کرتا رہا انکار میں برداشت مسلسل

مقبول

محفلین
سُنتا رہا انکار میں دن رات مسلسل
ہوتی رہی میری انا کو مات مسلسل
اب مسلسل کا استعمال درست ہے، لیکن دوسرے مصرعے میں آنا کے الف کا اسقاط گوارا نہیں
کھاتی رہی پھر میری انا مات....
کیا جا سکتا ہے حالانکہ 'پھر' بھی بھرتی کا لگتا ہے

جتنی بھی ملاقات کی مانگی ہیں دُعائیں
ہوتی رہیں رد سب ہی مناجات مسلسل
.. درست تلفظ میں رد کی دال مشدد ہے، لیکن بول چال کے محاورے میں شاید چل بھی جائے

سر ، اس طرح شاید اشعا درست ہو جاتے ہیں

سُنتا رہا انکار میں دن رات مسلسل
کھاتی رہی یوں میری انا مات مسلسل

جتنی بھی ملاقات کی تھی مانگی دُعائیں
ہوتی رہیں سب ردّ مناجات مسلسل
 

مقبول

محفلین
سُنتا رہا انکار میں دن رات مسلسل
ہوتی رہی میری انا کو مات مسلسل
اب مسلسل کا استعمال درست ہے، لیکن دوسرے مصرعے میں آنا کے الف کا اسقاط گوارا نہیں
کھاتی رہی پھر میری انا مات....
کیا جا سکتا ہے حالانکہ 'پھر' بھی بھرتی کا لگتا ہے

جتنی بھی ملاقات کی مانگی ہیں دُعائیں
ہوتی رہیں رد سب ہی مناجات مسلسل
.. درست تلفظ میں رد کی دال مشدد ہے، لیکن بول چال کے محاورے میں شاید چل بھی جائے

سر، یہ اشعار کُچھ ایسے شاید درست لگتے ہیں

سُنتا رہا انکار میں دن رات مسلسل
کھاتی رہی یوں میری انا مات مسلسل


جتنی بھی مُلاقات کی تھی مانگی دُعائیں
ہوتی رہیں سب ردّ مناجات مسلسل
 

مقبول

محفلین
محترم
الف عین
صاحب

دو اشعار کی درستگی کے بعد مکمل غزل آپ کی خدمت میں منظوری کے لیے پیش کر رہا ہوں ۔

سُنتا رہا انکار میں دن رات مسلسل
کھاتی رہی یوں میری انا مات مسلسل

میرے عدو کو لکھتا ہے رُقعات مسلسل
کرتا ہے وُہ مجروح یوں جذبات مسلسل

جتنی بھی مُلاقات کی تھی مانگی دُعائیں
ہوتی رہیں سب ردّ مناجات مسلسل

پڑتے ہیں صنم توڑنے ہر ایک قدم پر
ملتے ہیں مُجھے راہ میں بُت لات مسلسل

رہتا ہے مری آنکھ میں بس ایک ہی موسم
ہوتی ہے مری آنکھ سے برسات مسلسل

میں میں ہوں کہ تُو ہے ارے تُو تُو ہے کہ میں ہوں
اُٹھتے ہیں مرے ذہن میں خدشات مسلسل

کُچھ اور تُمہیں جاننے کا شوق ہے میرا
کُچھ لوگ بھی کرتے ہیں سوالات مسلسل

دے میرے غریبوں کو بھی پکی چھتیں یا ربّ
ہوتی ہے مرے گاؤں میں برسات مسلسل

تُم پوچھ رہے ہو کہ وُہ لگتا ہے مِرا کیا
تُم لوگ بھی کرتے ہو کمالات مسلسل

بن جائے گا افسانہ بھرے شہر میں مقبول
رویا نہ کرو ہر گھڑی بے بات مسلسل
 

مقبول

محفلین
محترم
الف عین
صاحب

دو اشعار کی درستگی کے بعد مکمل غزل آپ کی خدمت میں منظوری کے لیے پیش کر رہا ہوں ۔

سُنتا رہا انکار میں دن رات مسلسل
کھاتی رہی یوں میری انا مات مسلسل

میرے عدو کو لکھتا ہے رُقعات مسلسل
کرتا ہے وُہ مجروح یوں جذبات مسلسل

جتنی بھی مُلاقات کی تھی مانگی دُعائیں
ہوتی رہیں سب ردّ مناجات مسلسل

پڑتے ہیں صنم توڑنے ہر ایک قدم پر
ملتے ہیں مُجھے راہ میں بُت لات مسلسل

رہتا ہے مری آنکھ میں بس ایک ہی موسم
ہوتی ہے مری آنکھ سے برسات مسلسل

میں میں ہوں کہ تُو ہے ارے تُو تُو ہے کہ میں ہوں
اُٹھتے ہیں مرے ذہن میں خدشات مسلسل

