مکتوب کرونا وائرس ہماری ذمہ داری

محمد بلال افتخار خان نے 'آپ کی تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 22, 2020

  1. محمد بلال افتخار خان

    محمد بلال افتخار خان محفلین

    مراسلے:
    93
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    BTV: کرونا وائرس ہماری ذمہ داری
    عذاب کیا ہے؟

    اللہ کی رحمت کی غیر موجودگی عذاب ہے۔

    مال و زر اور اولاد سے برکت کا اٹھ جانا عذاب ہے۔

    دعا کا قبول نہ ہونا عذاب ہے۔

    ہر وقت خوف کے سائے منڈلاتے رہنا عذاب ہے۔

    بے حس ہو جانا عذاب ہے۔۔

    زندہ جسم میں مردہ دل ہونا بھی ایک بڑا عذاب ہے۔۔

    کسی نے حضرت علی کرم اللہ وجہ سے پوچھا

    ظلم کیا ہے؟

    آپ نے فرمایا

    چیزوں کا اپنے مقام پر نہ ہونا ظلم ہے۔۔

    خدا ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔شاید اسی لئے جہاں ظلم ہو وہاں رحمت نہیں ہوتی۔ جہاں رحمت نہ ہو وہاں برکت نہیں رہتی۔جہاں برکت نہ ہو وہاں بے چینی ہوتی ہے۔ اور جہاں بے چینی ہو وہاں خوف ہوتا ہے۔۔ اور جہاں خوف ہو وہاں معاشرتی بے حسی ڈیرے ڈال دیتی ہے۔۔

    اس وقت ساری دنیا کرونا وائرس اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماری سے جنگ لڑ رہی ہے۔۔۔ دسمبر 2019میں چین کے صوبے ووہان سے نکلنے والی اس بیماری سے قریباً 10 ہزار اموات ہو چکی ہیں جبکہ 170 سے زائید ممالک میں یہ بیماری پھیل چکی ہے۔۔۔ سوائے انٹارٹیکا کے دنیا کا ہر بر اعظم اس سے متاثر ہے۔۔۔

    پاکستان میں بھی اس کے کیسسیز میں روزانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے اور ابتک کی اطلاعات کے مطابق دو سے زیادہ اموات بھی ہو چکی ہیں۔۔

    گو اس بیماری میں اموات کا تناسب کم ہے اور زیادہ تر لوگ شفایاب ہو جاتے ہیں لیکن پھر بھی اس کا خوف تاریخ میں اس سے پہلے آنے والی وبائوں سے بہت زیادہ ہے۔۔۔

    کرونا کا اصل شکار 50 سال سے اوپر اور 4 سال سے کم عمر کے لوگ ہوتے ہیں یا وہ لوگ جن کی قوت مدافعت شوگر، بلڈپریشر یا کسی اور بیماری سے کمزور ہو چکی ہو۔۔۔

    کرونا عذاب ہے یا آزمائش؟؟؟

    حضرت علی کرم اللہ وجہ سے کسی نے پوچھا کہ کیسے پتہ چلے کہ جو سختی مجھ پر آئی ہے وہ اللہ کی جانب سے عزاب ہے یا پھر آزمائیش۔۔

    امیر المومنین کرم اللہ وجہ نے فرمایا" جو سختی تجھے اللہ کے قریب کر دے وہ آزمائیش ہے اور جو تجھے خدا سے دور کر دے وہ عذاب"

    باحیثیت معاشرہ اگر اس قول کے تناظر میں ہم اپنا تجزیہ کریں تو ایک چیز سامنے آئے گی کہ اس وبا کے پاکستان میں آتے ہیں۔۔ ماسک ، سینی ٹائزرز اور دیگر احتیاطی اشیاء کو اس ملک کے تاجروں نے مارکیٹس سے غائب کر دیا تاکہ ڈیمانڈ میں اضافے کی وجہ سے وہ زیادہ قیمتین وصول کر سکین۔۔۔ آج 5 روپے والا سرجیکل ماسک 10 روپے بلکہ بعض جگہ 20 روپے کا بک رہا ہے۔۔۔ الکوحل سے بنے سینیٹائزرز غائب ہیں۔۔۔ اور ایک دم نئے برانڈ کے سینیٹائزر مارکیٹ میں آ گئے ہیں۔۔۔ ایک دوکان سے میں نے سینیٹائزر مانگا تو ایک نامعلوم کمپنی کی بوتل دوکان دار نے سامنے رکھ دی اور بولا 300 روپے کا ہے اور بہترین سینیٹائزر ہے۔۔۔ میں نے پیچھے اس میں شامل اشیاء پر نظر ڈالی تو کہیں الکوحل یا ہائڈروجن پر آکسائیڈ نظر نا آئی۔۔ یاد رہے ان دو کیمیکلز سے ہی وائرس مرتا ہے ۔۔ نا نہاد سینیٹائزرز انٹی بیکٹیریل تو ضرور ہوتے ہیں لیکن کرونا چونکہ وائرس ہے اس لئے ان کا کوئی فائیدہ نہیں ہے۔۔۔

