی مناظر، ماحول، پرندوں، جانوروںم تازہ ترین واقعات اور معاشرتی مسائل وغیرہ سب کا ذکر ہوتا تھا، اس لیے وہ جو کچھ بھی لکھتے تھے سب کو پسند آتا تھا۔ اس وقت دروازے پر ہونے والی دستک نے انھیں قلم چھوڑ کر اٹھنے پر مجبور کر دیا۔ انھوں نے پوچھا: “کون ہے بھئی، کیا دروازہ توڑ دو گے؟“

پھر انھوں نے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔ سامنے بوڑھا ڈاکیا کھڑا تھا۔ ڈاکیا ہونے دیکھتے ہی بولا: “جمال بابو!کیا سو رہے تھے؟“

جمال احمد نے کہا: “سو نہیں رہا تھا بلکہ ایک کہانی لکھ رہا تھا، لیکن تم نے اس وقت آ کر لکھنے کا سارا مزہ کرکرا کر دیا۔“

جمال احمد کی بات سن کر بوڑھا ہنس پڑھا اور بولا: “جمال بابو! تم بھی خوب آدمی ہو۔ کہانی لکھنے بیٹھتے ہو تو گویا اس میں گم ہو جاتے ہو اور ہر چیز بھول جاتے ہو۔ میں اتنی دیر سے دروازہ پیٹ رہا تھا۔ اب تو میرے ہاتھوں میں درد ہو رہا ہے۔“

جمال احمد حیران ہو کر بولے:“لیکن میںنے تو فوراً اٹھ کر دروازہ کھولا تھا اور تم کہہ رہے ہو کہ میں نے دروازہ کھولنے میں دیر لگا دی۔“

بوڑھے ڈاکیے نے کہا: “اچھا، یہ لو اپنا خط۔ مجھے اور جگہوں پر بھی جانا ہے۔ اللہ حافظ۔“

بوڑھا داکیا انھیں ایک خاکی لفافہ تھما کر چلا گیا۔ جمال احمد دروازہ بند کر کے اپنے کمرے میں آگئے۔ انھوں نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے خاکی لفافہ الٹ پلٹ کر دیکھا، پھر لفافے مین سے خط نکال کر پڑھا، جو نہایت گندی اور موٹی موٹی لکھائی میں لکھا ہوا تھا:
 

مقدس

لائبریرین
جمال بابو!

امید ہے، تم خیریت سے ہو گے، لیکن اب تمھاری خیریت نہیں۔ تم فوراً اپنے بیٹے کمال کو کان سے پکڑ کر جنگل کے شمالی حصے میں چلے آؤ۔ افسوس کی بات ہے کہ تم اپنی تحریروں سے معاشرے کی اصلاح کرتے ہو، لیکن اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ تم اپنے بیٹے کمال کی صحیح تربیت نہ کر سکے۔ میرا خط ملتے ہی کمال کے ساتھ فوراً جنگل کے شمالی حصے میں چلے آؤ۔

شاہ برگد

خط پڑھنے کے بعد جمال احمد نے ناگواری سے بڑبڑاتے ہوئے خود سے کہا: “یہ کس بدتمیز کا خط ہے؟ لگتا ہے کسی نے مجھ سے مذاق کیا ہے۔“ پھر جمال احمد کو اپنا دوسر دلاور یاد آگیا، جو ان کے بچپن کا دوست تھا اور وہ کبھی کبھی اسی طرح کے الٹے سیدھے خط لکھا کرتا تھا۔ انھوں نے اس خط کر دلاور کا خط سمجھ کر ایک طرف ڈال دیا اور کہانی لکھنے میں مشغول ہو گئے۔

دوسری طرف رات کے وقت جمال احمد اپنے کمرے میں بیٹھے ہوئے کہانی لکھنے میں مگن تھے کہ اچانک دروازہ ایک زوردار آواز کے ساتھ کھلا اور کئی درخت جھومتے ہوئے ان کے کمرے میں گھس آئے۔ ان زندہ درختوں کو دیکھ کر جمال احمد کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔

ایک درخت نے غراتے ہوئے کہا: “تمھارا نام ہی جمال احمد ہے؟“

جمال احمد نے بڑی مشکل سے تھوک نگلتے ہوئے کہا: “ہاں، میں ہی جما احمد ہوں، مگر تم کون ہو اور کیا چاہتے ہو؟“ جمال احمد حیرت اور خوف سے ان درختوں کی طرف دیکھ رہے تھے، جن کے ہاتھ، پیر، آنکھیں، ناک، کان ، منھ سب کچھ تھا اور وہ انسانوں کی طرح باتیں بھی کر رہے تھے۔ درختوں نے جمال احمد کے سوال کو کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ انھیں دونوں طرف سے گھسیتا اور ڈنڈا ڈولی کرتے ہوئے قصبے کے قریب واقع جنگل میں لے گئے اور انھیں ایک بوڑھے برگد کے درخت کے سامنے زمین پر ڈال دیا۔

بوڑھا برگد کا درخت سو رہا تھا۔ جمال احمد کے گرنے کی آواز سن کر اس نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھول دیں اور انھیں گھورتے ہوئے بولا: “ ہوں، تو تم ہو جمال احمد! اس ملک کے بہت بڑے
 

مقدس

لائبریرین
ادیب۔“

جمال احمد نے ہکلاتے ہوئے کہا: “لل۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔تت۔۔۔۔تم کون ہو؟“

درخت نے یہ سن کر افسوس سے سر ہلایا اور پھر کہا: “کیا تمھیں کل میرا خط نہیں ملا؟ تم نے مجھے نہیں پہچانا؟“

