کتب خانے کتابوں کی بیرون وطن منتقلی ، ایک لمحہ فکریہ

سید زبیر

محفلین
جناب سید زبیر صاحب، افسوس تو مجھے بھی ہوا تھا یہ کالم پڑھ کر، لیکن نجیب صاحب (پردیسی) کی مندرجہ بالا پوسٹ نے کچھ حوصلہ بندھایا ہے۔ یہ پڑھ کر خوشی ہوئی کہ آپ نے بھی اس قابل ہستی کے ساتھ کچھ وقت گزارا ہے۔ کند ہم جنس باہم جنس پرواز!
پردیسی
قبلہ ذرہ نوازی ہے آپ کی ۔۔ ۔یہ یقیناۖ میری خوش قسمتی ہے کہ یونیورسٹی میں محترم ہستیوں سے سیکھنے کا موقعہ ملا ۔
 

سید زبیر

محفلین
سید زبیر کہتے ہیں:


میں نے جو زخم تازہ ہونے کی بات کی تھی، یہ ہے وہ بات!
اور اس سے بہت قریبی تعلق ہے اس بات کا جو علامہ صاحب نے جوابِ شکوہ میں کی ہے۔
ع: راہ دکھلائیں کسے رہروِ منزل ہی نہیں

بہت ممنون ہوں، آپ کا جناب سید زبیر صاحب۔
بہت خوب ۔شکرگذار ہوں ۔۔۔ علامہٌ کی انشا اللہ یہ دعا بھی پوری ہوگی
پھر بھٹکے ہوئے آہو کو سوئے حرم لے چل ۔
اور رہروان شوق کا قافلہ رواں ہوگا
لا تقنطو من رحمت اللہ
 

تلمیذ

لائبریرین
مجھے راشد اشرف صاحب کا ایک مرتبہ پھر شکریہ ادا کرنا ہے جنہوں نے ڈاکٹر معین الدین عقیل کا اپنے کتب خانے کے بارے میں ایک مفصل مضمون از راہ کرم یہاں پر پوسٹ کیا اور جس کو پڑھ کر ہمیں وطن عزیز میں سرکاری اور ذاتی کتب خانوں کی حالت زار کے بارے میں صحیح صورت حال جاننے کا موقع ملا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس طرح کے بے شمار کتب خانوں کا مستقبل اس وقت تک حقیقتاً غیر یقینی اور مخدوش ہے جب تک کہ اس ضمن میں کسی مرکزی (سرکاری یا نجی) سطح پر کوئی ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات عمل میں نہ آئیں۔ کیونکہ ڈاکٹر صاحب کی طرح تمام کتب خانوں کے مالکوں کا اس راہ پر چلنا دشوار ہے۔
اس مضمون کے پڑھنے کے بعد نجیب (پردیسی) صاحب کی مندرجہ بالا پوسٹ کی نفی بھی ہوتی ہے جس میں درج ہے کہ کتابوں کی فی الواقع منتقلی نہیں ہوئی۔
میں سوچتا ہوں کہ جہاں ڈاکٹر صاحب اتنے بڑے کتب خانے کے بارے میں پریشان تھے وہاں کتابوں کے ان مجموعوں کی کیا وقعت ہے اور ان کا کیا مستقبل ہے جن کی تعداد فقط چند سو تک محدود ہے۔ اور جو شائقین نے (بعض صورتوں میں) اپنے پیٹ کاٹ کر اپنے ذوق کی تسکین کی خاطر جمع کر رکھے ہیں۔ اب ہر خاندان میں ورثاء علمی و ادبی ذوق کے حامل تو نہیں ہوتے، ایسی صورتوں میں ان کتابوں کے مالکوں کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد ان کا انجام کباڑیوں کی دکانوں پر جانا ہی رہ جاتا ہے جن کے بارے راشد اشرف صاحب اپنے کالم 'اتوار بازار' میں لکھتے رہتے ہیں۔ اور یہ ہمارے ملک کے علمی و ادبی ورثے کا ایک المیہ ہے۔
رہے نام اللہ کا!!
ڈاکٹر صاحب کی حیات و خدمات کے بارے میں وکی پیڈیا کا ربط:
http://en.wikipedia.org/wiki/Moinuddin_Aqeel
محمد وارث پردیسی محمد یعقوب آسی سید زبیر عاطف بٹ قیصرانی
 

