کراچی کا اگلا ناظم کون ہوگا؟

تاریخ: 16 نومبر 2015ء
کراچی کا اگلا ناظم کون ہوگا؟
تحریر: سید انور محمود
پانچ جولائی 1977ءکو جنرل ضیاء الحق نے پاکستان میں مارشل لا نافذ کرکے خود حکمرانی شروع کردی۔ تھوڑے ہی دن بعد جماعت اسلامی نے جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں شمولیت اختیار کرلی ، پروفیسر غفور احمد اور محمود اعظم فاروقی وزیر بن گے۔ جماعت اسلامی کو گویا منزل مل گی مگرجماعت اسلامی سیاسی طور پر کراچی کھو بیٹھی، جماعت اسلامی کراچی کے بدلتے ہوے سیاسی حالات کو نہ سمجھ پائی۔ کراچی میں ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے سے شروع ہونے والا تعصب آگے کی طرف اپنا سفرجاری رکھے ہوا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے کراچی میں پنجابی اسٹوڈینٹ ایسوسی ایشن، پختون اسٹوڈینٹ ایسوسی ایشن،جیے سندھ بھی کراچی یونیورسٹی میں دکھای دیں۔ 1978ء میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈینٹ آرگنا ئزیشن (موجودہ آل پاکستان متحدہ اسٹوڈینٹ آرگنا ئزیشن) کا بھی کراچی یونیورسٹی میں اعلان ہوگیا۔ کراچی میں اسلامی جمیت طلبہ میں اکثریت مہاجروں کی تھی، اے پی ایم ایس او بننے کے بعد اسلامی جمیت طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے اے پی ایم ایس او میں شمولیت اختیار کرلی۔ اب نعرے کچھ یوں تھے۔ جیے مہاجر، جیے پختون، جاگ پنجابی جاگ یعنی کراچی کو برباد کرنے کے لیے تعصب کی ہانڈی پوری طرح تیار۔کراچی میں لسانی تعصب سے پہلے ایک فرقہ وارانہ شیعہ سنی تعصب پہلے ہی موجود تھا اور ہر سال ان دونوں فرقوں کی لڑای سے کافی لوگوں کی جانیں جاتی تھیں ۔ پہلے ان دونوں فرقے کے لوگ پوری کراچی میں رہ رہے تھے مگر آہستہ آہستہ ان کے علاقے بھی علیدہ علیدہ ہو گے۔

اٹھارہ مارچ 1984ء کو آل پاکستان مہاجر اسٹوڈینٹ آرگنا ئزیشن (موجودہ آل پاکستان متحدہ اسٹوڈینٹ آرگنا ئزیشن) کے سربراہ الطاف حسین نے مہاجر قومی مومنٹ کے نام سے ایک سیاسی جماعت کا اعلان کیا اور یہ اعلان عین اس وقت ہوا جب جنرل ضیاء الحق کے اس فیصلے کو محض چھ دن ہی گزرے تھے، جس میں دیہاتی شہری کوٹہ سسٹم کو مزید 10 سال کے لیے بڑھا دیاگیا تھا۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بیان "ٹی وی بیچو، وی سی آر بیچو، اسلحہ خریدو"نے خاصی شہرت حاصل کی تھی۔ مہاجر قومی مومنٹ یا ایم کیو ایم کے اعلان کے دن کوکراچی میں کھلے تعصب کا دن بھی کہہ سکتے ہیں، 120 گز کے گھر میں رہنے والا مڈل کلاس کا نوجوان الطاف حسین بہت تیزی کے ساتھ شہرت پاگیا۔ اس سے پہلے اور بعد میں پاکستان کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال کہیں موجود نہیں کہ مڈل کلاس کی کوئی شخصیت اس قدر مقبول ہوئی ہو، مگر صد افسوس اس شہرت میں تعصب سو فیصد شامل تھا۔

جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے کبھی بھی کراچی کے معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور اُسکی بی ٹیم بننے والی جماعت اسلامی کو جسقدر سیاسی نقصان ایم کیو ایم کے بننے سے ہوا کہ آجتک وہ اپنی سیاسی ساکھ واپس نہ لاسکی۔ جنرل ضیاء کے دور حکومت میں جب پہلی بار 1979ء میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تو یہ تقریباَاکیس سال کے بعد ہو رہے تھے جب کے ایک نئی نسل جوان ہو چکی تھی۔سیاسی جماعتوں کو بلدیہ کا کوئی تجربہ نہ تھا ۔ جماعت اسلامی نے عبدالستار افغانی کو میئر کے لیے نامزد کیا جبکہ افغانی کے سامنے کوئی سیاسی شخصیت نہ تھی بلکہ ایک سرمایہ دار عبدالخالق اﷲ والا تھے جن کے نام سے بھی لوگ واقف نہ تھے، 1979ء کے اُس بلدیاتی انتخاب میں عبدالخالق اﷲ والا کے دو ووٹ ضائع ہوئے جبکہ عبدالستار افغانی کا ایک ووٹ ضائع ہوااس طرح عبدالستار افغانی ایک ووٹ سے یہ انتخاب جیت گئے اور پہلی مرتبہ 1979ء سے 1983ء تک کراچی کے میر رہے۔ اس پورئے عرصے میں جماعت اسلامی کے میر نے کراچی کےلیے کوئی کام نہیں۔