    اس طرح لاک ڈائوں کے خطرے کی وجہ سے اشیاء ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔۔۔ جو ہمارے امیر تاجر طبقے کی بے حسی کی ایک اور مثال ہے۔۔۔

    دوسری جانب چونکہ میرا تعلق میڈیا سے ہے اور اس فیلڈ میں اکثریت مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہے ۔۔۔کی تنخواہین اکثر چینلز نے ادا نہیں کی ہیں۔۔۔ کئی چینلز نے دو ماہ اور کچھ نے اس سے زیادہ کی تنخواہین ادا کرنی ہیں۔۔۔ یہاں بھی سیٹھوں کا رویہ پیسے اور صرف پیسے کی ہوس میں انسانی جانوں سے کھیلنے کا ہے۔۔۔ یہ لوگ مجبور طبقے سے کام کروانے میں سخت جبکہ اجرت دینے میں بہت غریب واقع ہوئے ہیں۔۔۔

    اس وقت ہر سو نفسا نفسی ہے۔۔۔ ہر کوئی دوسرے سے دور بھاگ رہا ہے۔۔۔ اور جیسے کے اوپر کہا کہ ہر طرف بے حسی چھائی نظر آ رہی ہے۔۔۔ گو حکومت عوام کی تربیت کے لئے بہت کچھ کر رہی ہے لیکن یہ ایک اتنا بڑا کام ہے جو اکیلے حکومت نہیں کر سکتی اس لئے عوام کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے حصے کا فرض ادا کرے۔۔

    حالات اور ہماری بے حسی بتا رہی ہے کہ یہ آزمائش سے زیادہ عذاب ہے۔۔۔نبی کریم ﷺ کے ارشاد کے مطابق ہم میں سے بہترین وہ ہے جو لوگوں کے لئے خیر ہو ۔۔لیکن بد قسمتی سے ہم خیر سے زیادہ شر بننا پسند کر رہے ہیں۔۔۔

    ایک بات یاد رکھیں۔۔۔ کرونا کی بیماری ہمیں بتا رہی ہے کہ اتنی ترقی کے باوجود ہم ایک وائرس سے عاجز آ چکے ہیں۔۔۔ یاد رہے کہ وائرس جاندار اور بے جان کے درمیان کی مخلوق ہے جو چونکہ ری پروڈیوس کرتا ہے اور آر این اے وغیرہ رکھتا ہے اس لئے جاندار سمجھا جاتا ہے۔۔ جبکہ یہی وائرس کرسٹلائز کر جاتا ہے جو بے جان اشیاء کی صفت ہے۔۔۔

    آج ہمارے دبدبے، ہماری جسمانی، مالی اور تمام طاقتین ایک انتہائی چھوٹی مخلوق نے فیل کر دی ہیں۔۔۔ دنیا کو کئی بار تباہ کر دینے کی طاقت رکھنے والے آج ایک انتہائی چھوٹے وائرس کے خوف سے سوشل ڈسٹنسنگ ، تنہائی اور پتہ نہیں کیا کیا کرنے پر مجبور ہیں اور انگزائیٹی اور خوف کا شکار ہیں۔۔۔

    یاد رہے ہمارا رب ہمیں بنانے والا ، ہمارا اللہ ۔۔۔رحمٰن و رحیم ہے۔۔۔ ہمارے آقا کے ارشاد کے مطابق "اُس کی رحمت اُس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔۔۔

    اس سے پہلے کئی قومین اپنی کرتوتوں کی وجہ سے تباہ ہوئیں لیکن کئی قومیں آخری وقت میں اس لئے بچا لی گئیں کیونکہ انہوں نے توبہ کی، اپنا احتساب کیا ۔۔۔ جیسے حضرت یونس علیہ السلام کی قوم۔۔۔۔جس نے توبہ کے ذریعہ اللہ کی رحمت پائی اور عذاب سے بچ گئے۔۔۔

    دوستو آج اس وائرس نے ہمیں رب سے دور کر دیا ہے۔۔۔ یہی وجہ ہمارے خوف کی بھی ہے۔۔۔ میں یہ نہیں کہتا کہ احتیاط مت کرو ۔۔۔ کیونکہ آقا ﷺ نے فرمایا کہ اونٹ باندہ کر توکل کرو۔۔۔ علماء اور حکومت کی جانب سے دی گئی ہدایات پر عمل کرنا شرعی فرض ہے۔۔