جمال احمد کی آنکھوں میں خوف سمٹ آیا اور وہ مسلسل ہکلاتے ہوئے بولے: “تت۔۔۔ تت۔۔۔ تم شاہ برگد ہو؟“

شاہ برگد نے آنکھیں نچاتے ہوئے کہا: “ہاں، تم نے ٹھیک پہچانا۔“

کچھ ہی دیر بعد دو سپاہی درخت، جمال احمد کے بیٹے کمال کو بھی ڈنڈا ڈولی کرتے ہوئے لے آئے۔ جیسے ہی انھوں نے کمال کو شاہ برگد کے سامنے ڈالا۔ وہ چیخ مار کر اٹھا اور بھاگ کر اپنے والد جمال احمد سے لپٹ گیا۔ وہ بری طرح کانپ رہا تھا۔

“ابو! یہ کیسے خوف ناک چلتے پھرتے درخت ہیں، مجھے ان سے بچا لیں۔“
 

مقدس

لائبریرین
شاہ برگد بے قہقہ لگاتے ہوئے کہا: “ اب تو تمھارے ابو بھی تمھیں نہیں بچا سکتے۔“

کمال روتے ہوئے بولا: “میرا اور میرے ابو کا کیاقصور ہے؟“ اس نے اپنے باپ کاہاتھ مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ اسے سب سے زیادہ خوف سپاہی درختوں سے محسوس ہو رہا تھا، جو اسے پکڑ کر لائے تھے۔

شاہ برگد نے دوبارہ ایک زوردار قہقہ لگایا اور پھر کہا: “تمھارا قصؤر یہ ہے کہ تم درختوں پر چاقو سے اپنا نام کھودتے ہو، انھیں زخمی کر دیتے ہو اور ان کی شاخیں توڑتے ہو۔ کئی درخت مجھ سے تمھاری شکایت کر چکے ہیں، لیکن میں درگزر سے کام لیتا رہا، لیکن کل جب تم نے میرے گال پر اپنا نام کھودا تو میں اس وقت سو رہا تھا۔ قسمت سے تم میرے ہاتھوں سے بچ گئے۔ میں نے اسی وقت سوچ لیا تھا کہ تمھیں سزا دیے بغیر نہ چھوڑوں گا۔ رہی تمھارے ابو کی بات، تو ان کا قصور یہ ہے کہ انھوں نے تمھیں کبھی سمجھایا ہی نہیں کہ درختوں کو کھرچنا اور ان کی شاخوں کو کاٹنا نہیں چاہیے۔ درخت بھی جان دار ہوتے ہیں، انھیں بھی تکلیف ہوتی ہے۔“

شاہ برگد کے خاموش ہوتے ہی اس کے برابر والے درخت نے کہا:“ہم تمھیں ٹھنڈی چھاؤں اور تازہ ہوا دیتے ہیں۔ جڑی بوٹیاں اور پھل دیتے ہیں، ہماری لکڑی سے تم فرنیچر بناتے ہو۔ تمھیں ہم سے اتنے سارے فائدے ہیں، لیکن تم۔۔۔۔۔“ اتنا کہہ کر وہ درخت مارے غصے کے زور زور سے ہلنے لگا اور آس پاس کے سارے درخت بھی غصے سے چلانے اور ان دونوں انسانوں لو سزا دینے کا مطالبہ کرنے لگے۔

شاہ برگد کے اشارے پر تما درخت جمال احمد اور کمال پر ٹوٹ پڑے۔ ان دونوں کی خوف زدہ چیخیں وہاں گونجنے لگیں ۔ درختوں نے انھیں گھیرے میں لے کر نوچنا شروع کر دیا تھا۔ فرار ہونے کے لیے ان کے پاس کوئی راستہ نہ تھا۔ ہر طرف سے ان پر غصے میں بھرے ہوئے درختوں کی لاتیں پڑ رہی تھیں۔

×××× اچانک جمال احمد کو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کوئی ان کی کرسی کے پیچھے کھڑا ہوا ہے۔ انھوں نے
 

مقدس

لائبریرین
تیزی سے گردن گھما کر دیکھا اور ایک گہری سانس لےکر رہ گئے۔ ان کا بیٹا کمال پیچھے کھڑا تھا۔ وہ بڑے غور سے اپنے والد کی لکھی ہوئی نئی کہانی پڑھتا جا رہا تھا۔ کمال نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا: “معاف کیجیئے گا ابا جان! میں نے آپ کو لکھتے ہوئے پریشان کیا۔ ویسے کہانی بہت دل چسپ ہے۔آگے کیا ہو گا؟“

جمال احمد نے مسکراتے ہوئے بتایا: “ بس آگے یہ ہو گا کہ لڑکے کے باپ کی آںکھ کھل جائے گی۔ اصل میں وہ خواب دیکھ رہا تھا۔ پھر اسے احساس ہو جاتا ہے کہ بیٹے سے زیادہ قصور وار وہ خود ہے۔ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے سے معاشرے کی برائیوں کی نشان دہی کرتا ہے، لیکن اس نے کبھی اپنی اولاد کی اصلاح کی کوشش نہیں کی۔ برائیوں کا خاتمہ تو صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جب ہر شخص اپنے گھر سے اس کام کی ابتدا کرے۔“

کمال بولا: “انجام بھی اچھا ہے، لیکن آپ نے اپنی کہانی میں مجھے خراب لڑکا بنا دیا۔“

جمال احمد نے جواب دیا: “ تاکہ تم بھی سبق حاصل کر سکو۔“ کملا نے چونک کر انھیں دیکھا، لیکن وہ دوبارہ کہانی لکھنے میں مصروف ہو گئے تھے۔

××××××
 
Top