کُچھ اور تُمہیں جاننے کا شوق ہے میرا
کُچھ لوگ بھی کرتے ہیں سوالات مسلسل

دے میرے غریبوں کو بھی پکی چھتیں یا ربّ
ہوتی ہے مرے گاؤں میں برسات مسلسل

تُم پوچھ رہے ہو کہ وُہ لگتا ہے مِرا کیا
تُم لوگ بھی کرتے ہو کمالات مسلسل

بن جائے گا افسانہ بھرے شہر میں مقبول
رویا نہ کرو ہر گھڑی بے بات مسلسل

الف عین

سر! آپ کی رائے کا منتظر ہوں

شُکریہ
 

الف عین

لائبریرین
اب یہ دوسرا صفحہ چل رہا ہے اس دھاگے کا، اس لئے پچھلا دیکھ نہیں پا رہا ہوں، بہر حال اب بھی اکثر مصرعوں میں حروف کا بے جا اسقاط محسوس ہوتا ہے، یا مسلسل ردیف کا کچھ غلط استعمال
میرے عدو کو لکھتا ہے رُقعات مسلسل
کرتا ہے وُہ مجروح یوں جذبات مسلسل
.. عدُکو تقطیع گوارا نہیں
مسلسل کا استعمال بھی کچھ بہت اچھا نہی

جتنی بھی مُلاقات کی تھی مانگی دُعائیں
ہوتی رہیں سب ردّ مناجات مسلسل
... تھیں مانگیں.. گرامر کے لحاظ سے درست ہوتا ہے، ہاں 'تھیں' پبعد میں ہو تو زیادہ بہتر اور رواں لگتا ہے، یعنی 'مانگی تھیں دعائیں'

پڑتے ہیں صنم توڑنے ہر ایک قدم پر
ملتے ہیں مُجھے راہ میں بُت لات مسلسل
.. خواہ مخواہ کا قافیہ ہے، شعر قلم زدنی ہے

رہتا ہے مری آنکھ میں بس ایک ہی موسم
ہوتی ہے مری آنکھ سے برسات مسلسل
.. درست

میں میں ہوں کہ تُو ہے ارے تُو تُو ہے کہ میں ہوں
اُٹھتے ہیں مرے ذہن میں خدشات مسلسل
... ارے کے بغیر کہو تو بہتر ہے پہلا مصرع

کُچھ اور تُمہیں جاننے کا شوق ہے میرا
کُچھ لوگ بھی کرتے ہیں سوالات مسلسل
... درست مگر مفہوم؟

دے میرے غریبوں کو بھی پکی چھتیں یا ربّ
ہوتی ہے مرے گاؤں میں برسات مسلسل
... چھتیں کی یں کا اسقاط برا لگ رہا ہے

تُم پوچھ رہے ہو کہ وُہ لگتا ہے مِرا کیا
تُم لوگ بھی کرتے ہو کمالات مسلسل
... اس میں کمالات کی کیا بات تھی؟

بن جائے گا افسانہ بھرے شہر میں مقبول
رویا نہ کرو ہر گھڑی بے بات مسلسل
.. ٹھیک
 

مقبول

محفلین
محترم
الف عین
صاحب

میرے عدو کو لکھتا ہے رُقعات مسلسل
کرتا ہے وُہ مجروح یوں جذبات مسلسل
.. عدُکو تقطیع گوارا نہیں
مسلسل کا استعمال بھی کچھ بہت اچھا نہی

اس شعر کو نکال دیتا ہوں

پڑتے ہیں صنم توڑنے ہر ایک قدم پر
ملتے ہیں مُجھے راہ میں بُت لات مسلسل
.. خواہ مخواہ کا قافیہ ہے، شعر قلم زدنی ہے

اس شعر کو بھی نکال دیتا ہوں

میں میں ہوں کہ تُو ہے ارے تُو تُو ہے کہ میں ہوں
اُٹھتے ہیں مرے ذہن میں خدشات مسلسل
... ارے کے بغیر کہو تو بہتر ہے پہلا مصرع