نایاب

لائبریرین
کیسا عجب سلسلہ ہے آگہی کے سفر کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
علم کے متلاشی کتب سے شوق رکھتے آگہی پانے والے اپنا پیٹ کاٹ کتابیں خرید جمع کرتے ہیں ۔ اور ان کے اس جہان فانی سے سفر کر جانے کے بعد یہ کتب ردی والے کے ہاتھوں سے گزر کباڑیئے تک پہنچ فٹ پاتھوں پہ سج جاتی ہیں ۔ اور پھر کوئی علم کا متلاشی کتاب سے شوق رکھتے آگہی کا خواہش مند اپنا پیٹ کاٹ انہیں خرید گھر لے جاتا ہے ۔ آگہی کا سفر جاری رہتا ہے ۔ تا وقتیکہ کہ کتاب کے اوراق فنا نہ ہو جائیں ۔۔۔
 

سید زبیر

محفلین
محترم تلمیذ صاحب ! ڈاکٹر صاحب نے اپنے ابتدائی سال کراچی کی جھگیوں میں گزارے اور شوق علم سے اعلیٰ مقام تک پہنچے اردو کی دنیا میں شائد ہی کوئی ایسا مقام ہوگا جہاں ڈاکٹر صاحب کے قدر داں نہ ہوں ۔روزنامہ جسارت کے ادبی صفحے کے مدیر بھی رہے اور ایسی ادارت کی کہ جسارت سے نظریاتی اختلاف رکھنے والے دانشور بھی جسارت پڑھنے لگ گئے ۔مرحوم صلاح الدین ڈاکٹر صاحب کے بہت بڑے مداح تھے ۔اب اگر وہ پاکستان کے مقتدر حلقوں تک نہ پہنچ سکے تو یہ صرف ان کی اصول پسندی تھی ۔ میرٹ اور تدریس پر کسی قسم کا سمجھوتہ کر نے پر وہ کبھی تیار نہ ہوتے حکیم سعید کی طرح دوپہر کا کھانا نہیں کھاتے صبح آٹھ بجے سے شام چھے بجے تک یونیورسٹی میں مسلسل مصروف رہتے ۔ غرضیکہ بہت عظیم اور نفیس انسان ہیں اللہ انہیں سلامت رکھیں۔
اب علم یہاں سے جاپان چلا گیا تو کیا بعید ہے جہان نو میں جاپان میں اسلام بھی پھیلے اور یہ کتابیں کن کے کام آئیں گی اور وہ ان سے کتنا استفادہ کریں گے ۔ یہ میرے مولا کی مرضی ۔
 

سید زبیر

محفلین
کیسا عجب سلسلہ ہے آگہی کے سفر کا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ؟
علم کے متلاشی کتب سے شوق رکھتے آگہی پانے والے اپنا پیٹ کاٹ کتابیں خرید جمع کرتے ہیں ۔ اور ان کے اس جہان فانی سے سفر کر جانے کے بعد یہ کتب ردی والے کے ہاتھوں سے گزر کباڑیئے تک پہنچ فٹ پاتھوں پہ سج جاتی ہیں ۔ اور پھر کوئی علم کا متلاشی کتاب سے شوق رکھتے آگہی کا خواہش مند اپنا پیٹ کاٹ انہیں خرید گھر لے جاتا ہے ۔ آگہی کا سفر جاری رہتا ہے ۔ تا وقتیکہ کہ کتاب کے اوراق فنا نہ ہو جائیں ۔۔۔
نایاب ! بہت خوبصورت بات کہی ۔ کتابیں زندہ رہتی ہیں سینہ در سینہ منتقل ہوتی رہتی ہیں آگہی کا سفر جاری رہتا ہے ۔مگر جو امت ام الکتاب سے استفادہ نہیں کرسکی اس سے کیا توقع کریں ۔جہاں کتابیں فٹ پاتھوں اور ٹھیلوں سے خریدی جاتی ہوں اور جوتے ائر کنڈیشند دکانوں سے ۔اب طب ،تعمیرات ، ریاضی، انجئیرنگ کی معلومات رکھنے والے ماہریں تو بے شمار ہیں مگر زندگی گذارنے کا درس دینے والے عنقا ہیں ۔
 

