عدم کتنی بے ساختہ خطا ہوں میں : عبدالحمید عدمؔ

mtahirz

محفلین
کتنی بے ساختہ خطا ہوں میں​
آپ کی رغبت و رضا ہوں میں​
میں نے جب ساز چھیڑنا چاہا​
خامشی چیخ اٹھی، صدا ہوں میں​
حشر کی صبح تک تو جاگوں گا​
رات کا آخری دِیا ہوں میں​
آپ نے مجھ کو خوب پہچانا​
واقعی سخت بے وفا ہوں میں​
میں نے سمجھا تھا میں محبت ہوں​
میں نے سمجھا تھا مدعا ہوں میں​
کاش مجھ کو کوئی بتائے عدمؔ​
کس پری وش کی بددعا ہوں میں​
عبدالحمید عدمؔ​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top