کتنے لاشے پڑے رہ گئے بے کفن......... غزل از مولانا عامر عثمانی

کاشف اختر نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 7, 2018

  1. کاشف اختر

    کاشف اختر لائبریرین

    مراسلے:
    718
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Goofy
    حسن کی بارگاہیں گلی درگلی لالہ وگل کے جلوے چمن درچمن
    جنتیں اس جہاں میں بہت ہیں مگر آپ کی انجمن آپ کی انجمن

    وقت کی گردشوں کابھروسہ ہی کیامطمئن ہو کے بیٹھیں نہ اہل چمن
    ہم نے دیکھے ہیں ایسے بھی کچھ حادثے کھوگئے رہ نما لٹ گئے راہ زن

    چندفرضی لکیروں کو سجدے نہ کرچند خاکی حدوں کاپجاری نہ بن
    آدمیت ہے اک موجۂ بے کراں ساری دنیا ہے انسانیت کا وطن

    کتنے شاہیں بسیرے کوترساکئے باغ پر چھاگئے کتنے زاغ وزغن
    کتنے اہل وفا دارپرچڑھ گئے کتنے اہل ہوس بن گئے نورتن

    صرف شہر سیاست کا ماتم نہیں ہرنگرہرڈگر ایک ساحال ہے
    کتنی قبروں پہ چڑھتی رہیں چادریں کتنے لاشے پڑے رہ گئے بے کفن

    دیجئے ترک تقوی کا طعنہ مگر شیخ کا حسن تاویل تو دیکھئے
    جب قدم زہد کے لڑکھڑانے لگے رکھ دیا حسن کا نام تو بہ شکن

    بزم میں ایک جوئے رواں ہے جنوں عزم میں ایک برق تپاں ہے جنوں
    یہ تماشا ہے عامرؔ جنوں تونہیں مچ گئی ہاؤ ہو پھٹ گئے پیرہن


    مولانا عامر عثمانی
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر