کرنل (ر) انعام الرحیم کا کورٹ مارشل عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی ہوگا، سپریم کورٹ

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 4, 2020

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,494

    کرنل (ر) انعام الرحیم کا کورٹ مارشل عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی ہوگا، سپریم کورٹ

    حسیب بھٹی | ویب ڈیسکاپ ڈیٹ 04 مارچ 2020
    [​IMG]

    سپریم کورٹ کے جسٹس منیب اختر نے وزارت دفاع کے ماتحت ادارے کی حراست سے رہا ہونے والے سابق کرنل سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ انعام الرحیم کا کورٹ مارشل سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہوگا۔

    عدالت عظمیٰ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں بینچ نے کرنل (ر) انعام الرحیم کی رہائی کے حکم کے خلاف حکومتی اپیل پر سماعت ہوئی۔

    دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی, ڈائریکٹر لیگل وزارت دفاع بریگیڈیئر فلک ناز عدالت میں پیش ہوئے، جہاں عدالت کے جسٹس مشیر عالم نے پوچھا کہ کرنل انعام ریٹائرڈ ہیں، ان پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا اطلاق کیسے ہوسکتا ہے، کیا سوچے سمجھے بغیر ہی کسی کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے؟۔

    ساتھ ہی انہوں نے ریمارکس دیے کہ کرنل (ر) انعام الرحیم پر فوج نے سنگین الزامات لگائے پھر خود ہی رہا کردیا، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ انعام رحیم کو رہا کردیا ہے لیکن وہ زیرتفتیش ہیں۔

    اس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ کرنل (ر) انعام رحیم کو عدالتی حکم پر رہا نہیں کیا گیا، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ انعام الرحیم کی رہائی کی وجوہات الگ ہیں، اس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ وجوہات کوئی بھی ہوں بات سنگین الزامات کی ہے۔

    سماعت کے دوران ہی جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ واضح کرچکی ہے کہ سویلین کا کورٹ مارشل نہیں ہوسکتا، سویلین کے کورٹ مارشل کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی، (لہٰذا) کرنل (ر) انعام الرحیم کا کورٹ مارشل سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہوگا۔

    انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ سول نوعیت کے جرم پر فوجی افسران کا بھی کورٹ مارشل نہیں ہوسکتا، سول نوعیت کا جرم عام آدمی کرے یا فوجی، ٹرائل فوجداری عدالت کرے گی۔

    جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیرسول نوعیت کے جرم پر کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا، فوجداری عدالت کو اختیار ہے کہ سول جرم میں جاری کورٹ مارشل کو روک سکے۔

    اس موقع پر ڈائریکٹر لیگل وزارت دفاع بریگیڈیئر فلک ناز نے بات کرنا چاہی تو عدالت نے انہیں روک دیا، ساتھ ہی جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آپ کی نمائندگی کے لیے ایڈیشنل اٹارنی جنرل موجود ہیں۔

    انہوں نے ریمارکس دیے کہ کمانڈنگ آفیسر نے دلیل کے ساتھ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کورٹ مارشل ہونا ہے کہ کیس عدالت میں جانا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اجازت کے بغیر آپ عدالت کو مخاطب نہیں کرسکتے، بات کرنے سے پہلے عدالت اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے اجازت لیں، عدالت خود آپ سے کچھ پوچھے تو ہی آپ جواب دے سکتے ہیں،آپ کا کام ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی معاونت کرنا ہے۔

    اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ مذکورہ معاملے میں لاہور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آچکا ہے، جو نکات عدالت نے اٹھائے ہیں ان کے جواب کےلیے وقت درکار ہے۔

    ساجد الیاس بھٹی نے کہا کہ متعلقہ حکام سے ہدایات لےکر عدالتی سوالات کے جواب دوں گا، جس پر عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے انہیں تین ہفتوں کا وقت دےدیا۔

    جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ کی دفعہ 94، 95 اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 549 پر تیاری کرکے آئیں، سویلین کے کورٹ مارشل سے متعلق نقطے پر بھی معاونت کریں۔