    صفائی تو ویسے ہی ایمان کی اولین شرط ہے۔۔ خود کو اور اپنے گھر کو صاف ستھرا رکھیں۔۔۔ اختاط کرین۔۔۔ خود بچین اور لوگوں کو بھی اس وبا سے بچائیں۔۔

    لیکن ایک اور فرض خود احتسابی لازمی ادا کریں۔۔ اپنا احتساب کرین۔۔۔ یقین جانین جو جو ابھی تک کرونا کا شکار ہو کر ہم سے دور جا چکے ہیں اُن میں سے کوئی بھی مال ، اولاد اور طاقت اپنے ساتھ قبر میں نہیں لے جا سکا۔۔۔۔ اس لئے پیسے کی لالچ میں خود پر اور عوام پر ظلم مت کرین ۔۔۔


    دوسری بات کثرت سے توبہ استغفار کریں۔۔۔ اور اپنے قول و فعل سے ثابت کرین کہ ہم وائرس کے ساتھ ساتھ اپنی اخلاقی بیماریوں کو بھی شکست دے کر رہیں گے۔۔۔

    اس کے علاوہ باحیثت قوم ہمارا یہ فرض ہے کہ اپنے کمزور لوگوں کو اس بیماری سے متعلق تعلیم دیں۔۔۔ آپ کے علاقے ، دفتر وغیرہ کے چوکیدار،گارڈز، مالی، خاکروب، ٹی بوائز، گھر میں کام کرنے والی خواتین کی ذمہ داری آپ پر ہے۔۔۔ اگر صاحب حیثیت ہیں تو انہیں ماسک ، سینیٹائزرز اور صابن وغیرہ دین۔۔۔ انہیں بیماری سے احتاط کا طریقہ بتائیں۔۔۔ اُن کی صحت کا خیال رکھیں۔۔

    مزدوروں اور غریبوں کا خیال رکھیں۔۔۔ ہمارے مال میں اُن کا حصہ رکھا گیا ہے۔۔ یقین جانین جیسی بھوک اور بیماری آپ کو لگتی ہے اور تکلیف دیتی ہے ۔۔۔انہیں بھی دیتی ہے۔۔۔ اس لئے اُن کا خیال رکھ کر خود کو بچائیں۔۔۔ آقا ﷺ کا قول ہے کہ "صدقہ رب کے غصے کو بجھا دیتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے"۔

    کرو محربانی تم اہل زمین پر

    خدا محربان ہو گا عرش بریں پر

    بے شک ہم کمزور لوگ ہیں، گناہگار لوگ ہیں جن پر نفس اکثر غالب ہو جاتا ہے۔۔۔ لیکن ہم رحمٰن و رحیم رب کے بندے ہیں۔۔ ہمارا خالق و مالک محدود و لامحدود کا رب ہے۔۔۔ وہ معاف کرنے والا ہے۔۔۔ توبہ کے دروازے ہماری آخری سانس تک کھلے ہیں۔۔ آئو توبۃالنصوح کریں۔۔۔ نفس کی لالچ کے پیچھے شریر بننے کی بجائے خیر والے انسان بنین ۔۔۔۔ ہمارے جد آدم علیہ السلام کو اللہ نے خلافت ارضی عطا فرمائے۔۔۔ عظمت آدم پہچانیں اور روش آدم اختیار کریں۔۔۔

    شیطان نے خود کو آدم سے افضل سمجھا اور برباد ہوا۔۔۔ خدارا روش آدم اختیار کریں اور دل کی گہرائی سے کہیں

    رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ



    اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے


    سورۃ الاَعراف - آیت 23


    اگر ہم خود کو بدل لیتے ہیں تو یقین جانیں کرونا عذاب سے آزمائش بن جائے گا ۔۔ جس کو مل کر، ثابت قدمی سے شکست دے کر ہم اللہ کی رحمت اور انعام کے حقدار بن جائیں گے۔۔۔۔

    اللہ ہم سب پر رحم فرمائے اور ہمیں چیزین سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے

    آمین ثم آمین
    BTV: کرونا وائرس ہماری ذمہ داری
    فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
  2. ایس ایس ساگر

    ایس ایس ساگر لائبریرین

    مراسلے:
    512
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    جزاک اللہ محمد بلال بھائی۔

    اللہ رب العزت ہم سب کو اس وبائی مرض سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
     

اس صفحے کی تشہیر