نایاب

لائبریرین
نایاب ! بہت خوبصورت بات کہی ۔ کتابیں زندہ رہتی ہیں سینہ در سینہ منتقل ہوتی رہتی ہیں آگہی کا سفر جاری رہتا ہے ۔مگر جو امت ام الکتاب سے استفادہ نہیں کرسکی اس سے کیا توقع کریں ۔جہاں کتابیں فٹ پاتھوں اور ٹھیلوں سے خریدی جاتی ہوں اور جوتے ائر کنڈیشند دکانوں سے ۔اب طب ،تعمیرات ، ریاضی، انجئیرنگ کی معلومات رکھنے والے ماہریں تو بے شمار ہیں مگر زندگی گذارنے کا درس دینے والے عنقا ہیں ۔
میرے محترم بھائی ۔ یہ " امت " اپنے " الف "سے " انا " بناتے " م " سے " مناقشے " کھڑے کرتے اور " ت " سے " تفرقے " میں الجھتے
الف سے ابھرتی انسانیت ۔ م سے مہکتی مساوات و محبت و مودت ۔ ت سے تابندہ تعلیم و تربیت پر غور ہی نہ کر سکی ۔
ہم جو کہ " امت وسطی " قرار پائے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ذاتی خواہش میں کہیں اور کسی جانب چل نکلے ۔
ام الکتاب کا ہر لفظ اپنے اندر اک کتاب سموئے ہوئے ہے ۔ ایسی کتاب جو آگہی سے منور کر روشن چراغ بنا نور کو پھیلاتے تاریکیوں کو نابود کرتی ہے ۔
 
ما شاء اللہ ! بہت عمدہ گفتگو ہو رہی ہے۔

میرا مسئلہ یہ ہے صاحبو! کہ مجھے قاری گم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کتاب سے شغف نہیں رہا، مان لیتے ہیں کہ میڈیا میں نئی چیزیں آئی ہیں، وہاں بھی وہ چیز جسے ’’کتاب‘‘ کہا جاتا ہے، ’’پڑھے لکھے‘‘ لوگوں کی توجہ نہیں پا رہی۔

ہم پر سب سے پہلا حق اللہ تعالٰی کی کتاب کا ہے اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہم من حیث الامت اس کی زبان تک سے نابلد ہیں۔ ’’مولوی صاحب‘‘ کو بہت کافی سمجھ لیا گیا ہے۔ امتوں کی تعمیر یوں نہیں ہوا کرتی صاحبو! سید زبیر صاحب نے بہت عمدہ بات کی، کہ مایوس نہیں ہونا چاہئے، بے شک اللہ کریم کا فرمان ہے: ’’لا تقنطوا من رحمۃ اللہ‘‘ (سورۃ زمر، آیت: 53)۔ ہم خود کیا کر رہے ہیں؟ بقول علامہ صاحب:
’’عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ‘‘۔

سوچ سوچ کر دماغ ابلنے لگتا ہے۔ یہاں کتاب سے عمومی عدم دل چسپی کے علاوہ بھی بہت سے حوصلہ شکن رویے ہیں، ان پر توجہ دینے اور ان کی اصلاح کے لئے کوشاں لوگ یقیناً موجود ہیں لیکن کتنے؟ اور وہ کس حد تک مؤثر ہیں؟ میں کسی فرد کی نیت پر شبہ نہیں کر رہا، مجموعی نقشہ جو میں دیکھ رہا ہوں اس کے مطابق خاکم بدہن ہماری آنے والی نسلوں کا علمی سطح پر بانجھ ہونا بھی کچھ بعید نہیں۔ اللہ کریم ہم سب پر رحم کرے۔

تفکرات کی یلغار ایسی ہے کہ خیالات تو ترتیب دینا مشکل ہو رہا ہے۔ پھر کبھی مزید عرض کروں گا۔ ان شاء اللہ۔
 