لیکن جب 1983ءمیں دوسرے انتخاب ہوئے تو اس میں مہم بڑی زبردست چلائی گئی ۔دوسرے انتخاب کی ایک خا ص بات یہ تھی کہ اس مرتبہ عبدالستار افغانی کے مقابلے میں صرف عبدالخالق اﷲ والا ہی نہیں تھے بلکہ حسین ہارون اور صدیق راٹھوربھی جماعت اسلامی کے امیدوارکے خلاف اُنکے ساتھ کھڑئے تھے۔ یہ صورتحال دیکھ کر جماعت نے اپنے کئی اہم لوگوں کو اس انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا تھا ان میں عبدالستار افغانی بھی شامل تھے ۔ پھر جب کونسلروں کے انتخابات ہو گئے اور اس میں جماعت اسلامی کے اخوت گروپ نے واضح کامیابی حاصل کرلی یا کروادی گئی تو عبدالستار افغانی کو دوبارہ میئر کے انتخاب کے لیے نامزد کردیا گیا جس میں وہ 19ووٹوں سے یہ انتخاب جیتے،اُن کے مقابلے پرحسین ہارون تھے۔ پھر1983ء سے 1987ء تک عبدالستار افغانی دوبارہ کراچی کے میئر رہے۔ عبدالستار افغانی 1979ء سے 1987ء تک آٹھ سال کراچی کے میر رہے،لیکن اُن کے دورمیں کسی بھی قسم کی کوئی ترقی تو نہ ہوپائی مگرکراچی میں لسانی ہنگاموں اور لاقانونیت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ ہم کہہ سکتے ہیں عبدالستار افغانی نے کراچی کےلیے بربادی کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

نو جنوری 1988ءکو پہلی مرتبہ ایم کیو ایم نے کراچی کی میر شپ حاصل کی، ڈاکٹر فاروق ستار میر کراچی مقرر ہوئے اور 27 جولائی 1992ء تک کراچی کے میر رہے لیکن اس چار سال میں وہ کراچی کی کوئی خدمت نہ کرسکے کیونکہ اُنکو اپنی پارٹی کی خدمت سے ہی فرصت نہ ملی۔ ڈاکٹر فاروق ستار کے زمانے میں سوائے کراچی کا تھوڑا بہت پانی بڑھنے کے کچھ نہیں ہوا اور کراچی کے حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ دوسری طرف لسانی ہنگاموں اور لاقانونیت کے ساتھ ساتھ 1990ء سے کراچی میں بوری بند لاشیں ملنے لگیں، ڈاکے عام ہونے لگے، اسکے علاوہ شکاگو طرز پر یہاں بھتہ مافیا نے بھی کام شروع کردیا، شروع شروع میں تاجروں کی گاڑیوں میں پرچیاں ڈال دی جاتی کہ اتنے پیسے دو ورنہ ماردیے جاوگے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار کو بھی عبدالستار افغانی کی طرح کراچی کا ناکام میر کہا جاتا ہے۔

جنرل پرویز مشرف نے 2000ء میں بلدیاتی نظام کے تحت انتخابات کرائے، ان انتخابات کا متحدہ قومی موومنٹ نے بائیکاٹ کیا جس کی وجہ سے جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان شہر کے پہلے ناظم منتخب ہوئے۔ یہ حقیت ہے کہ بزرگ نعمت اللہ خان نے کراچی کے لیے بہت کام کیا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ کراچی کی ترقی کے لیے پہلی مرتبہ اگر کسی نے کچھ کیا تو وہ نعمت اللہ خان تھے۔ انہوں نے کافی پل بنوائے، سڑکوں کی حالت درست کروائی مگر نعمت اللہ خان سب سے زیادہ پارکوں کی تعیر کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ایک وقت ایسا بھی تھا کہ بہت سے لوگوں کو یہ نہیں پتہ تھا کہ نعمت اللہ خان کس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں لیکن بچوں سے لیکر بوڑھوں تک سب کو یہ پتہ تھا کہ کراچی کے ناظم نعمت اللہ خان صاحب ہیں، اُنکے زمانے میں کام بھی چل رہے تھے اور کراچی میں ہونے والی قتل و غارت گری، لوٹ مار، اسٹریٹ جرائم میں روز بروز اضافہ ہورہا تھا۔