    جس کے بعد مذکورہ کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔

    سابق کرنل انعام الرحیم کا معاملہ
    ایڈووکیٹ انعام الرحیم نے لاپتا افراد کی بازیابی اور فوج اور مسلح افواج کے انتظامی احکامات کے خلاف متعدد درخواستیں عدالتوں میں دائر کر رکھی تھیں۔

    اس کے ساتھ وہ جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی حملے اور نیوی کے افسران سمیت دیگر افراد کی سزا کے حوالے سے ہونے والے ہائی پروفائل کورٹ مارشل کے خلاف دائر درخواست کے بھی وکیل تھے۔

    انہیں 17 دسمبر کو مبینہ طور پر عسکری حکام کی جانب سے اٹھایا گیا تھا، جس کے بعد درج مقدمے کے مطابق ایڈووکیٹ انعام الرحیم کو نامعلوم افراد نے عسکری 14 میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا تھا جو گیریژن شہر میں خاصی محفوظ آبادی سمجھتی جاتی ہے۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ جس وقت ایڈووکیٹ انعام الرحیم سو رہے تھے نامعلوم افراد ان کی رہائش گاہ میں زبردستی داخل ہوئے اور اہلِ خانہ کو دھمکیاں دیتے ہوئے انہیں اغوا کیا۔

    جس کے بعد ان کے اہل خانہ، سینئر وکلا احسن الدین شیخ، بریگیڈیئر (ر) واصف خان نیازی، توفیق آصف، انور ڈار، رانا عبدالقیوم اور میجر(ر) وحید نے ان کی بازیابی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

    20 دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے وزارت دفاع اور داخلہ ایڈووکیٹ انعام الرحیم کی موجودگی کے حوالے سے بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔

    وزارت داخلہ نے ان کی موجودگی سے انکار کیا تھا جبکہ وزارت دفاع کے ایک نمائندے نے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مرزا وقاص رؤف کو بتایا تھا کہ ایڈووکیٹ انعام الرحیم کو پاکستان آرمی ایکٹ (پی اے اے) کے تحت آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا تھا۔

    بعدازاں 9 جنوری کو لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے ایڈووکیٹ کرنل (ر) انعام الرحیم کی حراست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

    تاہم وزارت دفاع نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف ڈپٹی اٹارنی جنرل راجا عابد کے ذریعے ایک انٹرا کورٹ اپیل دائر کی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔

    جس پر وفاقی حکومت نے 11 جنوری کو سابق فوجی افسر ایڈووکیٹ انعام الرحیم کی رہائی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا تھا۔

    جس کے بعد 14 جنوری کو سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ (راولپنڈی بینچ) کی جانب سے وزارت دفاع کے ماتحت ادارے کی حراست میں موجود وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی رہائی کا دیا گیا فیصلہ معطل کردیا تھا۔

    علاوہ ازیں اسی سماعت کے دوران عدالت کو اس وقت کے اٹارنی جنرل انور منصور نے بتایا تھا کہ کرنل (ر) انعام الرحیم کے پاس جوہری ہتھیاروں، انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور کچھ لوگوں کے حوالے سے معلومات تھیں۔

    اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا تھا کہ آپ کا کہنے کا مطلب ہے کہ ان کے پاس معلومات ہیں جو انہوں نے دشمن سے شئیر کیں؟، آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ کرنل انعام الرحیم ایک جاسوس ہیں؟ اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جی کرنل(ر) انعام الرحیم ایک جاسوس ہیں، ان کے خلاف ابھی تحقیقات چل رہی ہیں۔

    جس کے بعد 22 جنوری کو سپریم کورٹ میں وزارت دفاع نے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے حراست میں لیے گئے سابق کرنل ایڈووکیٹ انعام الرحیم کو مشروط طور پر رہا کرنے کی یقین دہانی کروادی تھی۔

    علاوہ ازیں 24 جنوری کو سابق کرنل ایڈووکیٹ انعام الرحیم راولپنڈی میں اپنے گھر پہنچ گئے تھے۔
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 4, 2020

اس صفحے کی تشہیر