علامہ صاحب (رحمہ اللہ) کی ایک نصیحت یاد آ گئی:
حدی را تیز تر می خوان چو محمل را گراں بینی​
نوا را تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کم یابی​

کہتے ہیں کہ ہلاکو خان نے بغداد پر قبضہ کیا تو سب سے پہلے بغداد کی لائبریری کو سپردِ آتش کیا۔ اس کو تو قدیم دور کہا جاتا ہے، آج کے دور میں ’’اتحادی‘‘ فوجیں بغداد پر قابض ہوئیں تو ایک بار پھر وہاں کی لائبریری کو جلایا گیا۔ کیا یہ محض اتفاق ہے؟ میں ایسا نہیں سمجھتا!۔ یہ ایک سوچ ہے جو ملتِ کفر میں مشترک ہے کہ ’’اولادِ ابراہیم‘‘ کو حقیقی علم سے محروم کر دو، اور ایسے نام نہاد ’’علوم‘‘ میں الجھا دو جن کا مقصد ہی الجھاوے پیدا کرنا ہے۔ ہم تو خیر اُن کا نشانہ ہیں ہی اور نشانہ بھی بہت معصوم سا جسے یہ بھی شعور نہ رہا کہ امتِ اسلام ایک ملت ہے اور امتِ کفر ایک ملت ہے اور اِن میں اشتراک نہیں ہو سکتا۔ اگر ہوتا ہے تو وہ فریب ہے، کوئی دوسرے کو فریب دے لے یا خود دوسرے کے فریب میں آ جائے۔ یہاں پھر علامہ صاحب:
باطل دوئی پسند ہے، حق لا شریک ہے​
شرکت میانہء حق و باطل نہ کر قبول​
 

نایاب

لائبریرین
بیان سے اختلاف اپنی جگہ مگر کسی حد تک حقیقت کھولتا اک کالم


کتاب جو ہے بھی اور نہیں بھی
خدا بخش ابڑو –.

جب زندگی سستی تھی، تب کتاب بھی سستی تھی اور مہنگی تھی تو صرف جان۔ اب جان سستی ہے اور کتاب مہنگی۔

پہلے کاغذ ہمارا اپنا تھا۔ چٹگانگ بھی اپنا تھا تو کرنافلی پیپر بھی اپنا۔ کتابیں لکھی بھی جاتیں، خریدی بھی جاتیں تو پڑھی بھی جاتیں۔ تب کتابیں بانٹنے کا رواج بھی نہیں پڑا تھا۔ اخبار کم، کتابیں زیادہ چھپتیں۔ گھر گھر کتاب پڑھی جاتی، خریدنے کی سکت نا بھی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی، گلی محلےمیں کتب خانے تھے۔ لوگ کرائے پر کتاب لے جاتے پھر دوسرے دن دوسری کتاب کے لیے آ کھڑے ہوتے۔

بچوں کا ادب، جاسوسی ادب، شاعری، ناول اور ڈائجسٹ بھی ادب کی چاشنی سے لبریز ہوتے۔ شام کو اگر کوئی لائبریری جا رہا ہوتا تو گھر سے چھوٹوں کی فرمائش الگ، بڑوں کی الگ، بہن کو کچھ چاہیئے تو امی کو کچھ۔ سب پڑھتے تھے اور لکھنے والے صرف لکھتے تھے۔ لکھنے کے بدلے میں عہدے، کرسی اور زندگی کی انگنت رعایتیں ان کی منزل و مقصود نہیں بنی تھیں۔

پھر ہوا یہ کہ اقلیت نےاکثریت کو الگ کرکے خود کو اکثریت میں تبدیل کردیا اور اکثریت کے جانے سے ہمارے ہاتھوں سے بہت کچھ چلا گیا۔ سب سے بڑی بات کرنافلی پیپر مل کے جانے سے جو سب سے بڑا وار ہوا وہ ہماری کتاب پر ہوا۔ ہمارے فنون، فلم، موسیقی، رقص اور ادب سب ادھورے رہ گئے۔ کتابیں سستی سے مہنگی جو ہوئیں تو پڑھنے لکھنےکے رواج میں بھی کمی ہوئی۔ ہماری واپسی کا سفر تب سے ہی شروع ہوا اور جو ابھی بھی جاری ہے.

