کرنل وحید الدین کی کتاب روزگار فقیر سے اقتباس

سید زبیر

محفلین
کرنل وحید الدین کی کتاب روزگار فقیر سے اقتباس​
ڈاکٹر صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جو دعا دل کی گہرائیوں سے نکلے ضرور قبول ہوتی ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ دعا کا اثر فوراً طاہر ہو بعض دعائیں تو ایسی بھی ہوتی ہیں جن کا اثر کہیں موت کے بعد ظاہر ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی زندگی بڑی مختصر ہے اور نظام کائنات بہت وسیع ہے ڈاکٹر صاحب کے اس قول کی تصدیق ان کی زندگی کے واقعات سے ہوتی ہے جو لوگ ان کی زندگی کے حالات سے اچھی طرح با خبر ہیں انہیں معلوم ہے کہ داکٹر صاحب تیسری شادی کے بعد مدت تک اولاد سے محروم رہے جب وہ قریب قریب اولاد کی طرف سے مایوس ہو چکے تو حضرت مجدد الف ثانی ؒ کی درگاہ میں حاضر ہو کر دعا کی کہ اللہ انہیں ایک بیٹا عطا کرے جسے وہ اپنی زندگی میں اعلیٰ تعلیم دے سکیں لیکن اس واقعہ کو بھی پانچ چھ برس گزر گئے اور ان کیدعا قبول نہ ہوئی ایک دن شام کو وہ گھر گئے تو دیکھا کہ جاوید کی والدہ طوطے کے بچے کو اپنے پاس بٹھا کے بڑی شفقت سے پھل کھلا رہی ہیں ۔یہ کیفیت دیکھ کے ڈاکٹر صاحب کی زباں سے بے اختیار ی الفاظ نکل گئے " الٰہی ! اس خاتون میں مادرانہ شفقت پیدا ہو چکی ہے اب اسے اولاد بھی عطا فرما " یہ دع قبول ہوئی چنانچہ اس سال جاوید سلمہٗ تولد ہوئے​
ڈاکٹر صاحب کو جاوید میاں سے جس قدر محبت تھی اس کا اندازہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جو ان کی خدمت میں روز حاضر ہوتے تھے داکٹر صاحب طبعاً بڑے خاموش اور سنجیدہ بزرگوار یکن جب کبھی وہ جاوید کو آواز دے کے بلاتے ،اسے کھلتے ہوئے دیکھتے یا احباب کے سامنے اس کا ذکر کرتے تو پدرانہ شفقت ان کے دل کو گداز کر دیتی اور ان کی آنکھیں نم آلود ہوجاتیں ۔کبھی کبھی رخساروں پہ آنسو بہنے لگتے پیشانی پر زاویے ابھرتے اور مٹ جاتے و ہ جاوید سلمہٗ کو نصیحتیں کرتے ۔اپنے پاس بیٹھنے پر زور دیتے لیکن کبھی کبھی میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جاوید کا ذکر کرتے کرتے ان کا دل ڈوب سا جاتا اور وہ یک بیک خاموش ہو جاتے​
روزگا رفقیر ص 71​
 
Top