کلام از عبدالجبار

عبدالجبار

محفلین
میرے لب سے مری اپنی کہانی کیوں نہیں جاتی؟
جدائی کے دنوں میں رُت سہانی کیوں نہیں جاتی؟

بہت غم ہے مجھے تڑپا کہ تو نے مجھ کو چھوڑا ہے
تجھے پانے کی یہ حسرت پرانی کیوں نہیں جاتی؟

مجھے کہتے ہو ،ہوں تیرا، تو پھر یہ کیسی دوری ہے
ترے دل سے یہ میری آنی جانی کیوں نہیں جاتی؟

کبھی سولہ، کبھی سترہ، کبھی سترہ سے پھر سولہ
زمانہ بیت جاتا ہے، جوانی کیوں نہیں جاتی؟

جو تو داغ ہے دل پر لگایا، کیوں نہیں جاتا
جو دی تھی تو نے مجھ کو وہ نشانی کیوں نہیں جاتی؟

سنا ہے ہم نے کہ برسات کا مخصوص موسم ہے
مری آنکھوں سے آنسو کی راوانی کیوں نہیں جاتی؟

ہے تو مانوس کیوں جبّار اتنا اُن کے کوچے سے
تری اُن کی گلی میں‌آنی جانی کیوں نہیں جاتی؟


(عبدالجبار)
 

عبدالجبار

محفلین
دیکھیئے! کچھ آپ بھی فرمائیے
اِس طرح تو ہم کو نہ تڑپائیے

بولیئے! بے شک غلط ہی بولئیے
ہاتھ منہ پہ رکھ کہ نہ شرمائیے

حُسن کو سوچیں تو ہے کچھ بھی نہیں
دیکھیئے تو دیکھتے رہ جائیے

آپ آئیں گے بہاریں آئیں گی
آئیے، آپ آئیے، آپ آئیے

میرے دل میں ہیں بہت سی حسرتیں
بس ذرا اذنِ سخن فرمائیے

تم غلط، نہ میں غلط، نہ وہ غلط
جھگڑا اپنا بس یہیں نمٹائیے

دل میں ہیں طوفاں زباں پر خامشی
آپ نہ میری زباں کھلوائیے

دُور جائیں گے تو مر جائیں گے ہم
اِس طرح تو چھوڑ کر نہ جائیے

دل یہ کہتا ہے صنم! جبّار کا
آئیے تو پھر کبھی نہ جائیے

(عبدالجبار)
 

جاویداقبال

محفلین
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

بہت غم ہے مجھے تڑپا کہ تو نے مجھ کو چھوڑا ہے
تجھے پانے کی یہ حسرت پرانی کیوں نہیں جاتی؟

بہت خوب ، بہت اچھے، بہت اچھی شاعری ہے آپکی جباربھائی،



والسلام
جاویداقبال
 

عبدالجبار

محفلین
جاویداقبال نے کہا:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

بہت غم ہے مجھے تڑپا کہ تو نے مجھ کو چھوڑا ہے
تجھے پانے کی یہ حسرت پرانی کیوں نہیں جاتی؟

بہت خوب ، بہت اچھے، بہت اچھی شاعری ہے آپکی جباربھائی،



والسلام
جاویداقبال

جاوید اقبال صاحب! اتنے پیارے انداز میں‌داد دینے کا بہت بہت شکریہ! آپ کی پسندیدگی دیکھ کر جی چاہا کہ مزید شاعری ارسال کروں۔

عرض کیا ہے۔۔۔۔

ہم نئی بستیاں بسانے لگے
پہلے زخموں کو بھول جانے لگے

ڈر ہے اپنی زباں نہ کُھل جائے
لوگ باتیں بہت سنانے لگے

سنگ رہنے کی کھائی جس نے قسم
وہ ہمیں چھوڑ کر ہیں جانے لگے

بستیاں وہ اُجڑ گئیں پل میں
جن کو بسنے میں تھے زمانے لگے

وہ جو آئیں دل بہلتا ہے
وہ جو جائیں تو دل ُرلانے لگے

چاند سے کہہ دو ڈوب جائے کہیں
رُخ سے پردہ ہیں وہ اٹھانے لگے

جو یہ کہتے نہ جُدا ہوں گے
قبر میں رکھ کہ چھوڑ جانے لگے

کون جبّار کا سہارا ہے ؟ ؟
بس یہی خوف جو ستانے لگے

(عبدالجبار)
 

پاکستانی

محفلین
بولیئے! بے شک غلط ہی بولئیے
ہاتھ منہ پہ رکھ کہ نہ شرمائیے

بہت خوب عبدالجبار بھائی، آپ کا شعر کہنے کا انداز بہت اچھا ہے، یہاں پر لفظوں کا تکرار مجھے بیحد پسند آیا، خوب بہت خوب
لگے رہیں بھائی
 

عبدالجبار

محفلین
میری پہلی نعتیہ شاعری۔۔ مِرے آقا قبول کر لیں تو سب دکھ دُھل جائیں۔۔




قصیدے اُن کے پڑھنا چاہتا ہوں
کہ اب میں بھی سنورنا چاہتا ہوں

بہت مُدّت سے نہ روئی یہ آنکھیں
اِنہیں اشکوں سے بھرنا چاہتا ہوں

ہاں مِل جائے جو خاکِ پائےِ احمد
اُسے بوسہ میں کرنا چاہتا ہوں

ہے شاہوں سے بھلی اُن کی غلامی
یہی سرکار کرنا چاہتا ہوں

نہیں ہے چاہتِ حُوران و جنّت
بس اِک دیدار کرنا چاہتا ہوں

تڑپ کر کہہ رہا ہے دل یہ میرا
میں اُن کو سجدہ کرنا چاہتا ہوں

بچی ہیں جو مِری دو چار سانسیں
اُنہیں کے نام کرنا چاہتا ہوں

دمِ آخر مجھے لے جانا اُس دَر
اُنہیں کا ہو کے مرنا چاہتا ہوں

سُنا ہے لحد میں ہو گی زیارت
سو میں جبّار مرنا چاہتا ہوں

(عبدالجبار)​
 

دوست

محفلین
سجدہ۔۔۔
بھائی جی انھی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ سجدہ صرف خدا کو کرو۔
خیر بہت دنوں بعد آئے ہیں‌ کدھر رہے۔
نعت اچھی ہے پسند آئی۔
 

عبدالجبار

محفلین
استغفراللہ!

دوست بھائی! آپ نے شعر پر غور نہیں کِیا، سجدہ کون کر رہا ہے؟ دل فقط تڑپ کر کہہ رہا ہے، تڑپ تو یہی ہے کہ اُن کو سجدہ کرنا حرام ہے، کِیا نہیں‌جا سکتا۔
 
Top