ایک بڑے بھائی جس کو اس سے چھوٹے نے کبھی بڑا تسلیم کیا ہی نہیں تھا ۔ وہ خودہی بڑا بن بیٹھا اورپھر اپنے بڑے ہونے کے سارے فائدے لینے لگا کہ جو اصل میں بڑا تھا وہ تو اب رہا بھی نہیں تھا۔ چھوٹوں کو دبانا اور اپنے پاؤں تلے رکھنے کا گرتو اسے پہلے ہی خوب آتا تھا کہ اس کے پاؤں ہمیشہ سے فوجی بوٹوں میں ہی رہے اور مولوی تو اس کا ہمیشہ سے لنگوٹیا یار تھا، جس کے بغیر وہ ادھورا ہی دکھائی دیتا۔ بڑے بھائی کا بھرکس بھی دونوں نے مل کرہی نکالا۔

ستر کی دہائی سے واپسی کا سفر شروع ہوا اور اسی میں اس میں تیزی آئی۔ ملک کا کعبہ قبلہ درست ہوا۔ پڑھنے پڑھانے کے دن ختم ہوئے، نماز روزہ لازم ٹھہرا۔ بار اور کلبوں پر تو کب کے تالے پڑہی چکے تھے۔ کہ جہاں روز شام کو ادب، آرٹ، موسیقی، فلم اور تھیئٹر کے بڑے بڑے نام ایک دوسرے سے ملتے، نئے نئے آئیڈیاز پر بحث کرتے۔ کتابیں زیر بحث آتیں اور نئے آئیڈیاز جنم لیتے۔

آہستہ آہستہ کتب خانے، کافی ہاؤس کم ہونے شروع ہوئے۔ ایک طرف کڑھائی اور بالٹی گوشت کی دوکانوں میں اضافہ ہوا تو دوسری جانب مدرسوں کی بھرمار ہونے لگی۔ مذہبی کتابیں زیادہ چھپنے لگیں صرف اس لیے کہ جو سعودی عرب سے فنڈ وصول ہوتے وہ کتابیں چھاپنے کے نام پر، سو خانہ پری کی خاطر چھاپ کے بھیج دی جاتیں۔

پھر جو نئے وردی والے روشن خیالی کا بیج لگا کر نمودار ہوئے تو وہ بھی درپردہ مردِ مومن کے نقشِ قدم پر ہی چلتے رہے اور اندھیروں کی پرورش کرتے رہے۔ سونے پر سہاگہ نو گیارہ نے کیا۔ انکی بھی چاندی ہوگئی پھر یہ دونو ں کے نام کی رقم اینٹھنے لگے۔

ایک طرف پیسے کی ریل پیل ہوئی تودوسری طرف معاشرے میں طبقاتی تفریق بھی بڑھتی گئی۔ غریب، غریب تر ہوتا گیا اور امیر، امیر تر۔ درمیان والا نا ادھر کا رہا نا ادھر کا۔ اس کو تو جینے کے لالےپڑگئے۔ اب جو ترقی ہوئی ہے تو صرف کھانوں میں۔ طرح طرح کے کھانوں کے آؤٹلیٹ ہیں۔

امیر بھی کھانوں کے آؤٹلیٹ پر ملتے ہیں تو باقی جو درمیان میں رہ گیا ہے۔ وہ بھی ملتا ہے تو کھانے کی ٹیبل پر۔ گفتگو کا محور بھی یا تو کھانے ہوتے ہیں یا وہ جو ان کے درمیان اس وقت موجود نہیں ہوتے۔ یا پھر سیاست یا ملک کا رونا جو ہم کب سے رو رہے رہیں اور روتے ہی رہینگے۔

نئی سوچ نئے خیالات صرف چند سرپھروں تک محدود ہوتے جا رہے ہیں اور وہ بھی بے چارےخانوں میں بٹے ہوئے ہیں اور اپنے اپنے خانوں میں ہی ملتے ہیں۔ اس سے باہر وہ بھی دیکھنے کے لیے تیار نہیں۔

