کرنا معاف میرے سارے گناہ یا رب---برائے اصلاح

الف عین
@سیّد عاطف علی
خلیل الرحمن
-----------
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن
----------
کرنا معاف میرے سارے گناہ یا رب
میں مانگتا ہوں تجھ سے تیری پناہ یا رب
-----------
آئے نظر نہ مجھ کو کچھ روشنی کہیں پر
ہے زندگی یہ میری اتنی سیاہ یا رب
------------
لا تقنتو کا واحد مجھ کو ہے اک سہارا
اپنے گناہ گن کر نکلی کراہ یا رب
------------
تیرے سوا کسی کو ملتی نہیں کہیں سے
مانگی ہے میں نے تجھ سے اپنی فلاح یا رب (یہ قافیہ صوتی لحاظ سے ہے ،ٹھیک نہ ہو تو (رفاہ )
---------
کوئی نہیں جہاں میں پکڑے جو ہاتھ میرا
-------یا
تیرا ہے بس سہارا تیرا ہی آسرا ہے
میری ہے بس ضرورت تیری نگاہ یا رب
--------------
تیرے ہی سامنے بس جھکتا ہے سر یہ میرا
تیرے سوا نہیں ہے کوئی اِلٰہ یا رب
-------------------
تجھ سے چھپا نہیں ہے مانگا نہیں کسی سے
اس کی نہیں ضرورت لاؤں گواہ یا رب
-------------
ارشد یہ کر رہا ہے تجھ سے دعا خدایا
شیطان سے بچا کر دے دے پناہ یا رب
--------------
شیطان کے وساوس کرتے ہیں تنگ ارشد
اپنے خدا سے مانگو ، دے دے پناہ یا رب
-------------
 

الف عین

لائبریرین
اگرچہ کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن یہ غزل بیانیہ کے اعتبار سے اچھی ہے بلکہ شاید سب سے اچھی ثابت ہو، مبارک
کرنا معاف میرے سارے گناہ یا رب
میں مانگتا ہوں تجھ سے تیری پناہ یا رب
----------- خوب

آئے نظر نہ مجھ کو کچھ روشنی کہیں پر
ہے زندگی یہ میری اتنی سیاہ یا رب
------------پہلے مصرع میں 'کہیں بھی' بہتر یے 'کہیں پر' کی بہ نسبت
دوسرے مصرعے میں ہے کی جگہ ہوئی بہتر ہے اور زندگی سیاہ محاورہ نہیں، قسمت کہہ سکتے ہیں
قسمت مری ہوئی ہے اتنی/کتنی...

لا تقنتو کا واحد مجھ کو ہے اک سہارا
اپنے گناہ گن کر نکلی کراہ یا رب
------------ تقنطو! درست ہے شعر

تیرے سوا کسی کو ملتی نہیں کہیں سے
مانگی ہے میں نے تجھ سے اپنی فلاح یا رب (یہ قافیہ صوتی لحاظ سے ہے ،ٹھیک نہ ہو تو (رفاہ )
--------- فلاح ہی بہتر ہے لیکن پہلا مصرع بے معنی ہے۔، کیا نہیں ملتی، اس کا ذکر نہیں۔ اگر فلاح کی طرف اشارہ ہے تو 'جو' سے ربط پیدا کرنا تھا۔' تیرے سوا نہیں ملتی' عجیب بیانیہ ہو گیا۔ تیرے کرم سے ہی مل سکتی ہے اور کہیں سے نہیں، اس مضمون کو مصرع بنائیے

کوئی نہیں جہاں میں پکڑے جو ہاتھ میرا
-------یا
تیرا ہے بس سہارا تیرا ہی آسرا ہے
میری ہے بس ضرورت تیری نگاہ یا رب
-------------- دوسرا متبادل بہتر ہے
صرف نگاہ تو غیض و غضب کی بھی ہو سکتی ہے
تیرے کرم کی چاہوں بس اک نگاہ یا رب
بھی اچھا بیانیہ تو نہیں، مگر ان خطوط پر سوچو

تیرے ہی سامنے بس جھکتا ہے سر یہ میرا
تیرے سوا نہیں ہے کوئی اِلٰہ یا رب
------------------- درست

تجھ سے چھپا نہیں ہے مانگا نہیں کسی سے
اس کی نہیں ضرورت لاؤں گواہ یا رب
------------- پہلے مصرع میں 'میں' کی کمی لگتی ہے
یوں کہیں تو
تو جانتا ہے میں نے مانگا نہیں کسی سے
تجھ کو بھی چاہیے کیا کوئی گواہ...

ارشد یہ کر رہا ہے تجھ سے دعا خدایا
شیطان سے بچا کر دے دے پناہ یا رب
--------------
شیطان کے وساوس کرتے ہیں تنگ ارشد
اپنے خدا سے مانگو ، دے دے پناہ یا رب
--------- یہ مقطع بہتر ہے
 
الف عین
( اصلاح کے بعد دوبارا )
-----------
کرنا معاف میرے سارے گناہ یا رب
میں مانگتا ہوں تجھ سے تیری پناہ یا رب
-----------
آئے نظر نہ مجھ کو کچھ روشنی کہیں بھی
قسمت مری ہوئی ہے اتنی سیاہ یا رب
-----------
لا تقنطو کا واحد مجھ کو ہے اک سہارا
اپنے گناہ گن کر نکلی کراہ یا رب
------------
تیرا کرم نہ ہو تو ملتی نہیں ہدایت
مانگی ہے میں نے تجھ سے اپنی فلاح یا رب
---------
تیرا ہے بس سہارا تیرا ہی آسرا ہے
تیرے کرم کی چاہوں بس اک نگاہ یا رب
---------
تیرے ہی سامنے بس جھکتا ہے سر یہ میرا
تیرے سوا نہیں ہے کوئی اِلٰہ یا رب
-------------------
تو جانتا ہے میں نے مانگا نہیں کسی سے
تجھ کو بھی چاہیے کیا کوئی گوا یا رب
----------------
شیطان کے وساوس کرتے ہیں تنگ ارشد
اپنے خدا سے مانگو ، دے دے پناہ یا رب
---------
 
Top