میں بھی ارے کے بغیر کہنا چاہتا ہوں۔ کیا
ارے کے بغیر وزن درست ہو گا؟

کُچھ اور تُمہیں جاننے کا شوق ہے میرا
کُچھ لوگ بھی کرتے ہیں سوالات مسلسل
... درست مگر مفہوم؟

میں خود اپنے لیے اور لوگوں کے اس سے متعلق سوالات کا جواب دینے کے لیے بھی اسے مزید جاننا چاہتا ہوں

تنی بھی مُلاقات کی تھی مانگی دُعائیں
ہوتی رہیں سب ردّ مناجات مسلسل
... تھیں مانگیں.. گرامر کے لحاظ سے درست ہوتا ہے، ہاں 'تھیں' پبعد میں ہو تو زیادہ بہتر اور رواں لگتا ہے، یعنی 'مانگی تھیں دعائیں

جی، درست کرتا ہوں

دے میرے غریبوں کو بھی پکی چھتیں یا ربّ
ہوتی ہے مرے گاؤں میں برسات مسلسل
... چھتیں کی یں کا اسقاط برا لگ رہا ہے

درست کرنے کی کوشش کرتا ہوں

تُم پوچھ رہے ہو کہ وُہ لگتا ہے مِرا کیا
تُم لوگ بھی کرتے ہو کمالات مسلسل
... اس میں کمالات کی کیا بات تھی؟

روز مرہ کی زبان میں “کمال کرتے ہو” محاورہ حیرت کے اظہار کے لئی عموماً استعمال ہوتا ہے جب کوئی ایسا سوال پوچھا یا بات کی جائے جس کی توقع نہ کی جا رہی ہو کہ سوال کرنے والے کو تو جواب معلوم ہونا چاہیئے یا کہ سوال کسی اور وجہ سے نہیں کرنا چاہیئے تھا

اس رعایت سے میں نے شعر میں شامل کیا ہے
 

مقبول

محفلین
وزن تو ظاہر ہے کہ درست نہیں ہو گا، مطلب یہ کہ الفاظ بدلو
جیسے
یہ میں ہوں کہ تو ہے بھلا، تو تو ہے کہ میں ہوں

محترم

الف عین

صاحب
سر، بہترین ہو گیا ہے ۔ بہت شُکریہ

شروع میں “یہ “ کی جگہ اگر “میں” ہی رکھا جائے تب بھی وزن پورا ہونا چاہیئے۔ کیا ایسا کرنا درست ہو گا؟
 
آخری تدوین:

مقبول

محفلین
کس طرح پورا ہو گا وزن، تقطیع کر کے بتاؤ

الف عین

سر!

اگر “ہوں” کا “و”اور “بھلا” کا الف گرانے کی اجازت کو تو

میں نے جب عروض ڈاٹ کام پر دیکھا تو “یہ” کی تقطیع دو حرفی لفظ کے طور پر = جبکہ”ہوں” کا و اور “بھلا” کا الف گرا کر - - ہو رہی ہے

بالکل یہی تقطیع یہ کی جگہ میں کے استعمال پر بھی دکھ رہی ہے


پھر میں نے یہی چیز عروض گاہ پر جانچی تو وہاں بھی عروض ڈاٹ کام والا ہی نتیجہ ملا

اگر “یہ” کی تقطیع یک حرفی لفظ کے طور پر کی جائے تو معاملہ نہیں بنتا کہ بحر کے مطابق تو ہر مصرعہ شاید ہجائے بلند سے شروع ہونا چاہیئے

لگتا ہے میرے لیے تو مسئلہ کچھ گھمبیر ہو گیا ہے

براہِ مہربانی روشنی ڈالیے
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
ہاں،
میں میں یوں.... سے تقطیع درست ہوتی ہے، مجھے یہ احساس ہوا کہ تم دوبار 'میں' نہیں، ایک ہی بار کرنا بہتر سمجھ رہے ہو
 

مقبول

محفلین
ہاں،
میں میں یوں.... سے تقطیع درست ہوتی ہے، مجھے یہ احساس ہوا کہ تم دوبار 'میں' نہیں، ایک ہی بار کرنا بہتر سمجھ رہے ہو

الف عین

سر، میں اس غزل کو بہتر کرنے کے لیے رہنمائی مہیا کرنے پر آپ کا تہہ دل سے ممنون ہوں اور اس محفل میں آپ جیسے اساتذہ کی موجودگی کو اپنے لیے نعمت سمجھتا ہوں

بہت شُکریہ
 
آخری تدوین:
Top