کتاب اب بھی چھپ رہی ہے۔ کتابوں کی دوکانیں بھی دھڑا دھڑ کھل رہی ہیں، لیکن بڑے بڑے شاپنگ سینٹرز میں۔ کہ جو تفریق معاشرے میں آئی ہے، اس میں ادب، آرٹ، تھیئٹر اور موسیقی تک رسائی صرف اس طبقے کی ہے جو اسے افورڈ کرسکتا ہے۔

کتابیں پڑھنے کی عادت انگریزی اسکولوں میں تو ڈالی جاتی ہے، البتہ سرکاری اسکولوں میں تو پاس ہو نا ہی کافی ہوتا ہے۔ تو پڑھنے لکھنے کا رجحان انگریزی اسکول سے پڑھے بچوں میں تو پھر بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن سرکاری اسکولوں سے پڑھے بچوں میں کم ہی ہوتا ہے۔ اوپر سے قائد کے فرمان کے مطابق کتاب کی جگہ کلاشنکوف نے لے لی ہے۔

انگریزی کتاب تو چھپ بھی رہی ہے اور بک بھی رہی ہے۔ سب سے بڑا ثبوت تو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس اور اس کی امینہ سید ہیں جنہوں نے کتاب کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ پھر دن بدن پھلتے پھولتے کتابوں کے آئوٹلیٹس ہیں جو ہر نئے شاپنگ سینٹر کے ساتھ وجود میں آجاتے ہیں۔

کتابیں پڑھنے والے بھی خرید رہے ہیں اور وہ بھی کہ جن کو اپنے ملنے ملانے والوں کو یہ باور بھی کرانا ہے کہ ہم بھی پڑھے لکھے ہیں۔ جیسے جو آرٹسٹ اِن ہے اسکی پینٹنگ ڈرائینگ روم میں ضروری ہے ایسے ہی وہ رائیٹر بھی جو اِن ہے اسکی کتاب تو شیلف پر ہونا بہت ضروری ہے۔

اردو کی کوئی ادبی کتاب ہزار کی تعداد میں بھی چھپ جائے تو غنیمت ہے۔ اور وہ بھی لاہور سے چھپی ہو یا کراچی سے، سب سے زیادہ اگر بکتی ہے تو سندھ میں کہ وہاں ابھی تک پڑھنےلکھنے کا رواج ہے۔

باقی ملک میں تو دینی کتابیں جس تعداد میں چھپ رہی ہیں اس کا ہم اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔ وہ سستی بھی ہیں اور انکے پڑھنے سے ثواب بھی ملتا ہے۔ اب تو ہر مسجد کے ساتھ ایک کتابوں کی دوکان بھی ہے۔ وہ تو چھوڑیں مسجد کے سائے میں نئے زمانے کی دیکھا دیکھی دینی کیسیٹوں کی دوکانیں بھی ہیں۔ لوگ خرید بھی رہے ہیں، سن کر جھوم بھی رہے ہیں اور اپنا ایمان بھی تازہ کر رہے ہیں۔

لیکن، آپ اگر سند ھ میں کسی مزار پر بھی چلے جائیں تو مزار کے اند ر بھی کتابوں کی دوکان ملے گی۔ جہاں سے آپ کنٹیمپوریری ادب خرید سکتے ہیں۔ اور خوشی اور فخر کی بات یہ ہے کہ کتاب کا خریدار بھی کتاب کا نام لے کر کتاب خرید رہا ہے۔

اردو تو چھوڑیں پاکستان میں کتنی زبانیں بولی اور لکھی جاتی ہیں سب کی کتابیں چھپ رہی ہیں اور بک بھی رہی ہیں۔ باقی زبانوں کو قومی زبان کوئی ماننے کے لیے تیار بھی نہیں اور اردو جس کو قومی زبان کا درجہ دیا ہوا ہے اس کے ادب کو اسکے خود کے بولنے والے بھی پڑھنے کے لیے تیار نہیں۔

آجکل آئیڈیاز ۲۰۱۲ کا شور ہے جو آئیڈیاز ۲۰۰۰ کے نام سے شروع ہوا اور اس کا نعرہ ہے’ ہتھیار امن کے لیے‘۔ کیا ہی اچھا ہوتا یہ آئیڈیاز ہتھیاروں کے لیے نہیں کتابوں کے لیے ہوتے اور اس کا نعرہ بھی ’کتاب امن کے لیے‘ ہوتا اور ہتھیاروں کی جگہ نئی نسل کو کتاب دیتے، تعلیم دیتے، صحت دیتے، روشن خیالی دیتے!