ایم کیو ایم کے سیدمصطفی کمال 2005ء سے 2009ء تک کراچی کے دوسرئے ناظم بنے، انہوں نہ صرف نعمت اللہ خان کے بچے ہوے کاموں کومکمل کیا بلکہ نوجوان سیدمصطفی کمال نے وہ کمال کر دیکھایا جس کا کراچی میں رہنےوالا کوئی باشندہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔سیدمصطفی کمال نے جب کراچی میں کام شروع کیا تو تھوڑے عرصے بعد کراچی والے اُنکو مصطفی کھدائی کہنے لگے تھے، اس لیے کہ کراچی میں ہر طرف کھدائی ہورہی تھی، لیکن یہ عرصہ بہت تھوڑا تھا۔ سگنل فری کاریڈور، پورئے کراچی کی سڑکوں کی ازسرنوں تعمیر، غرضیکہ اُن کا دور کراچی کی ترقی میں ایک سنہری دور کے نام سے یاد رکھا جائے گا۔ کراچی میں چاہے آگ لگی ہو، یا کوئی آفت آئی ہو، اور چاہے رات کے تین بجے ہوں سیدمصطفی کمال وہاں موجود ہوتے تھے۔ نوجوان ناظم نے بڑی مستعدی سے اپنی ٹیم کا انتخاب کیا، عمل کی تڑپ دیکھی اور فیلڈ میں اتار دیا۔ جس ملک میں لوگ کسی کام کے ہونے کا خواب دیکھتے ہوں، وہاں لوگوں نے ایک معجزہ دیکھا، کراچی صرف چند سال میں کیا سے کیا ہوگیا تھا۔ اس بات کو تقویت جب اور ملی جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کام کیسے ہوتا ہے کےلیےاس کی مثال کے طور پر کراچی کے کام کا حوالہ دیا تھا۔ افسوس ایک سال قبل سیدمصطفی کمال اور ایم کیو ایم کی قیادت کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے جس کے نتیجے میں سید مصطفی کمال ایم کیو ایم سے علیدہ ہوکر دبئی شفٹ ہو گئے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں آجتک جتنے بھی بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں وہ فوجی حکومت کے دور میں ہی ہوئے ہیں۔ سیاستدان ہمیشہ بلدیاتی انتخابات سے بھاگتے ہیں جسکا واضع ثبوت یہ ہے کہ 2015ء میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات جو پہلی مرتبہ ایک جمہوری حکومت کے دور میں ہورہے ہیں وہ بھی یہ جمہوری حکومت اپنی آدھی مدت گذارنے کے بعد اور سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بحالت مجبوری کروارہی ہے۔ جبکہ فوجی حکومت اپنے لیے بلدیاتی انتخابات کو آب حیات سمجھتی ہیں۔ پانچ دسمبر 2015ء کو کراچی میں تیسرئے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات ہونگے، کراچی کےآئندہ ناظم کےلیے ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان، تحریک انصاف کےعلی زیدی اورپیپلز پارٹی کے کراچی ڈویژن کے صدر نجمی عالم کو ناظم کراچی کے امیدوار کے طور نامزد کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی انتخابات میں تو بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے تاہم اس کی جانب سے ناظم کے لئے کوئی نام سامنے نہیں آسکا ہے۔ کراچی کا اگلا ناظم کون ہوگا؟ عام طور پر کراچی کے لوگوں کی خواہش ہے کہ کراچی کا اگلا ناظم کوئی ایسا شخص ہو جو پارٹی سیاست اور تعصب سے بالاتر ہوکر نعمت اللہ خان یا سیدمصطفی کمال کی طرح کراچی کی خدمت کا جذبہ رکھتا ہو۔
 

وشال احمد

محفلین
صاحب مضمون غالبا تعصب کی تعریف سے واقف نہیں ورنہ وہ ہرگز یہ نہ لکھتے کہ فاروق ستار کیشہرت میں تعصب سو فیصد شامل تھا۔ جناب محترم پہلے ہی لکھ چکے ہیں کہ جامعہ میں پنجابی، پختون اور بلوچ وغیرہ کی تنظیمیں پہلے سے موجود تھیں اور اے پی ایم ایس او بعد میں وجود میں آئی۔ تو جناب اگر اپنے ہم زبان یا ہم خیال یا ہم رنگ لوگوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی جائے تو یہ تعصب نہیں ہوتا لیکن اگر دوسروں کے حقوق کو سلب کرکے اپنے آپ کو تمام حقوق کا حقدار سمجھا جائے تو یہ تعصب کہلاتا ہے۔ آپ نے اپنے مقالے میں یہ نہیں بتایا کہ ایم کیو ایم نے کن لوگوں کے حقوق سلب کئے اور کس طرح صرف اپنے آپکو تمام حقوق کا حقدار سمجھا؟
نہ جانے پ نے یہ سو فیصد کا حساب کس طرح لگا لیا ۔ بہرحال کراچی کے عوام ایسی ہی باتوں کی وجہ سے ایم کیو ایم کے اور الطاف حسین کے ساتھ ہیں۔ اگر مہاجروں کے ساتھ ایسا برتاؤ بند کردیا جائے اور انہیں بھی باقی پاکستانیوں کے جیسا ہی سمجھا جائے تو شائد ایم کیو ایم کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
#ChooseKiteChooseWell
 
Top