کتاب کو تو اٹھا کر طاق پر رکھ دیا ہے۔ کتاب ہے کہ حسرت سے ہمیں تکتی رہتی ہے، کہ اس کو اٹھا کر کھولنے کا بھی وقت نہیں۔ میسیجز پڑھنے سے اس نسل کو فرصت ملے گی تو کتاب بھی پڑھے گی۔ ویسے اگر پڑھنے والا ہے تو وہ ویب پر بھی پڑھ سکتا ہے کہ اب کتابیں بھی آن لائن ہیں۔ اور جنہیں پڑھنے کی عادت ہے وہ ویب پر بھی پڑھتے ہیں۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ کمپیوٹر کا زمانہ ہے، انٹرنیٹ اور فیس بک تو کتاب کو کھا گیا۔ لیکن کتاب پڑھنے والے کتاب پڑھ رہے ہیں چاہے وہ کاغذ پر نہیں اسکرین پر بھی ہے۔ اور جنہیں نہیں پڑھنا، وہ تو انٹرنیٹ ہو یا فیس بک یا ثواب کمانے میں لگے ہیں یا پھر چھپن چھپائی کھیلنے میں۔

پچھلے دنوں ایک کہاوت پڑھی کہ اس سے مت ڈرو جس نے بہت کتابیں پڑھی ہیں اور کتب خانہ بھی رکھتا ہے ۔ لیکن اس سے ضرور ڈرو جس نے صرف ایک کتاب پڑھی ہے اور اسے مقدس بھی سمجھتا ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
سوچتا ہوں جو لوگ مطالعہ نہیں کرتے اُن کے پاس سوچنے کے لئے کیا ہوتا ہے۔ اُن کے پاس کہنے کے لئے کیا ہوتا ہے۔ وہ زندگی کو کیسے دیکھتے ہیں۔

افسوس کہ ہمارے ہاں 99 فی صد لوگ ایسے ہی ہیں جو کتابیں پڑھنے کو وقت کا زیاں سمجھتے ہیں اور کتابیں پڑھنے والوں پر ہنستے ہیں۔

99 لوگ کسی ایک شخص پر ہنسیں تو بہت بُرا لگتا ہے۔ :(
 

سید زبیر

محفلین
ڈاکٹر معین الدین عقیل کی ای میل بنام راشد اشرف بوجوہ چند مصروفیات کے پڑھ نہ سکا تھا آج تفصیل سے پڑھی ۔بہت معلوماتی اور مدلل ہے کہ انہوں نے کیوں اپنا کتب خانہ جاپان کو دیا ۔محترم راشد اشرف صاحب اس معلومت کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں ۔یہ میل پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اگر نہ پڑھتا تو حسرت رہتی۔ جن احباب نے نہیں پڑھی اسی دھاگے کے مراسلہ نمبر 4 کو ضرور دیکھیں ۔ راشد اشرف جزاک اللہ
 

راشد اشرف

محفلین
ڈاکٹر معین الدین عقیل کی ای میل بنام راشد اشرف بوجوہ چند مصروفیات کے پڑھ نہ سکا تھا آج تفصیل سے پڑھی ۔بہت معلوماتی اور مدلل ہے کہ انہوں نے کیوں اپنا کتب خانہ جاپان کو دیا ۔محترم راشد اشرف صاحب اس معلومت کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں ۔یہ میل پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اگر نہ پڑھتا تو حسرت رہتی۔ جن احباب نے نہیں پڑھی اسی دھاگے کے مراسلہ نمبر 4 کو ضرور دیکھیں ۔ راشد اشرف جزاک اللہ

اسے بھی ملاحظہ کیجیے کہ ایک یہ طریقہ بھی ہے احباب کو کتابوں میں شریک کرنے کا :

http://www.urduweb.org/mehfil/threads/کتابوں-کا-اتوار-بازار-۔-تین-فروری-2013.59469/
 
Top